بھارتی فوجی ہیڈ کوارٹر پر حملہ کرنے والے جیش محمد کے کمانڈو تھے ،دہشت گردوں کے اسلحہ پر پاکستانی مہریں ، پاکستانی ہم منصب کو اپنی تشویش سے آگاہ کر دیا :بھارتی ڈی جی ایم او جنرل رنبیر سنگھ کا الزام

بھارتی فوجی ہیڈ کوارٹر پر حملہ کرنے والے جیش محمد کے کمانڈو تھے ،دہشت گردوں ...
بھارتی فوجی ہیڈ کوارٹر پر حملہ کرنے والے جیش محمد کے کمانڈو تھے ،دہشت گردوں کے اسلحہ پر پاکستانی مہریں ، پاکستانی ہم منصب کو اپنی تشویش سے آگاہ کر دیا :بھارتی ڈی جی ایم او جنرل رنبیر سنگھ کا الزام

  

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی فوج کے ڈارئیکٹر جنرل آف ملٹری آپریشن جنرل رنبیر سنگھ نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کے بارہ مولاضلع کے اڑی سیکٹر کے بٹالین ہیڈ کوارٹر پر ہونے والے حملے کی ابتدائی تحقیقات مکمل ہو گئی ہیں ،حملہ آور انتہائی تربیت یافتہ اور بھاری گولہ بارود اپنے ساتھ لے کر آئے تھے ،ابتدائی تحقیات میں ثابت ہوا ہے کہ چاروں حملہ آوروں کا تعلق جیش محمد سے تھا، فوجی سطح پر اڑی حملے کا معاملہ پاکستان کے سامنے اٹھایا ہے کیونکہ اس حملہ میں جیش محمد کے ملوث ہونے کے پختہ ثبوت ملے ہیں، اس لئے میں نے اپنے پاکستانی ہم منصب سے اس سلسلے میں بات کی ہے اور انہیں اپنی شدید تشویش سے آگاہ کیا ہے۔

مزید پڑھیں:پاک بھارت ڈی جی ایم اوز کا ہاٹ لائن پر رابطہ، پاکستان نے بھارت کے دخل اندازی کے الزامات مسترد کردیے

بھارتی نجی چینل ’’این ڈی ٹی وی ‘‘ کے مطابق بھارتی فوج کے ڈارئیکٹر جنرل آف ملٹری آپریشن جنرل رنبیر سنگھ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ انہوں نے یہ معاملہ پاکستان کے سامنے اٹھایا ہے کیونکہ مقتول دہشت گردوں کے پاس سے برآمد کچھ ہتھیاروں پر پاکستان کے نشانات ہیں، ہندوستانی فوج دہشت گردوں کے ناپاک ارادوں کو ناکام بنانے کے لئے پوری طرح تیار ہے اور اس سلسلے میں ضروری کارروائی کی جارہی ہے۔جنرل رنبیر سنگھ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے اڑی سیکٹر میں قابض فوج کے بٹالین ہیڈ کوارٹر پر ہونے والے حملے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ چاروں حملہ آور انتہائی تربیت یافتہ تھے اور ان کے پاس انتہائی جدید اسلحہ اور گولہ و بارود بھاری تعداد میں موجود تھا۔

جنرل رنبیر سنگھ نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق تمام دہشت گرد جیش محمد کے ہیں، انہوں نے یہ بھی بتایا کہ دہشت گردوں کے قبضے سے 4 اے کے 47 رائفل اور 4 اڈربیرل گرینیڈ لانچر برآمد ہوئے ہیں اور دہشت گردوں سے برآمد ہونے والیسامان پر پاکستان کی مہر لگی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہندوستانی فوج کسی بھی ناپاک ارادے کو ناکام بنانے کے لئے پوری طرح تیار ہے اوردشمن کے کسی بھی شرانگیز منصوبے کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ فوجی دستوں نے علاقے میں تلاشی مہم شروع کی ہے،حالانکہ اس کی تفصیلی معلومات ابھی نہیں ملی ہیں،ہمارے فوجی جوانوں نے بہت ہی پیشہ ورانہ ڈھنگ سے یہ مہم سر کی اور غیر معمولی حوصلے کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ خفیہ ایجنسیاں بہت باریکی سے سیکورٹی دستوں کے ساتھ کام کررہی ہیں اور سبھی ضروری قدم اٹھائے جارہے ہیں۔

مزید پڑھیں:روایتی ہٹ دھرمی؟ بھارتی میڈیا نے فوجی اڈے پرحملے کی مکمل تفصیلات سے پہلے ہی اسے پاکستانی گیم پلان قرار دے ڈالا

دوسری طرف این ڈی ٹی وی کا کہناتھا کہ جس وقت حملہ آوروں نے بھارتی فوجی ہیڈ کوارٹر پر حملہ کیا اس وقت سیکیورٹی تھوڑی نرم ہوتی ہے کیونکہ یہ وقت فوجی شفٹ کی تبدیلی کا وقت ہوتا ہے۔بھارتی ٹی وی کا کہنا تھا کہ حملہ آور ہیڈ کوارٹر کے گرد لگی تار کو کاٹ کر اندر داخل ہوئے ، اور سیدھا ڈوگرا رجمنٹ کے کیمپ کی طرف گئے جہاں فوجی سورما سوئے ہوئے تھے کہ اچانک ان پر قیامت ٹوٹ پڑی اور حملہ آوروں نے بھارتی فوج کو سنبھلنے کا بھی موقع نہیں دیا۔دوسری طرف بھارتی ٹی وی نے ایک اعلیٰ افسر کا نام لئے بغیر پاکستان پر الزام عائد کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پاکستانی وزیر اعظم نے اقوام متحدہ میں 21 ستمبر کو خطاب کرنا ہے اس سے پہلے اس طرح کے مزید حملے بھی ہو سکتے ہیں۔اس بے نام بھارتی افسر کا کہنا تھا کہ پاکستان نے طے کر لیا ہے کہ اقوام متحدہ اور عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کو بھر پور انداز میں اٹھانا ہے ۔

مزید : بین الاقوامی /اہم خبریں