اسٹیل مل ،ریٹائرڈ ملازمین سے فنڈز محروم ،اذیت کا شکار

اسٹیل مل ،ریٹائرڈ ملازمین سے فنڈز محروم ،اذیت کا شکار

کراچی (رپورٹ /غلام مرتضیٰ )وفاقی حکومت کی عدم توجہ اور پاکستان اسٹیل مل انتظامیہ کی نااہلی کے باعث ادارے سے 2013میں ریٹائر ہونے والے ملازمین تاحال پراویڈنٹ فنڈز اور دیگر مالی مراعات سے محروم ہیں ۔حکومت پاکستان سے تنخواہوں کی مد میں ماہانہ 38کروڑ روپے لینے والی پاکستان اسٹیل مل کی انتظامیہ نے شاہانہ اقدام کرتے ہوئے 92کنٹریکٹ ملازمین کو نوازتے ہوئے ان کے کنٹریکٹ میں توسیع کردی ہے ۔پاکستان اسٹیل مل جس کا اپنا پہیہ مشکل سے چل رہا ہے اور اس کی گاڑیاں کوچلانے کے لیے 80ڈرائیورز بھرتی کیے گئے ہیں ۔ریکارڈ کے مطابق اسٹیل مل میں کنٹریکٹ ملازمین کی تعداد 230ہے جبکہ 4کنسلٹنٹ ہیں ۔30جون 2016کے بعد مذکورہ کنٹریکٹ ملازمین معاہدے کے مطابق تقریباً فارغ ہوچکے ہیں ۔لیکن پاکستان اسٹیل مل کی انتظامیہ نے 150کنٹریکٹ ملازمین کو نوازنے کے لیے ان کے معاہدے میں توسیع کی سمری وفاقی حکومت کو بھیجی ،جس پر ملازمتوں پر پابندی کے باوجود 92سفارشی ملازمین کے کنٹریکٹ میں توسیع کردی گئی ہے ۔دوبارہ کنٹریکٹ پر رکھے گئے ملازمین میں 80ڈرائیورز اور 12شعبہ فنانس سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں ۔ان افرا د کے کنٹریکٹ میں توسیع کے حوالے سے کسی ضابطہ اخلاق پر عمل نہیں کیا گیا اور محض پسند اور ناپسند کی بنیاد پر تباہ حال اسٹیل مل پر ان کا بوجھ ڈال دیا گیا ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ادارے کی ماہانہ تنخواہوں کا بجٹ 78کروڑ روپے ہے لیکن آمدنی نہ ہونے کے باعث وفاقی حکومت اسٹیل مل کوتنخواہوں کی مد میں ماہانہ 38کروڑ روپے ادا کرتی ہے۔ادارے کی اس تباہ حال صورت حال کے باعث ملازمین کو صرف ان کی بنیادی تنخواہیں ادا کی جارہی ہیں جبکہ 2013میں ریٹائر ہونے والے ملازمین تاحال پرویڈنٹ فنڈز اور دیگر مالی مراعات سے محروم ہیں ۔ان ریٹائرڈ ملازمین کا کوئی پرسان حال نہیں ہے اور ان کے گھروں میں فاقہ کشی کی صورت حال ہے ۔بہت سے ملازمین نے اپنی مراعات کے حصول کے لیے عدالتوں سے بھی رجوع کررکھا ہے ۔ذرائع کا کہناہے کہ پاکستان اسٹیل مل کی موجودہ انتظامیہ ادارے کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کی بجائے ادارے کی تباہی کا رونا رونے میں مصروف ہے اور ملازمین کا کام صرف روزانہ کی بنیاد پر حاضری لگانا رہ گیا ہے ۔ماضی میں سیاسی بنیادوں پر بھرتی کے باعث ملک کو اس اثاثے کو تباہ کیا گیا اور اب بھی بجائے اس کے کہ اس کی بحالی پر توجہ دی جائے غیر ضروری اقدامات کرکے ادارے پر بوجھ بڑھایا جارہا ہے ۔ادارے میں کسی قسم کی پیداواری سرگرمیاں نہ ہونے اور دیگر دفتری امور ٹھپ ہونے کے باوجود شعبہ فنانس میں ملازمین کی بھرتی اپنی جگہ خود ایک سوال ہے ۔ذرائع نے بتایاکہ ادارے کی نجکاری کی راہ میں سیاسی جاعتیں اور ٹریڈ یونینز ایک بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہیں ۔وفاقی حکومت کئی عرصہ سے پاکستان اسٹیل مل کی نجکاری کی کوششوں میں ہے ۔موجودہ صورت حال کو مدنظر رکھا جائے تو بغیر کسی معجزے کے پاکستا ن اسٹیل مل کی بحالی ناممکن نظر آتی ہے ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر