مہمند ایجنسی کی مسجد میں دھماکہ !

مہمند ایجنسی کی مسجد میں دھماکہ !
 مہمند ایجنسی کی مسجد میں دھماکہ !

  

مسجد اللہ کا گھر ہوتا ہے۔ اللہ کے گھر میں عبادت کے لئے آنے والے اہلِ ایمان دراصل اللہ کے مہمان ہوتے ہیں۔ 6ستمبرکو نمازِ جمعہ کے دوران مہمند ایجنسی کی ایک مسجد میں خودکش حملہ آور نے دھماکہ کرکے28 اللہ کے مہمانوں کو شہید کر دیا۔ اس سے کہیں زیادہ لوگ شدید زخمی ہیں۔ اللہ کا گھر خون میں نہا گیا۔ ایک انسان بھی اپنے گھر آئے مہمانوں کی عزت واحترام کرتا ہے۔ اللہ کے مہمانوں کو یوں ظالمانہ انداز میں موت کے گھاٹ اتارنے والے اللہ کی پکڑ سے کیسے بچ سکیں گے۔ خود کش حملہ آور تو خود نیست و نابود ہوگیا، اس کی پلاننگ کرنے والے اللہ کے ہاں اپنا جواب سوچ لیں۔ شہدأسے قیامت میں ان کے پیاروں کی ملاقات ہوگی۔

جاتے ہوئے کہتے ہو ’قیامت کو ملیں گے‘

کیا خوب! قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور

جمعے کے دن اہلِ ایمان آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق غسل کرتے ہیں، صاف کپڑے پہنتے ہیں اور خوشبو لگا کر پورے شوق اور عقیدت کے ساتھ اللہ کے گھروں کی طرف پیش قدمی کرتے ہیں۔ ہر شخص جو مسجد میں آتا ہے، اللہ کی رضا اور خوشنودی کے لئے سب مصروفیات اور دلچسپیاں ترک کرکے اللہ کا مہمان بن کر اس کے گھر میں قدم رکھتا ہے۔ اللہ کو اپنے یہ مہمان اتنے عزیز ہیں کہ جمعے کے روز ان کے لئے اس نے ایک گھڑی مخصوص کر رکھی ہے، جس میں وہ جو بھی دعا کریں، مقبول ہوتی ہے۔ ان اللہ والوں کے درمیان سفید ریش بزرگ بھی تھے، ماں باپ کی تمناؤں کا مرکز جوانانِ رعنا بھی اور جنت کے پھول معصوم بچے بھی قیامت کے اس لمحے اللہ کے گھر میں اس کے مہمان تھے۔ ظالموں نے ان عبادت کرنے والے بندگانِ خدا پر بلااشتعال ، بلاسبب، بزدلانہ اور دہشت گردانہ حملہ کرکے اللہ کی غیرت کو للکارا ہے۔ یہ تصور کریں کہ روزِ حشر جب یہ معصوم خون اللہ کے دربار میں فریاد کناں ہوگا تو ان ظالموں کو کہاں پناہ ملے گی؟ کسی ایک فرد کا قتلِ ناحق پوری انسانیت کا قتل ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق شہید ہونے والے ان نمازیوں میں تین حقیقی بھائی اور تین انتہائی معصوم جنت کے پھول بھی شامل ہیں۔

پاکستان اور اسلام کے دشمن پاکستان کو ہر جانب سے گھیرے میں لئے ہوئے ہیں۔ ان سب کی شیطانی سوچ یہ ہے کہ اسلام کے نام پر وجود میں آنے والے اس عظیم ملک کو افراتفری کا شکار بنا کر اس کی ٹوٹ پھوٹ کا راستہ ہموار کیا جائے۔ ان حالات میں پوری قوم کی ذمہ داری ہے کہ وہ سب کے سب اپنی سلامتی اور بقا، آنے والی نسلوں کی حفاظت اور دیرپا امن و امان کے لئے جملہ اختلافات بھلا کر ایک سوچ اپنالیں۔ قبائلی اور لسانی عصبیتیں ختم کرنا ہوں گی۔ مذہبی منافرت اور فرقہ پرستی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہوگا۔ ریاستی اداروں میں ہونے والے مظالم، بدعنوانی، لوٹ مار اور اقربا پروری کو زمین میں گہرا دفن کرنا ہوگا، تب جا کر ہم دشمن کو منہ توڑ جواب دے سکیں گے۔ بھارت کی سرزمین پر افغانستان کے صدر اشرف غنی اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے پاکستان کے خلاف جو زبان استعمال کی ہے، وہ ہمارے حکمرانوں اور تمام سیاسی جماعتوں کے لئے لمحۂ فکریہ ہے۔ افغانستان پر پاکستان نے ہمیشہ احسان کیا ہے۔ اسے اپنا برادر ہمسایہ مسلم ملک قرار دے کر اس کے دکھ سکھ میں شرکت کی ہے۔ لیکن کتنے افسوس کی بات ہے کہ حکمرانوں کی بے حسی کے سبب افغانستان کا حکمران بھارتی بنئیے کی بولی بول رہا ہے۔ افغانستان بھارت کی کالونی بنتا جارہا ہے۔

کشمیر پر ہندو قابض فوجیں مسلمانوں کو ان کے گھروں میں ، مساجد میں اور برسرعام گولیوں کا نشانہ بناتی ہیں۔ بھارتی بنیا ہمارا کھلا دشمن ہے۔ کفر اور بت پرستی کا یہ علمبردار اوراسلام کا دائمی دشمن جب ظلم کا بازار گرم کرتا ہے تو دکھ ہوتا ہے، مگر اس سے بڑا دکھ یہ ہے کہ پاکستان کے اندر اہلِ ایمان کا خونِ ناحق گرانے کے لئے جتھے منظم کیے گئے ہیں۔ دشمن کے ایجنٹ وطن کے چپے چپے پر موجود ہیں اور ہماری باخبر اور زیرک ایجنسیاں ملک کے ہر گلی کوچے تک رسائی رکھتی ہیں۔ پھر کیوں اس طرح کے واقعات آئے دن رونما ہوتے ہیں، جس طرح کا سانحہ مہمند ایجنسی کی مسجد میں عین نمازِ جمعہ کے دوران پیش آیا؟ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ اگر وہ خدا کو مانتے ہوں تو بخدا ایسی حرکت کرنے کا تصور بھی نہ کرسکیں۔ ملک کے اندر امن و امان قائم کرنے کے لئے ایجنسیوں اور اداروں کو پرامن شہریوں پر ہاتھ اٹھانے کی بجائے ان عناصر کا قلع قمع کرنا چاہیے، جنھوں نے ملک کی رِٹ کو چیلنج کر رکھا ہے۔ جب بے گناہ لوگ گھروں سے اٹھا کر غائب کر دیئے جائیں تو پھر اس طرح کے واقعات پر وہ ردِ عمل سامنے نہیں آتا ، جس کا یہ بھیانک واقعات تقاضا کرتے ہیں۔

متاثرین کے خاندانوں اور شہدا کے ورثا کے ساتھ اظہارِ ہمدردی تو عام آدمی بھی کرسکتا ہے۔ حکومت کی ذمہ داری تو اس سے زائد ہوتی ہے۔ متاثرہ خاندانوں کو چیک دینا بظاہر ایک اچھی روایت ہے، مگر یہ اشک شوئی ہے۔ مسئلے کا اصل حل یہ ہے کہ ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ ملک کے اندر لاقانونیت کا خاتمہ کرنے کے لئے قانون کو شفاف انداز میں نافذ کرنا ہوگا۔ قانون جس طرح ایک عام شہری کو حدود کا پابند بناتا ہے، اسی طرح بااختیار طبقات، حکمران ٹولے اور تمام مقتدر قوتوں کو بھی قانون کی بالادستی قبول کرکے اس کا احترام کرنا ہوگا۔ جن لوگوں نے ملک میں افراتفری پھیلانے اور دہشت گردی کرنے کا بیڑا اٹھا رکھا ہے، ان کے ساتھ کسی قسم کی رو رعایت برتنا دراصل خودکشی اور انسانیت دشمنی کے مترادف ہے۔اب تو یہی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان بے گناہ شہدا کے پاکیزہ خون کے بدلے اس ملک کو امن و امان عطافرما دے۔

ہم شہدا کے درجات کی بلندی اور جملہ پسماندگان کے لئے صبر جمیل اور اجر جزیل کی دعا کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے زخمی دلوں پر اپنی رحمت کا مرہم رکھ دے کہ وہی اس بات پر قادر ہے۔ حکمرانوں سے درخواست ہے کہ وہ خوابوں کی دنیا سے نکل کر حقائق کی دنیا میں آجائیں اور دشمن کو پہچانیں۔ یہ دہشت گردی محض ملک کے اندر سے نہیں ہورہی، اس کے ڈانڈے آس پاس کے ملکوں بالخصوص بھارت سے ملتے ہیں۔ اے حاکمانِ وقت!

اندازِ بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے

شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات

مزید : کالم