حافظ سعید کی نظر سے بلوچستان کا منظر نامہ

حافظ سعید کی نظر سے بلوچستان کا منظر نامہ
حافظ سعید کی نظر سے بلوچستان کا منظر نامہ

  

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے۔ ایک ابہام ہے۔ اگر بھارتی میڈیا کی بات مان لی جائے تو ایسا لگتا ہے کہ بلوچستان میں آگ لگی ہوئی ہے۔ اور اگر پاکستان کا میڈیا دیکھ لیں تو ایسا لگتا ہے کہ سب سکون ہے۔ کوئی بات ہی نہیں ہے۔ اسی جستجو میں گزشتہ روز جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید سے ملاقات ہوئی۔ ویسے تو لوگ انہیں ان کے کشمیر کے حوالہ سے سخت موقف اور کام کے حوالے سے جانتے ہیں۔ لیکن شاید کم ہی لوگ یہ بات جانتے ہو نگے کہ حافظ سعید کی این جی او فلاح انسانیت فاؤنڈیشن بلوچستان میں فلاحی کام کرنے والی سب سے بڑی این جی او ہے۔ فلا ح انسانیت فاؤنڈیشن کا کام بلوچستان کے ہر ضلع و تحصیل میں موجود ہے۔

میں نے حافظ سعید صاحب سے پوچھا کہ بلوچستان کہاں کھڑا ہے۔ کیا ہم بلوچستان میں مشرقی پاکستان والی غلطیاں کر رہے ہیں۔ کیا براہمداغ میں مجیب بننے والی صلاحیتیں ہیں۔ کیا براہمداغ کی جماعت بلوچستان کے انتخابات جیت سکتی ہے۔ حافظ سعید مسکرائے اور کہنے لگے کہ آپ نے مودی کے ایک بیان کے بعد بلوچستان کے چپے چپے میں پاکستان کے حق میں نکلنے والی ریلیاں نہیں دیکھیں۔ پوری دنیا نے دیکھا کس طرح پورا بلوچستان پاکستان زندہ باد کے نعروں سے بیک زبان گونج اٹھا۔ لوگ پاکستان کے جھنڈے اٹھا کر سڑکوں پر آگئے۔ مودی کے پتلے جلائے گئے۔

میں نے کہا یہ کہا جاتا ہے کہ یہ سب پاکستان زندہ باد کے نعرے اور پاکستان کے جھنڈوں والی ریلیاں تو آپ نے نکلوائی تھیں۔ یہ تو آپ کے لوگ تھے۔ انہوں نے کہا میں آپ کی یہ بات مان لیتا ہوں یہ پاکستان زندہ باد کی ریلیاں ہم نے نکلوائی ہیں۔ لیکن یہ بلوچ تھے۔ وہاں کے مقامی لوگ تھے۔ بلوچستان کے قصبوں اور مختلف شہروں میں ایک ہی دن میں نکلنے والی درجنوں ریلیوں کے لئے لوگ پنجاب یا سندھ سے تو نہیں گئے تھے۔ یہ بلوچ تھے۔ اور پاکستان سے اپنی محبت کا اعلان کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں پانی اور اناج بڑے مسائل ہیں۔ ہم نے بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں ٹیوب ویل لگائے ہیں اور کنویں کھودے ہیں۔جن علاقوں میں پانی کی شدید قلت تھی وہاں پانی دیا ہے۔ پانی نے ان کی زندگی میں بڑی تبدیلی لا دی ہے۔ وہ یہ بات مانتے ہیں کہ یہ پانی انہیں نہ تو کسی سردار نے دیا ہے اور نہ ہی کسی بھارتی ایجنٹ نے دیا ہے۔ سب نے انہیں اپنے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔ صرف فلا ح انسانیت فاؤنڈیشن نے ان کے لئے کام کیا ہے۔ ان کے صدیوں کا مسئلہ کا حل کیا ہے۔ ہم نے انہیں پنجاب سے اناج چاول اور دیگر اجناس دی ہیں ۔ اور انہیں بتا یا ہے کہ یہ اجناس اناج اور چاول ان کے لئے ان کے پنجابی بھائیوں نے بھیجی ہیں۔ اس طرح ہم نے ان کے اندر پنجاب اور دیگر پاکستان کے علاقوں کے لئے محبت مضبوط کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے فخر ہے کہ میں نے یہ کام کیا ہے۔ اسی طرح بلوچستان کے علاقے آواران میں آنے والے زلزلے کے حوالے سے بھی حافظ سعید کا کہنا تھا کہ اس زلزلہ میں ان کی جماعت نے ریلیف کا ریکارڈ کام کیا ہے۔ کئی نئے گاؤں بنائے ہیں۔ ان کی تنظیم فلاح انسانیت فاؤنڈیشن مشکل کی اس گھڑی میں بلوچ عوام کے ساتھ کھڑی ہوئی ہے۔ اور اس کام کی وجہ سے بلوچ عوام نے ہمیں اپنے دل میں جگہ دی ہے۔ جس پر مجھے فخر ہے۔

میں نے کہا کہ کہا جاتا ہے کہ را بلوچستان میں بہت پیسہ خرچ کر رہی ہے۔ جب ہندوستان وہاں اتنے پیسے خرچ کر رہا ہے تو آپ بلوچستان میں امن کا پیغام کیسے دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہاآپ مانیں یا نہ مانیں لیکن کلبھوشن کے پکڑے جانے کے بعد بھارت کا بلوچستان میں نیٹ ورک ٹوٹ گیا ہے اور ہمارے اداروں کی یہ اب تک کی بڑی کامیابی ہے کہ انہوں نے بھارت کو بلوچستان میں دوبارہ نیٹ ورک بنانے نہیں دیا۔ بھارت کی بد حواسی یہی ہے کہ اب اس کے بلوچستان میں پاؤں نہیں لگ رہے۔ وہ جو باہر بیٹھے خود کو بلوچستان کا ٹھیکیدار ظاہر کرتے ہیں ۔حقیقت میں ان کا بلوچستان سے رابطہ ختم ہو گیا ہے۔ لوگ ان کو جان چکے ہیں۔ اور ان سے دور ہو گئے ہیں۔ اسی لئے اب ان کی آواز پر بلوچستان میں نہ تو کوئی ہڑتال ہوتی ہے۔ اور نہ ہی ان کے کہنے پر کوئی پاکستان مخالف ریلی نکالتا ہے۔ بلوچستان نے ان کو عاق کر دیا ہے۔ یہ لوگ اب بھارت کے لئے بھی بوجھ ہیں۔ کیونکہ وہ بھارت کے مذموم مقاصد کی تکمیل کے بھی قابل نہیں رہے ہیں۔

حافظ سعید بلوچستان کی جو تصویر پیش کر رہے ہیں ۔ اللہ کرے وہ سچ ہو۔ ابھی حالات اس قابل تو نہیں کہ میں حافظ سعید سے اپنی اس خواہش کا اظہار کرتا کہ مجھے بلوچستان لے چلیں۔ لیکن میری دعا ہے کہ بلوچستان کے حالات اس قدر اچھے ہو جائیں کہ ہم اپنے بچوں کو زیارت لیکر جا سکیں۔ بے شک بلوچستان پاکستان کا فخر ہے۔ لیکن حکمرانوں کو چاہئے کہ وہ بلوچستان پر توجہ دیں۔ ہمیں ہنگامی بنیادوں پر بلوچستان کی محرومیوں کو ختم کرنا ہے۔ پانی کی کمی کو دور کرنا ہے۔مجھے حافظ سعید سے بلوچستان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے یہ خیال آیا کہ اللہ نے اہل پنجاب کو بہت دیا ہے۔ اگر ہم پنجاب میں بلوچستان میں ٹیوب ویل اور کنویں کھودنے کی ایک بڑی مہم شروع کریں۔ اور ہزاروں ٹیوب ویل لگائیں تو شاید پنجاب کے عوام بلوچ عوام کے دل میں جگہ بنا سکے۔ جس طرح حافظ سعید کشمیر کا مقدمہ لڑتے ہیں۔ اب انہیں بلوچ عوام کا مقدمہ بھی اتنی ہی شدت سے لڑنا چاہئے۔ اگر بلوچ ان سے پیار کرتے ہیں تو انہیں بھی اس پیار کو لوٹانا ہے۔ اور اس کے لئے انہیں پنجاب کو بیدار کرنا ہو گا۔ یہی وقت کی ضرورت ہے۔

مزید : کالم