میر مرتضیٰ بھٹوکی جمہوریت کے لئے جدوجہد

میر مرتضیٰ بھٹوکی جمہوریت کے لئے جدوجہد
 میر مرتضیٰ بھٹوکی جمہوریت کے لئے جدوجہد

  



ملک میں جمہوریت اور جمہوری روایات بھٹو خاندان کے لہو سے پرورش پاتی رہی ہیں۔ میر مرتضیٰ بھٹو ضیاء آمریت کو ملک کی تباہی سمجھتے تھے۔ 18مارچ 1978ء کو جب بھٹو صاحب کی سزا کا فیصلہ آیا تو میر مرتضیٰ بھٹو اس وقت آکسفورڈ میں زیر تعلیم تھے۔

خاندان کے دیگر افراد کی طرح ان کے لئے بھی صورت حال المناک تھی مگر میر مرتضیٰ بھٹو نے ہمت نہ ہاری ۔ اپنے والد ذوالفقار علی بھٹو کی جان بچانے کے لئے انہوں نے کئی دوست ممالک کے سربراہوں سے رابطہ کیا۔ شیخ زید بن سلطان النہیان، معمر قذافی، حافظ الاسد اور یاسر عرفات انہیں بیٹوں کی طرح چاہتے تھے۔ لیکن دوسری طرف یہ ایک ایسا وقت تھا کہ پتہ نہیں چلتا تھا، اعتبار کس پر کیا جائے۔ اس زمانے کی بات ہے۔

محترمہ بینظیر بھٹو شہید نے میر مرتضیٰ بھٹو کے لئے کسی کے ہاتھ بعض اہم کاغذات بھیجے۔ کاغذات لانے والے نے وہ ’’کسی اور‘‘ کے حوالے کردئیے۔ ان کاغذات میں موجود تفصیلات بعد ازاں پاکستان ٹائمز میں شائع ہوئیں۔ اس واقعہ کے بعد بی بی کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی اور مرتضیٰ بھی محتاط ہوگئے۔

بھٹو صاحب کو سزائے موت کے فیصلے کے بعد میر مرتضیٰ بھٹو اور میر شاہنواز بھٹو تعلیم چھوڑ کر لندن آگئے تو میرا ان سے دن رات کا ساتھ ہوگیا۔ وہ ہفت روزہ مساوات کے پبلشر جبکہ مَیں ایڈیٹر تھا۔ مساوات نے ہمیں ایک دوسرے کے بہت قریب کردیا تھا۔ لندن کے ابتدائی دنوں میں مرتضیٰ اور شاہنواز غلام مصطفےٰ کھر کے ساتھ ایک ہی فلیٹ میں رہتے تھے۔ غیر ممالک کے سفر کے دوران بھی میر مرتضیٰ بھٹو کے ساتھ کھر ہوتے۔ انہیں کھر پر اعتماد تھا، مگر بعد میں بدگمانی نے اعتماد کا رشتہ ختم کردیا۔ جولائی 1977ء کے بعد سے مَیں مسلسل بی بی کے رابطے میں تھا۔ جنرل ضیاء الحق کے کارندے بھٹو خاندان کے خون کے پیاسے تھے۔

وہ میر مرتضیٰ بھٹو اور شاہنواز بھٹو کو ختم کرنے کی سازشوں میں مسلسل لگے رہتے تھے جس کی وجہ سے مَیں ان کے بارے میں فکر مند رہتا تھا۔ جنوری 1984ء میں محترمہ بینظیر بھٹو کی آمد کے بعد مَیں ان کا میڈیا ترجمان تھا۔ اس زمانے میں مجھے ذاتی سطح پر بھی انہیں قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ بی بی کو میر مرتضیٰ اور میر شاہنواز بھٹو سے والہانہ محبت تھی۔ بھٹو صاحب کی شہادت کے بعد تو بڑی بہن کی حیثیت سے بھی وہ ایک فرض سمجھتی تھیں کہ دونوں بھائیوں کا خاص خیال رکھیں۔

فوجی آمر کے ہاتھوں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت نے میر مرتضیٰ پر گہرا اثر ڈالا۔ عالمی جیورسٹ کانفرنس کے بعد انہوں نے جوش جذبات میں کابل جانے کا غلط فیصلہ کیا۔ اس وقت افغانستان میں صدر ترکئی کا انقلاب آچکا تھا۔

خلیجی ریاستوں میں میر مرتضیٰ کے کابل جانے کو پسند نہ کیا گیا اور ان کے لئے حمایت کم ہوئی، شیخ زید بھی ناراض ہوگئے۔ میر مرتضیٰ اور میر شاہنواز بھٹو نے وہاں دو بہنوں سے شادیاں کرلیں۔ سیاسی جدوجہد کی بجائے انہوں نے مسلح مزاحمت کا راستہ اختیار کیا۔ اسی دوران پی آئی اے کے جہاز کی ہائی جیکنگ کا واقعہ ہوا۔

اس واقعہ کے بعد میر مرتضیٰ بھٹو پر پوری دنیا میں ہوائی سفر پر پابندیاں لگ گئیں۔ مسلح مزاحمت کے راستے پر وہ آگے بڑھتے رہے۔ 1985ء میں میر شاہنواز بھٹو کی پرُاسرار حالات میں موت ہوگئی۔ میر مرتضیٰ بھٹو نے اپنی بیوی فوزیہ سے علیحدگی اختیار کرلی کیونکہ وہ شاہنواز کی بیوی ریحانہ کی بہن تھیں۔ انہوں نے بیٹی فاطمہ کو لیا اور دمشق آگئے۔

حالات بدل رہے تھے لیکن وہ اس حد تک بہتر نہیں ہوئے تھے کہ میر مرتضیٰ بھٹو وطن واپس آسکتے۔ وہ پاکستان آنا چاہتے تھے۔ ان کے دوست اور خیرخواہ انہیں سمجھا رہے تھے کہ ابھی وطن واپس نہ جائیں۔ شامی حکام نے انہیں بتایا کہ پاکستان میں ان کی جان کو خطرہ ہے مگر وہ اپنی بات پر بضد رہے۔ وہ شام سے پاکستان آگئے۔ انتخابات میں حصہ لیا مگر بڑی مشکل سے ایک سیٹ جیت سکے۔

بعض طاقتوں نے بی بی اور میر مرتضیٰ بھٹو کے درمیان اختلافات کو شدید بنانے کی کوشش کی لیکن بی بی ہمیشہ تحمل کا مظاہرہ کرتیں اور میر مرتضیٰ کو کسی نہ کسی واسطے سے سمجھانے کی کوشش میں رہتیں۔ جن دنوں میں میر مرتضیٰ بھٹو کابل میں تھے پاکستان میں ان کے پارٹی ورکر، والدہ اور بہن تکالیف برداشت کررہے تھے۔ وہ سفر نہیں کرسکتے تھے لہٰذا شام سے ایک پاسپورٹ بنوایا جس پر ڈاکٹر صلاح الدین کے نام سے سفر کیا کرتے۔

جلاوطنی کے دنوں میں میر مرتضیٰ بھٹو نے مجھے ایک خط لکھا۔ انہوں نے لکھا ’’مَیں مدت سے انگلینڈ نہیں آسکا۔ ابھی یہ نہیں بتاسکتا کہ فی الوقت کہاں ہوں۔ مَیں یورپ میں اپنے بعض لوگوں کی گفتگو سن کر مایوس ہوا ہوں مَیں ان لوگوں کے شکوک دور کرنے کے لئے کوشش کروں گا۔ پاکستان سے باہر صرف مساوات انٹرنیشنل ہی ہماری جماعت کا باقاعدہ ترجمان ہے۔ اس کا اداریہ ہماری آفیشل پالیسی کا عکاس ہوتا ہے۔

مساوات کے ساتھ ہماری پارٹی کی چیئرمین بیگم صاحبہ اور پارٹی کے بانی شہید ذوالفقار علی بھٹو کی دعائیں ہیں۔ ہمارا اخبار سنسنی پھیلانے والا نہیں ہے۔ یہ رطب و یابس نہیں اور نہ ہی اسے ہائیڈ پارک کی کسی گپ سے سروکار ہے۔ اسے راجہ بازار کی کہانیوں سے بھی کوئی لینا دینا نہیں۔ یہ ایک سنجیدہ سیاسی اخبار ہے جسے ان تمام لوگوں کو پڑھنا چاہئے جو سیاسی پیشرفت میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس میں پارٹی سے متعلقہ خبریں اور پارٹی پالیسی کو اہمیت دی جاتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ماضی کی طرح اس بار بھی آپ بھرپور عزم کے ساتھ اپنے مشن کے لئے کام کرتے رہیں گے۔ میری مکمل تائید آپ کے ساتھ ہے جیسے آپ کو میرے خاندان کا مکمل اعتماد ہمیشہ سے حاصل رہا ہے۔ شہید بابا کو ان کیلئے جدوجہد کرنے پر آپ کو یقیناً فخر ہوگا۔‘‘

میر مرتضیٰ بھٹو دراز قامت، خوش شکل اور حس مزاح سے آراستہ تھے۔ ان سے تعلق میں کئی موڑ آئے مگر محبت اور باہمی احترام کا رشتہ کبھی کمزور نہیں ہوا۔ 1993ء میں وطن واپس آنے کے بعد بی بی اور میر مرتضیٰ کے درمیان کچھ لوگوں نے غلط فہمیاں پیدا کرنا شروع کردیں۔ وہ سمجھتے تھے کہ شاید انہیں سیاسی کردار ادا کرنے سے روکا جارہا ہے۔ دوسری طرف بی بی کو میر مرتضیٰ بھٹو کی جان کی فکر تھی۔

پھر وہ المیہ رونما ہوگیا۔ 20ستمبر 1996ء کو سرِراہ پولیس سکواڈ نے انہیں گولیاں ماردیں۔ وزیراعظم بینظیر بھٹو بھائی کی موت پر تڑپ اٹھیں، بیگم نصرت بھٹو بیہوشی کی حالت میں تھیں، میر مرتضیٰ کی سالگرہ کے لئے بیگم صاحبہ لندن سے جو تحائف لے کر آئی تھیں وہ بکھرے پڑے تھے، فاطمہ اپنے باپ کے صدمے کو برداشت نہیں کرپارہی تھی، اس کے لئے سب کچھ ختم ہوچکا تھا۔ حالات کی ستم ظریفی نے فاطمہ اور ذوالفقار علی بھٹو جونیئر کو اپنی پھوپھی بینظیر سے دور کردیا اور ان میں پیار و محبت اور شفقت کا رشتہ وقت کی بے رحمی کا شکار ہوگیا۔

پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اپنی تقاریر اور گفتگو میں کئی بار میر مرتضیٰ بھٹو کا ذکر کرچکے ہیں۔ جمہوریت کی بحالی اور آمریت کے خلاف مزاحمت کے دوران میر مرتضیٰ بھٹو نے راستہ ضرور الگ چنا مگر منزل وہی تھی جس کی طرف شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اشارہ کیا تھا۔ بلاول بھٹو 21ستمبر 1988ء کو پیدا ہوئے۔ اس ماہ وہ اپنی 29ویں سالگرہ منارہے ہیں۔ میر مرتضیٰ بھٹو 18ستمبر 1954ء کو پیدا اور 20ستمبر 1996ء کو قتل ہوئے۔ یہ تینوں تاریخیں اہم ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری اپنے نانا اور والدہ کے نظریات کی پیروی کرتے ہوئے پارٹی چلارہے ہیں۔ بلاول اس حقیقت سے آشنا ہیں کہ میر مرتضیٰ بھٹو کا قتل دراصل وزیراعظم بینظیر بھٹو کا سیاسی قتل تھا۔

مزید : کالم