ہماری کرکٹ ٹیم کی ناکامی پاکستان کرکٹ بورڈ کی نا اہلی ہے ۔

ہماری کرکٹ ٹیم کی ناکامی پاکستان کرکٹ بورڈ کی نا اہلی ہے ۔

حالیہ دورۂ انگلستان کے دوران پاکستان کرکٹ ٹیم نے تاریخی غلطیوں کی مالا کے ساتھ ساتھ ایک بُری ناکامی کا طوق بھی گلے میں پہن لیا۔پاک انگلینڈ کرکٹ سریز2016ء میں چار ٹیسٹ، پانچ ون ڈے اور ایک ٹی ٹونٹی میچ کھیلا گیا جس میں پاکستان صرف دو ٹیسٹ میچ،ایک ون ڈے اور ٹی ٹونٹی میچ جیت سکا۔ میدان میں موجود ناظرین تو دل گرفتہ تھے ہی ٹیلی ویژن پر میچ دیکھنے والے شائقین بھی مضطرب اور آزردہ ہوئے۔چار ون ڈے اور ایک ٹی ٹونٹی میچوں کے دوران میں خود میچ دیکھنے والوں کے درمیان پویلین میں موجود تھا۔ میں نے صرف میچ کی روداد کی کوریج ہی نہیں کرنی تھی بلکہ ان اسباب و مراحل پربھی غور کرنا تھا جن پر کھیل کے میدان میں ہماری ٹیم کی فتح و شکست کا انحصار تھا۔افسوس کہ پاکستان کرکٹ ٹیم نے جس کارکردگی کا مظاہرہ کیا، کسی بھی صورت اور کسی بھی پہلو سے اس کی حمایت نہیں کی جاسکتی۔ ٹیم کا مجموعی تاثر بے دلی، بے حسی اور ٹیم سپرٹ سے عاری تھا۔انگلینڈ میں کرکٹ کے میدان میں بیٹھا میں سوچ رہا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کیا کررہا ہے؟ عالی شان دفتروں میں بیٹھے اور بھاری معاوضہ لینے والے بورڈ کے کرتا دھرتا کن اصول و ضوابط پر ٹیم ترتیب دے رہے ہیں کہ جس نے کسی بھی جگہ مسلسل کامیابی کی کوئی بھی تاریخ رقم نہیں کی۔پاکستان کرکٹ بورڈ نے دورہ انگلینڈ میں شائقین کو بے حد مایوس کیا۔ اوول میں پہلے ٹیسٹ کی جیت نے جن امنگوں اور ولولوں کو جنم دیا تھا وہ اگلے میچوں میں دھواں بن گئے۔پاک انگلینڈ کرکٹ سیریز 2016ء چھ سال کے عرصہ کے بعد منعقد ہو رہی تھی اس کے لئے ضروری تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ ٹھوس تیاری کرتا اور ایک ایسی ٹیم کو تیار کرتا جواس سیریز میں بہترین نتائج سامنے لاتی اور کرکٹ کی دنیا میں قابل فخر ریکارڈ قائم کرتی۔ لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ اس سیریز کے لئے سنجیدہ تھا نہ ہی ٹیم کے ارکان اس سیریز کو سنجیدہ لئے ہوئے تھے۔ مجھے انتہائی کوفت ہوئی جب میں نے بورڈ کے ارکان اور کرکٹ کے کھلاڑیوں کو ان لمحات میں سیروتفریح اور شاپنگ کرتے دیکھا جن لمحات میں کرکٹ کے شائقین سخت کرب اور ذہنی انتشار سے گزر رہے تھے۔ ہماری کرکٹ ٹیم جیت ہار کے حوالے سے بے حِس ہو چکی ہے۔ کھلاڑی کرکٹ کے میدان میں صرف اپنی باری بھگتانے کے لئے اترتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ قوم نسیان کی مریض ہے۔ دو دن غم کے تالاب میں ڈوبنے کے بعد پھر کنارے پر آ جائے گی اور دوسرے مسائل میں الجھ جائے گی اور ہم نئے میچ کی تیاری میں ایک بار پھر لگ جائیں گے۔دوسری جانب پاکستان کرکٹ ٹیم کا اگلہ امتحان دورۂ ویسٹ انڈیز ہے۔ پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیمون کے درمیان تین ٹی ٹونٹی میچوں پر مشتمل سیریز کا پہلا میچ 23 ستمبر کو انٹرنیشل کرکٹ سٹیڈیم دبئی میں کھیلا جائے گا۔ سیریز میں شرکت کیلئے ویسٹ انڈین ٹیم دبئی پہنچ گئی ۔ میچ پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق رات نو بجے شروع ہوگا۔ دونوں ٹیموں کے درمیان سیریز کا دوسرا میچ 24 ستمبر کو انٹرنیشل کرکٹ سٹیڈیم دبئی میں کھیلا جائیگا۔ یہ میچ بھی پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق رات نو بجے شروع ہوگا جبکہ سیریز کا تیسرا اور آخری میچ 27 ستمبر کو شیخ زید سٹیڈیم ابوظہبی میں کھیلا جائیگا یہ میچ بھی پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق رات نو بجے شروع ہوگا۔ دونوں ٹیموں کے درمیان ٹی ٹونٹی سیریز کے بعد تین ون ڈے میچوں کی سیریز کا پہلا میچ 30 ستمبر کو شارجہ، دوسرا میچ 2 اکتوبر کو شارجہ جبکہ تیسرا اور آخری میچ 5 اکتوبر کو ابوظہبی میں کھیلا جائیگا۔ ون ڈے سیریز کے علاوہ دونوں ٹیموں کے درمیان تین ٹیسٹ میچز بھی کھیلے جائینگے اس سلسلے میں پہلا ٹیسٹ 13 سے 17 اکتوبر تک دبئی، دوسرا ٹیسٹ 21 سے 25 اکتوبر تک ابوظہبی جبکہ تیسرا اور آخری ٹیسٹ میچ 30 اکتوبر سے 3 نومبر تک شارجہ میں کھیلا جائیگا۔ قومی سلیکشن کمیٹی نے ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز کے لیے ٹی ٹوئنٹی ٹیم کا اعلان کردیا ہے جس میں سرفراز احمد کو کپتان برقرار رکھا گیا ہے۔ جب کہ اسکواڈ کے دیگر کھلاڑیوں میں شرجیل خان، خالد لطیف، بابراعظم، محمد رضوان، عماد وسیم، حسن علی، محمد عامر، وہاب ریاض، سہیل تنویر، محمد نواز، شعیب ملک اورسعد نسیم سمیت رومان رئیس بھی شامل ہیں۔15 رکنی اسکواڈ میں عمر اکمل کی بھی واپسی ہوئی ہے جب کہ انگلینڈ کے خلاف ٹی ٹوینٹی ٹیم کا حصہ بننے والے عماد بٹ بغیرکھیلے ٹیم سے باہرہوگئے ہیں۔ ویسٹ انڈیز کی ٹیم دوبئی پہنچ گئی ہے جہاں کارلوس بریتھ ویٹ کی قیادت میں کیریبئن ٹیم 23 ستمبر سے شاہینوں کا مقابلہ کرے گی۔ تین ٹی ٹوئنٹی میچز کے بعد تین ون ڈے اور پھر تین ٹیسٹ میچز کھیلے جائیں گے۔ ٹیم کی قیادت کارلوس بریتھ ویٹ کر رہے ہیں جنہوں نے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے فائنل میں چار چھکے لگا کر اپنی ٹیم کو چیمپئن بنایا تھا البتہ کرس گیل ویسٹ انڈیز سکواڈ کا حصہ نہیں ۔ ساتھ ہی مہمان ٹیم ٹی ٹونٹی عالمی کپ جتوانے والے کوچ فل سمنز سے بھی محروم ہو چکے ہیں ۔ اپنی شادی کی تقریبات میں مصروف محمد عامر بھی 23 ستمبر کوٹیم جوائن کرلینگے، انتخاب عالم کی جگہ ذمہ داریاں سنبھالنے والے ٹیم منیجر وسیم باری نے کہاکہ یواے ای میں پاکستانی کرکٹرز ملک کے سفیر اور عوام کی توقعات کا مرکز ہونگے، سب کو ڈسپلن کی پاسداری کرنا ہوگی انھیں میدان کے اندر اور باہر ملکی پرچم سربلند رکھنے کیلئے ہر ممکن کوشش کرنے کی ہدایت دی جائیگی،ان کو بتایا جائیگا کہ انٹرنیشنل سطح پر کسی بھی حریف کیخلاف کامیابی کیلئے انفرادی مہم جوئی کافی نہیں ہوتی، ٹیم کلچر کو پروان چڑھانا پڑتا ہے۔ قومی ٹی 20 ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے کہا ہے کہ مصباح الحق سے بہت کچھ سیکھااور ٹیسٹ ٹیم کو پہلے نمبر پر لانے پر انہیں مبارکباد پیش کرتاہوں، دنیا بھر میں آفریدی کا کوئی متبادل نہیں ہے اگر وہ ٹیم میں واپس آئے تو انہیں ضرور خوش آمدید کہوں گا۔ سرفراز احمد نے کہاکہ ٹی 20 میں جو ٹیم اچھا کھیلے گی وہی جیتے گی میری کوشش ہے کہ جو کچھ بڑوں سے سیکھا وہ جونیئرز کو بتاؤں اور پوری ٹیم کو آگے لے کر جاؤں۔کسی بھی سیریز کے دوران ایک میچ جیت کر بالکل آرام نہیں کریں گے اور لڑکوں کو یہ بات باور کرائیں گے کہ ہم نے غافل نہیں ہونا کیونکہ ٹی 20 میں اگر 10 منٹ بھی مخالف ٹیم کومل جائیں تو پانسہ پلٹ سکتا ہے ٹی ٹوئنٹی میں اگر فیلڈنگ اچھی ہو تو کسی بھی ٹیم کو ہرایا جاسکتا ہے۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر کا کہنا ہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم اگر ایسے گھسے پٹے انداز سے کھیلتی رہی تو اگلے ورلڈ کپ میں ٹیم کو شدید دشواری کا سامنا کرناپڑے گا۔ مکی آرتھر کا کہنا تھا کہ ٹاپ سیون رینکنگ اور میزبان کا انتخاب ہر چار سال بعد خودکار طریقے سے کیا جاتا ہے۔ اس وقت رینکنگ میں پاکستان کا نواں نمبر ہے اور کٹ آف ڈیٹ ایک سال دور ہے۔ انکا کہنا ہے میرا پی سی بی اور کھلاڑیوں کے لیے مشورہ ہے کہ ہائی رسک، ہائی اوکٹین کرکٹ کھیلی جائے، تاکہ دیگر ٹیم کی طرح کارکردگی بہتر ہوسکے۔ ہیڈکوچ کا کہناتھا کہ ٹیم میں جیت کا جنون بھرنے کے لیے اگر بڑے کھلاڑیوں کو ڈراپ کرنا پڑا تو وہ اس میں ذرہ برابر بھی ہجکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے۔ مکی آرتھر کا کہنا ہے کہ تیس ستمبر دو ہزار سترہ کی ڈیڈ لائن سے پہلے ٹیم کو صرف چودہ ون ڈے کھیلنے ہیں۔ جس کے لئے وقت کم اور مقابلہ سخت ہے۔ جبکہ دوسری جانب پاکستانی کرکٹ ٹیم کے آل راؤنڈر شاہد آفریدی نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ انہوں نے اپنے الوداعی میچ کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ سے درخواست کی ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ چند روز سے پاکستانی ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں آرہی ہیں کہ شاہد آفریدی کو ویسٹ انڈیز کے خلاف متحدہ عرب امارات میں ہونے والی ٹی ٹوئنٹی سیریز کی پہلے سے اعلان کردہ ٹیم میں سولہویں کھلاڑی کے طور پر شامل کرکے بین الاقوامی کرکٹ سے الوداع کہا جائے گا اور شاہد آفریدی نے مبینہ طور پر پاکستان کرکٹ بورڈ سے اس کی درخواست بھی کی ہے۔ شاہد آفریدی کہا کہ یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ بین الاقوامی کرکٹ کو الوداع کہنے کے لیے انہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے خود کہا ہے جو بالکل غلط ہے تاہم انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ اپنے کریئر کو باوقار انداز میں ختم کرنے کے سلسلے میں وہ چیف سلیکٹر انضمام الحق سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے مستقبل کے بارے میں انضمام الحق کو مطلع کردیا ہے اور انضمام الحق بھی انہیں اپنا پلان بتا چکے ہیں۔ شاہد آفریدی نے کہا کہ وہ چاہتے تو بھارت میں منعقدہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے بعد ہی بین الاقوامی کرکٹ چھوڑ دیتے لیکن وہ باوقار انداز میں کرکٹ سے رخصت ہونا چاہتے ہیں کیونکہ اتنا طویل عرصہ پاکستانی کرکٹ کی خدمت کرنے کے بعد یہ ان کا حق ہے کہ وہ اچھے طریقے سے کرکٹ کو چھوڑیں۔شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نہ ان پر دباؤ ڈال رہا ہے اور نہ وہ کرکٹ بورڈ پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ جو بھی فیصلہ ہوگا وہ ان کے لیے کرکٹ بورڈ کے لیے اور آنے والے کرکٹرز کے لیے اچھا ہوگا۔ وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اور ان کا تعلق خوشگوار انداز میں اختتام کو پہنچے۔آفریدی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بہت کم ایسا ہوا ہے کہ کرکٹرز نے عزت کے ساتھ کرکٹ کو خدا حافظ کہا ہو وہ چاہیں گے کہ ان کے فیصلے سے ان کی بھی عزت ہو اور کرکٹ بورڈ کی بھی۔ یاد رہے کہ شاہد آفریدی نے اس سال بھارت میں ہونے والے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے بعد بین الاقوامی کرکٹ کو خیرباد کہنے کا اعلان کیا تھا لیکن بعد میں انہوں نے ایک بیان میں اپنی کرکٹ جاری رکھنے کی خواہش ظاہر کردی تھی۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہر یار خان نے اس موقع پر یہ کہا تھا کہ شاہد آفریدی کو ٹیم کی قیادت اسی شرط پر سونپی گئی تھی کہ وہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے بعد ریٹائر ہوجائیں گے۔شاہد آفریدی 98 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں97 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں اور انہیں ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں وکٹوں کی سنچری مکمل کرنے والا پہلا بولر بننے کے لیے صرف تین وکٹیں درکار ہیں۔

مزید : ایڈیشن 1