بلوچستان وارث کی تلاش میں ہے

بلوچستان وارث کی تلاش میں ہے
بلوچستان وارث کی تلاش میں ہے

  

بلوچستان رقبے کے اعتبار سے بڑا مگر آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹا صوبہ ہے پورے پاکستان کی طرح اس سال بلوچستان میں بھی مردم شماری کروائی گئی ہے۔ پاکستانی آئین کے مطابق ہر دس سال بعد پورے ملک میں مردم شماری کروانا لازمی ہے مگر پاکستان میں مردم شماری بہ مشکل بیس بیس سال کے بعد ہوتی ہے اس سال بھی مردم شماری سپریم کورٹ کے حکم پر19 برس بعد شروع ہوئی ہے چھٹی مردم شماری کی کامیابی پہ حکمران طبقہ بہت خوش ہے مگر اپوزیشن اس مردم شماری کو بالکل پسند نہیں کررہی ۔حالیہ مردم شماری میں شامل تین لاکھ سرکاری ملازم اور دو لاکھ فوجی جوان بھی شامل تھے، آخر یہ عمل 19برس بعد پایہ تکمیل کو پہنچ گیا۔

چھٹی مردم شماری کے تحت بلوچستان کی کل آبادی 1کروڑ 23 لاکھ ہے۔ ادارہ شماریات نے 2017ء کی مردم شماری کے ضلع وار نتائج بھی جاری کردیئے ہیں۔ اس مردم شماری کے ہم سب پہ کیا اثرات ہو گے نہ ہم جانتے نہ حکمران طبقہ جانتا ہے ۔ کیا ہم سب اس آبادی کے تناسب سے آنے والے وقتوں میں ترقی کریں گے یا نہیں یہ وقت ہم سب کو بتائے گا۔

صوبہ بلوچستان میں 1998 سے2017 تک آبادی میں سالانہ اضافے کی شرح 3.37 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے ۔ 1998ء میں صوبے کی مجموعی آبادی 65 لاکھ 65 ہزار 885 تھی۔ جبکہ رواں سال 15مارچ سے 25 مئی تک ہونیوالی ملک کی چھٹی مردم شماری کے نتائج کے مطابق بلوچستان کی کل آبادی ایک کروڑ 23 لاکھ 44 ہزار 408 نفوس پر مشتمل ہے جس میں مردوں کی تعداد 64لاکھ 83 ہزار653 جبکہ خواتین کی تعداد 58 لاکھ 60 ہزار 646 ہے۔جبکہ پورے صوبہ بلوچستان میں کچے پکے مکانات کی تعداد 17 لاکھ 75 ہزار 937 ہے ۔ دیہی علاقوں میں 13لاکھ 1ہزار 212 مکانات موجود ہے۔ شہری علاقوں میں 4لاکھ 74ہزار 725 مکانات موجود ہیں۔ یہ مکانات پورے ملک میں سب سے کم صوبہ بلوچستان میں وجود رکھتے ہیں جو حیرت انگیز بات ہے پورے ملک کو گیس سپلائی کرنے والا صوبہ کچے مکانات سے بھرا پڑا ہے۔

صوبہ بلوچستان 1956 ء کے آئین کے تحت بلوچستان کو مغربی پاکستان کے ایک یونٹ میں ضم کر دیا گیا۔ جب 1970 ء میں عام انتخابات ہوئے تواسمیں پہلی بار اس کو ایک الگ صوبہ کی حیثیت حاصل ہوئی تھی۔ بلوچستان سے ایک ہی ضلع سے دو معروف شخص وزیر اعظم پاکستان منتخب ہوئے ہیں۔ مشرف دور میں الحاج میر ظفر اللہ خان جمالی اور پچھلی بارنگران حکومت میں حاجی میر ہزار خان کھوسہ ،سابق جسٹس و سابق گورنر ضلع جعفر آباد سے تعلق رکھتے ہیں ان لوگوں نے بھی بلوچستان کو ترقی کی راہ پہ گامزن کرنے کیلئے کوئی اہم اقتدام نہیں اٹھایا تھا۔

بلوچستان زمانہ قدیم سے قدرتی وسائل و ذخائر سے مالامال خطہ ہے۔جہاں تیل ، گیس ،سونا تانمبا، ریکوڈک، دو اہم بندرگائیں موجود ہیں لیکن ان خزانوں نے بھی بلوچستان میں کوئی خاص تبدیلیاں پیدا نہیں کیں،یہ وسائل کہاں گئے یہ کوئی نہیں جانتا ہے۔ بلوچستان میں موجود ہ صوبائی حکومت بھی اقتدار میں ہونے کے ساتھ ساتھ بے اختیار نظر آتی ہے۔ اصل میں اس لاوارث صوبہ کو وارث کی تلاش 70 سالوں سے ہے جو بلوچستان کے مسائل پرنظر ثانی کر کے اس کے تمام مسائل کوفوری طور پر حل کرسکے۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -