دو قومی نظریہ

دو قومی نظریہ

  

پاکستان کا قیام دو قومی نظریہ کی اساس اور تقسیم پاک و ہند کا باعث ہے۔ گیارہویں صدی کے آغاز پر مشہور محقق البیرونی جنہوں نے تقریباً دس سال ہند میں گزارے اور ہندوؤں کے علم نجوم اور حساب میں دسترس حاصل کی، لکھتے ہیں کہ مسلمان اور ہندو ہر لحاظ سے دو قومیں ہیں جو مختلف عادات، معاملات اور ثقافتوں کے علمبردار ہیں۔ علامہ اقبال نے 29 دسمبر 1900ء کو مسلم لیگ کے صدارتی خطبہ میں اس نظریہ کو اجاگر کیا۔ قائداعظم کی 22مارچ 1940ء کی تقریر لاہور البیرونی کے نقطہ نظر کی مکمل عکاس ہے۔ بقول قائداعظم ہندو اور مسلمان دو مختلف مذاہب کے ماننے والے اور مختلف ثقافتوں اور رجحانات کے علمبردار ہیں جو کسی بھی معاملے پر یکساں نقطہ نظر نہیں رکھتے۔ بقول قائداعظم پاکستان تو اسی دن بن گیا تھا جس دن برصغیر کے پہلے مسلمان نے اسلام قبول کیا تھا۔ سانحہ مشرقی پاکستان کے وقت سابق وزیراعظم اندرا گاندھی نے کہا تھا کہ ہم نے دو قومی نظریہ کو خلیج بنگال میں غرق کردیا۔ متحدہ قومی موومنٹ کے قائد نے ہندوستان کی یاترا کے وقت اپنے بیان میں کہا کہ تاریخ نے دو قومی نظریہ کو غلط ثابت کردیا۔ ان کے بقول سانحہ 1971ء دو قومی نظریہ کی موت ہے لہٰذا ہم تاریخ کے سیاق و سباق کی روشنی میں اس نظریہ کا جائزہ لیتے ہیں کہ یہ کس حد تک درست ہے۔ کیا اس طرح کا کوئی نظریہ برصغیر پاک و ہند میں موجود تھا کہ نہیں!

برصغیر میں اسلام کی آمد خلیفہ دوم حضرت عمر فاروقؓ کے دور سے شروع ہوئی۔ ولید بن عبدالملک کے دور حکومت میں جب دیبل کے لٹیروں نے مسلمانوں کے اموال و اسباب پر قبضہ کیا، ان کے نزدیک وہ ایک غیر قوم کے افراد تھے جن کا ان کے مذہب سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ راجہ داہر کی حکومت کا اخلاقی ضابطے جاننے کے باوجود ان کے خلاف کارروائی سے انکار اس نظریہ کو مزید تقویت دیتا ہے کہ وہ اپنے ہم مذہبوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرنا چاہتا تھا جس کے نتیجے میں حجاج کی ابتدائی دو مہمیں ناکامی سے ہمکنار ہوئیں اور پھر تیسری مہم محمد بن قاسم کی فوج کشی اور اس کی کامیابی نے مسلمانوں کو ایک عظیم الشان فتح سے ہمکنار کیا اور سندھ کے لوگوں کو بھی سکھ کا سانس نصیب ہوا۔

سلطان محمود غزنوی نے ہندوستان پر 17 حملے کئے اور سومناتھ کے قریب لڑی جانے والی سب سے بڑی جنگ میں ہندوستان کے ہندو راجے سلطان کے خلاف صف آراء ہوئے۔ یہی صورتحال سلطان غوری کی پرتھوی راج کے ساتھ تراوڑی کی دوسری جنگ میں ہندو راجاؤں کی تھی جو پرتھوی راج کی مدد کیلئے پیش پیش تھے۔ خلجی دور حکومت میں آخری خلجی سلطان قطب الدین مبارک شاہ کا اس کے وزیر خسرو خاں جو کہ ایک ہندو زادہ تھا، کے ہاتھوں قتل اور اس کا تخت دہلی پر قابض ہونا اور اس کے نتیجے میں اسلامی شعائر کی جس طرح بے حرمتی کی گئی اور اس کا مذاق اڑایا گیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ واقعات کا یہ تسلسل اس بات کا بین ثبوت ہے کہ دو قومی نظریہ اس وقت وجود میں آگیا تھا جب ہندوستان کے پہلے مسلمان نے اسلام قبول کیا تھا اور اس کی بنیادیں مسلم حکومتوں کے ہند میں قیام کے ساتھ مضبوط ہوتی چلی گئیں۔

برصغیر میں مغلیہ حکومت کے ابتدائی دنوں میں رانا سانگا کی بابر کے خلاف جنگ دراصل ہندوستان میں ہندو راج کا ایک بار پھر احیاء کرنا تھا جسے بابر کے جہادی جذبے نے ایک بار پھر ناکامی سے دوچار کیا۔ برصغیر پاک و ہند میں سلاطین دہلی سے لے کر مغلیہ حکومت تک جتنی بھی حکومتیں برسر اقتدار آئیں ان کی ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ ہندوستان میں رہنے والے خاص طور پر ہندوؤں کو مساویانہ حقوق دیئے جائیں اور یہی وجہ ہے کہ حکومت کے اعلیٰ عہدوں پر انہیں تعینات کیا گیا لیکن ان تمام کوششوں کے باوجود ہندوؤں کو جب بھی موقع ملا انہوں نے مسلم حکومتوں کے خلاف علم بغاوت بلند کیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر دو قومی نظریہ موجود نہ تھا اور اس کی کوئی ثانوی حیثیت نہیں تھی تو ہندوؤں نے مسلمان حکمرانوں کو دل سے قبول کیوں نہیں کیا۔

سلطنت دہلی کی طرح مغلیہ سلطنت میں مذہبی عنصر ہمیشہ سطحی رہا۔ مغل بادشاہوں نے سیکولر طرز حکومت قائم کرنے کی کوشش کی۔ اکبر اعظم کی مثال مغل حکمرانوں میں اس کی ہندو نوازی کیلئے مشہور ہے جس کا سب سے بڑا ثبوت دین الٰہی کا فروغ ہے جو مختلف مذاہب کے عقیدوں کا ملغوبہ تھا اور اس کی زیادہ تر تعلیمات ہندو مذہب سے لی گئی تھیں لیکن جب مغلیہ سلطنت کے زوال کے وقت جاٹوں نے دلی کو لوٹا تو انہوں نے اکبر کے مزار کی تمام چاندی لوٹ لی اور اس کی قبر کی بے حرمتی کی گئی۔ یہ اس سربراہ مملکت کا حال تھا جو اپنی ہندو نوازی کی وجہ سے ہندوستان میں بڑے احترام سے جانا جاتا ہے۔

سلطنت مغلیہ کے زوال کے آخری ادوار میں جب انگریز نے اپنی حکومت کے قیام کیلئے ریشہ دوانیوں کا سلسلہ شروع کیا تو ہندوؤں نے انگریزی حکومت کے استحکام کیلئے بھرپور معاونت کی تاکہ مسلمانوں سے ان کی ایک ہزار سالہ حکومت کے خاتمہ اور ان سے اقتدار کے چھن جانے کا بدلہ لیا جاسکے۔ اس فیکٹر نے سلطنت دہلی، میسور اور بنگال میں مسلم حکمرانوں کو حکومت سے محروم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ سلطنت مغلیہ کے زوال کو منطقی انجام تک پہنچانے میں جن عناصر نے اہم کردار ادا کیا اس میں مرہٹے، سکھ اور جاٹ شامل ہیں۔

مرہٹوں کا اصل وطن مہاراشٹر تھا۔ ہندوؤں کی بھگتی تحریک نے ان میں اتحاد کا احساس پیدا کیا اور مذہبی جوش کے فروغ نے انہیں مسلمانوں کے خلاف تعصب سے بھر دیا۔ مغلیہ زوال کے وقت انہوں نے اس قدر طاقت حاصل کرلی کہ ہندوستان کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک ان کی حکومت قائم ہوگئی اور اٹک کے قلعے پر ان کا پرچم لہرانے لگا۔ یہ وقت مسلمانان ہند کیلئے بڑا اندوہناک اور سخت تھا۔ ہندو راج اور اس کے احیا کی تحریک ایک بار پھر عروج پر پہنچ گئی تھی۔ مسلمانوں کی حالت اور وقت کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے والئ افغانستان احمد شاہ ابدالی کو خط لکھا کہ مسلمانوں کو اس مفسد گروہ سے نجات دلائے۔ یوں احمد شاہ ابدالی اور مرہٹوں کے درمیان فیصلہ کن جنگ پانی پت کی تیسری لڑائی کی صورت میں 1761ء میں ہوئی اور مرہٹوں کی عسکری قوت کا ہمیشہ ہمیشہ کیلئے خاتمہ ہوگیا۔

مغل زوال میں ایک اہم کردار سکھوں نے ادا کیا۔ اورنگزیب کی وفات کے بعد سکھوں نے اپنی طاقت کا بھرپور مظاہرہ کیا اور ہزاروں کی تعداد میں مسلمانوں کا قتل عام کیا۔ احمد شاہ ابدالی کے چلے جانے کے بعد سکھوں نے پھر طاقت حاصل کرلی اور رانا رنجیت سنگھ نے اس گروہ کو جمع کرکے پنجاب میں اپنی حکومت قائم کی اور لاہور کو اپنا دارالخلافہ بنایا۔ یہ وقت اہل پنجاب کیلئے بڑا سخت و کٹھن تھا۔ مسلمانوں کو اس گروہ کے چنگل سے نجات دلانے کیلئے شاہ اسماعیل شہید اور ان کے ساتھی سید احمد شہید نے اعلان جہاد کیا لیکن اپنوں کی غداری نے تحریک کو کامیاب نہیں ہونے دیا اور یہ مجاہد اسلام اپنے جاں نثاروں کے ساتھ بالا کوٹ کے محاذ پر لڑتے ہوئے شہید ہوگئے۔ اس گروہ کی حکومت بعدازاں انگریزوں نے پنجاب پر قبضہ کے بعد ختم کردی۔

جاٹ قوم نے بھی مغلیہ زوال کے وقت بڑا اودھم مچایا، یہ دہلی سے جمنا کے جنوبی علاقے میں آباد تھے اور ان کا مرکز آگرہ کا قلعہ تھا۔یہ لوگ آگرہ سے لے کر میوات کی حدود سے فیروزآباد اور شکوہ آباد تک کے علاقے پر قابض ہوگئے اور یوں ان تمام علاقوں میں نماز و اذان پر پابندی لگا دی، بعد میں نجیب الدولہ نے انہیں شکست دی۔ اس کے بعد بھی کافی عرصہ اس مفسد گروہ نے فساد مچایا۔

ہندوستان میں علاؤالدین خلجی نے تقریباً 50 برس حکومت کی۔ اس نے بھی اپنی حکومت کو سیکولر نظریہ کے تحت استوار کیا۔ شیر شاہ سوری نے ملکی نظم و نسق چلانے کیلئے ہندوستان کے خصوصی حالات کے پیش نظر مذہبی رواداری کی پالیسی کو اپنائے رکھا جس کی بڑی مثال اس کے دور میں راجہ ٹوڈرمل کی ہے جسے اس نے ریاست ہند کی جملہ زمینوں کی اعداد شماری کا حکم جاری کیا۔ یہ ہندوستان میں حکمران مسلمانوں کے سیکولر ازم کی بڑی مثال ہے۔

مغلیہ سلطنت کے زوال اور 1857ء کی جنگ میں بھی اجتماعیت کا پہلو نظر نہیں آتا۔ مختلف علاقوں میں لڑی جانے والی جنگ آزادی میں علاقائیت اور مذہب کو اہمیت دی۔ خاص طور پر رانی جھانسی اور دوسرے علاقوں میں جنگ آزادی ایک مخصوص حصہ کیلئے لڑی گئی نہ کہ اس کا مقصد سلطنت مغلیہ کا احیا کرنا تھا۔ صرف دلی میں جنرل بخت خان اور اس کے جانبازوں نے اپنی سپاہ کے ذریعہ انگریزوں کا راستہ روکنے کی بھرپور کوشش کی اور اس میں غالب اکثریت انگریزوں کی تھی لیکن محلاتی سازشوں کے بچھائے ہوئے تانے بانے نے انہیں دلی چھوڑنے پر مجبور کردیا اور سانحہ غدر برپا ہوا جس میں لاکھوں مسلمانوں کو پھانسی دی گئی اور ان کا شدت کے ساتھ قتل عام ہوا۔ اس لڑائی میں جو دہلی اور گرد و نواح میں لڑی گئی۔ اکثریت مسلمانوں کی رہی اور ہندوؤں نے باوجود اکثریت کے اس میں حصہ نہیں لیا جس کا نتیجہ مغلیہ سلطنت کے خاتمے پر منتج ہوا۔

ہندوستان میں کانگریس کے قیام کا مقصد بھی ہندوؤں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا تھا اور وہ اس مقصد میں کامیاب رہے لیکن مسلم زعماء کی بروقت کوشش اور ادراک اور مسلم لیگ کے قیام نے اس دو قومی نظریئے کو ایک بار پھر زندگی عطا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ قیام پاکستان کے وقت ہندو سکھ اتحاد نے لاکھوں مسلمانوں کو تہہ تیغ کیا، مسلمان عورتوں کی بے حرمتی کی گئی، یہاں تک کہ بچوں کو بھی نہ بخشا گیا۔ یہ اس قدر دردناک سانحہ ہے کہ آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں۔ ہندوستان کے مسلمانوں کو آج تک پاکستان بننے کی سزا دی جا رہی ہے۔ بہار، آسام، جمشید پور، مراد آباد نہ جانے کتنے علاقے ہیں جہاں آگ و خون کی ہولی کھیلی گئی اور ہزاروں مسلمان زندگی کے ساتھ ساتھ اپنے مال و متاع سے محروم کردیئے گئے۔ ہندوستان کی پاکستان دشمنی 1947ء سے لے کر اب تک قائم ہے۔ بھارت ایسا کوئی بھی موقع، جس میں پاکستان کو نقصان پہنچے ،ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ کیا یہ سب کچھ ہماری آنکھیں کھولنے کیلئے کافی نہیں؟ نکلیے اس سراب سے جو حقیقت میں کچھ اور ہے تاکہ ان شہداء کی شہادت کا حق ادا ہوسکے جو حق وباطل کی اس راہ میں دو قومی نظریئے کی اساس کیلئے شہید ہوگئے۔

مزید :

کالم -