کیاآپ کو ’سعودی گوگل‘ کے بارے میں معلوم ہے؟جان کر آپ کو یقین نہیں آئے گا

کیاآپ کو ’سعودی گوگل‘ کے بارے میں معلوم ہے؟جان کر آپ کو یقین نہیں آئے گا
کیاآپ کو ’سعودی گوگل‘ کے بارے میں معلوم ہے؟جان کر آپ کو یقین نہیں آئے گا

  

ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک) انٹرنیٹ سرچ انجن ”گوگل“ سے ہر کوئی آگاہ ہے کہ وہ پل بھر میں دنیا بھر کا ڈیٹا کھنگال کر آپ کے مطلب کی چیز آپ کے سامنے رکھ دیتا ہے۔ ذرا سوچیے کہ اگر گوگل انسانی روپ دھار کر آپ کے سامنے آ موجود ہو، آپ کے درمیان چلے پھرے اور آپ کے تمام سوالات کا جواب دے تو آپ کیسا محسوس کریں گے۔ یقینا آپ کہیں گے کہ یہ ناممکن ہے لیکن سعودی عرب کے ایک غیرمعمولی حافظے کے مالک شخص نے اس ناممکن کو ممکن بنا دیا ہے۔

عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق اس شخص کا نام محمد المطلق ہے جسے ”سعودی عرب کا گوگل“ کے نام سے معروف ہے۔ محمد المطلق گوگل کی طرح چند سیکنڈز میں 50سال پرانے واقعات کی تفصیل آپ کے سامنے پیش کر سکتا ہے۔سعودی عرب کا یہ گوگل اپنے لباس کی اوپر کی جیب میں مختلف رنگوں کے 40 قلم رکھتا ہے۔ان میں اس نے سعودی عرب کے شاہی خاندان کے واقعات قلمبند کرنے کے لیے ایک قلم مخصوص کر رکھی ہے۔باقی قلموں کے متعلق بتاتے ہوئے اس کا کہنا تھا کہ ”مجھے سبز رنگ کے قلم سے عشق ہے کیونکہ سبز روشنائی سے میں انصاف، رحم، امن اور وعظ و نصیحت کی باتیں قلمبند کرتا ہوں۔سرخ قلم خونریزی کی داستانوں کے لیے مخصوص ہے مثلا اسٹالن جس نے لاکھوں لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارا اور اسی طرح ہٹلر یا ہلاکوخان کے واقعات سرخ قلم سے لکھتا ہوں۔ سیاہ قلم فٹ بال کے لیے مخصوص ہے ، نارنجی قلم دنیا بھر میں ایجادات اور سائنسدانوں کے لیے وقف ہے۔ ان سب میں خاص قلم چاندی کا ہے جس سے صرف آل سعود کے واقعات تحریر کرتا ہوں۔“

مزید پڑھیں: ادرک کے ذریعے ان گنت خطرناک بیماریوں کا علاج ممکن،انتہائی مفید نسخے

رپورٹ کے مطابق 66 سالہ محمد المطلق کا کہنا ہے کہ”مجھے بچپن سے ہی کھیلوں اور سیاسی واقعات بالخصوص اعداد و شمار یاد کرنے کا جنون کی حد تک شوق تھا۔ الحمد للہ میں ماضی کے واقعات کو درست طور پر بیان کرسکتا ہوں۔ میرے اندر یہ صفت موروثی نہیں بلکہ میں نے محنت سے حاصل کی ہے۔ میں نے کبھی گینز بک آف ریکارڈز میں شامل ہونے کا نہیں سوچا۔“رپورٹ کے مطابق محمد المطلق نے ریاض کی الامام یونیورسٹی سے نفسیات میں گریجوایشن کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ یہ ڈگری حاصل کرنے میں انہیں 7سال کا عرصہ لگا کیونکہ ان کے بقول وہ پڑھائی سے بہت بیزار ہوتے تھے اور امتحان کی تیاری ٹھیک سے نہیں کرتے تھے۔انہوں نے اپنی حیران کن قوت حافظہ کا راز بتاتے کہا کہ اس کا تعلق مطالعہ، پیروی اور تحریر سے ہے۔محمد المطلق کا مزید کہنا تھا کہ”مجھے اپنے غیرمعمولی حافظے کے بارے میں جنگ سوئس کے وقت سے معلوم ہوا جس میں برطانیہ ، فرانس اور اسرائیل نے مصر کے خلاف اتحاد کر لیا تھا۔میرے والد ہم سے جنگ کے واقعات بیان کرتے اور میں ان کو باریک بینی سے یاد کر لیتا تھا۔“محمد المطلق کے وڈیوکلپ سوشل میڈیا پر پھیلے ہوئے ہیں جن میں ان کے حافظے اور ماضی کے واقعات کو درستی کے ساتھ بیان کرنے کی صلاحیت کو دیکھ کر ناظرین ششدر رہ جاتے ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس