لوٹی ہوئی دولت واپس مل جائے تو قرضے اتر جائیں،میاں مقصود

لوٹی ہوئی دولت واپس مل جائے تو قرضے اتر جائیں،میاں مقصود

لاہور(نامہ نگار)امیر جماعت اسلامی پنجاب میاں مقصود احمدنے کہاہے کہ پاکستان کا اقتصادی تعاون اور ترقی کے عالمی فورم آرگنائزیشن فاراکنامک کوآپریشن اینڈڈویلپمنٹ کے ٹیکس کنونشن کارکن بننا خوش آئند امر ہے۔اس سے جہاں ایک طرف بیرون ملک آف شور کمپنیوں میں پاکستانیوں کی بے نام اور کالے دھن تک رسائی حاصل ہوگی وہاں دوسری طرف لوٹ مار کرنے والوں پر چیک اینڈ بیلنس میں بھی بہتری ہوگی۔ اس وقت پاکستان سے لوٹ کر باہرجانے والی رقم کاتخمینہ تقریباً چار سو ارب ڈالر سے متجاوز کرگیا ہے۔اگر یہ رقم واپس پاکستان کے بینکوں میں آجائے تو ملکی قرضے آسانی سے اداکیے جاسکتے ہیں ان خیالات کااظہار انہوں نے گزشتہ روزمنصورہ میں عوامی وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہاکہ صرف سوئس بینکوں میں پاکستانیوں کے200ارب ڈالر موجود ہیں۔اس دولت سے ملک کا30برس تک ٹیکس فری بجٹ بنایاجاسکتا ہے۔6کروڑ پاکستانیوں کو ملازمتیں فراہم کی جاسکتی ہیں۔500سے زائد منصوبوں کے لیے بالکل مفت بجلی فراہم کی جاسکتی ہے۔پاکستان کاہر شہری 60سال کے لیے ماہانہ20ہزار فی کس تنخواہ وصول کرسکتا ہے۔میاں مقصود احمد نے مزیدکہاکہ پاکستان کی اقتصادی پالیسیاں اصلاحات کی متقاضی ہیں۔دولت کی غیر منصفانہ تقسیم نے غریب عوام کے حصے میں آنے والی دووقت کی روٹی کو بھی چھین لیا ہے۔18کروڑ عوام کی زندگی عملاً اجیرن ہوچکی ہے۔آئے روزبے روزگاری اور فاقوں کے سبب خودکشی کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے۔انہوں نے کہاکہ پانامالیکس حکمران خاندان سمیت جن پاکستانیوں کے نام آئے ہیں سب کے خلاف بھی موثر کاروائی ہونی چاہئے۔حکومت کی جانب سے لیت ولعل سے کام لینا ناقابل فہم ہے۔چور چوروں کا احتساب نہیں کرسکتے ایماندار لوگوں کو آگے لایا جائے۔انہوں نے کہاکہ میڈیا رپورٹ کے مطابق آج بھی امریکی ریاستوں اور مغربی ملکوں کے مختلف بینکوں میں طاقت وراور بارسوخ سول وملٹری،بیوروکریٹس،سیاستدانوں کے اربوں ڈالر خفیہ کھاتوں میں پڑے ہیں جن تک نہ توکسی حکومتی ادارے کی رسائی حاصل ہے اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی سنجیدگی سے کام کرنے کاخواہش مندنظر آتا ہے

مزید : میٹروپولیٹن 1