کچھ علاج اس کا بھی اے چارہ گراں۔۔۔!

کچھ علاج اس کا بھی اے چارہ گراں۔۔۔!
کچھ علاج اس کا بھی اے چارہ گراں۔۔۔!

  

10مئی1857ء کو انگریز کے خلاف جنگِ آزادی کے آغاز سے کچھ عرصہ پہلے سے ہی دہلی شہر اور نواحی علاقوں میں یہ افواہ زوروں پر تھی کہ ایران کا بادشاہ ایک طاقتور فوج تیار کررہا ہے تاکہ ہندوستان پر حملہ آور ہوکر انگریزوں کے بڑھتے اثر کو ختم کرسکے۔ کم و بیش اسی قسم کا واہمہ لوگوں کو افغانستان کے امیر کے بارے میں بھی تھا۔ دہلی کے چند مغل پرست اخبار نویسوں نے ان افواہوں کو مستند گردانتے ہوئے اپنے اخباروں میں بھی جگہ دی۔

ان خبروں میں چونکہ مغل اپنی حکومت کا احیاء دیکھتے تھے، لہٰذا ان کے حمائتیوں میں یہ افواہیں بہت مقبول ہوئیں، خود بوڑھا شہنشاہ بہادر شاہ ظفر اپنی بیگمات اور داشتاؤں کے جھرمٹ میں بیٹھ کر یہ خبریں چٹخارے لے لے کر سنتا اور استغفار کی عمر میں رنگین سپنے دیکھتا رہا۔ بہادر شاہ ظفر کی خوش فہمیوں نے جنگ آزادی کے کئی اہم مواقع پر اسے اپنا کردار تاریخ میں امر کرنے سے محروم رکھا۔ یہاں یہ بات کہنا بہت ضروری ہے کہ خوش فہمی کا یہ مرض ہر دور میں ہماری سوچوں پر حاوی رہا ہے، وہ ماضی بعید کی داستانیں ہوں یا ماضی قریب کی جیسے سقوط ڈھاکہ کا واقعہ، جب ایسٹرن کمانڈ کا سالار خود کوئی مناسب جنگی پلان بنانے کی بجائے مغربی پاکستان کے محاذ جنگ کی طرف دیکھتا اور امریکی بحری بیڑے کے انتظارمیں ذلت کی خلیج میں غرق ہوگیا، ہمارا حال ابھی تک انہی خوش فہمیوں سے مزین ناقص پالیسیوں کی اپنی مثال آپ ہے۔

سوال یہ ہے کہ ہم خود کب سوچیں گے؟ خود کب اپنی سوچ اور سمجھ سے عمل کریں گے اور ہم ان خوش فہمیوں کا شکار ہوتے کیوں ہیں؟میری دانست میں عمل سے عاری اور اخلاقی طور پر دیوالیہ ہر قوم اسی بیماری میں مبتلا ہوجاتی ہے، کیونکہ اسے اپنی قوتِ بازو اور استعدادکار پر بھروسہ ہی نہیں رہ جاتا اور وہ ہمیشہ کسی اور کی دستِ نگربنی رہتی ہے، جیسے ہم ہیں۔۔۔ کبھی امریکہ، کبھی سعودی عرب اور کبھی چین کے کاسہ لیس۔اس کاسہ لیسی کے خلاف سب سے بڑا رد عمل سماجی سطح پر نظر آتا ہے، عام لوگوں بالخصوص نوجوان طبقے میں اپنے مقتدر طبقے کے خلاف یہ سوچ جنم لے رہی ہے کہ یہ طبقہ انہی کی جی حضوری اور خوشامد میں مگن رہے گا، جن کی کاسہ لیسی کرتا ہے۔

یہ سوچ اپنے لئے کوئی مناسب چینل نہ ملنے کی صورت میں ان گروہوں کو مضبوط کرتی ہے، جو کسی دشمن کے کہنے پر ملک کو کمزور کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں، کیونکہ نوجوان حالات سے مایوس ہو کر ان گروہوں کو جوائن کرلیتے ہیں۔ ان میں پڑھے لکھے اور ان پڑھ سبھی شامل ہیں، بلکہ پڑھے لکھے، شعور رکھنے اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں سے بھرپور نوجوان اضطرابی کیفیت میں جلد اس لیول تک آجاتے ہیں اور ان گروہوں کے لئے آسان شکار بن جاتے ہیں۔

اس کی ایک مثال کراچی میں حالیہ دنوں میں ہونے والی گرفتاریاں ہیں، جہاں ایک دہشت گرد گروہ کا سراغ ملنے کے بعد کارروائی میں گرفتار ہونے والے یا نشاندہی ہونے والے تمام لوگ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔

لوگوں میں اضطرابی کیفیت پیدا کرنے والے عوامل قومی اور بین الاقوامی دونوں طرح کے ہیں، مثلاً برمی فوج اور بدھ بھکشوتوں کے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف مظالم کی تصاویر اور ویڈیوز نے پوری دنیا میں پریشانی کی لہر دوڑا دی ہے۔

سمجھ بوجھ رکھنے والے لوگ چاہے وہ مسلمان ہیں یا غیر مسلم، اس ظلم کے خلاف سراپا احتجاج نظر آتے ہیں۔ہم پاکستانی مسلمان بالخصوص امتِ مسلمہ کی اس مظلوم ترین آبادی پر ہونے والے ستم سے رنجیدہ ہیں۔ پورے ملک میں اس حوالے سے انتہائی تشویش پائی جاتی ہے اور لوگ احتجاج کر رہے ہیں، مگر ساتھ ہی ساتھ انہیں اس امر کا گلہ بھی ہے کہ مقتدر طبقے کی طرف سے ان مظلوموں کے حق میں کوئی واضح اعلان نہیں ہوا۔ سماجی و سیاسی تنظیموں نے اپنے طور پر جو بھی کہا ہو، حکومت نے آج تک اس ظلم کی کھل کر نہ مذمت کی ہے اور نہ ہی برمی سفیر کو پاکستانیوں کے جذبات سے کھل کر آگاہ کیا ہے۔افغانستان، شام، عراق اور یمن کے حالات پر بھی یہی گومگوکی کیفیت ہے، مبہم اور غیر واضح جس سے نہ اندرونی طور پر عوام خوش ہیں، نہ ہی بیرونی دوست مطمئن۔

کیا ہی بہتر ہو کہ ان تمام معاملات پر قوم کو اعتماد میں لے کر باشعوور اور باغیرت قوموں کی طرح واضح موقف سامنے لایا جائے تاکہ نہ صرف یہ کہ ہمارے مظلوم مسلمان بھائیوں، بہنوں کی مدد کی جاسکے، بلکہ اندرون ملک بھی جنم لینے والے رد عمل کو قابو میں رکھا جاسکے۔ یہ جان لینا بہت ضروری ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف توپوں سے ممکن نہیں، اس کے لئے مشاورتی عمل کو وسیع کرکے درست سمت کا تعین اور قومی غیرت کے منافی اقدامات سے اجتناب بہت ضروری ہے ورنہ معاشرے سے اضطرابی کیفیت کبھی ختم نہیں ہوگی اور دہشت گردوں کو فدائی ملتے رہیں گے۔

مزید :

کالم -