کشمیر میں نئی سیاسی جماعت یا پہلی حقیقی سیاسی جماعت؟ (1)

کشمیر میں نئی سیاسی جماعت یا پہلی حقیقی سیاسی جماعت؟ (1)
کشمیر میں نئی سیاسی جماعت یا پہلی حقیقی سیاسی جماعت؟ (1)

  

آزاد جموں و کشمیر میں ایک نئی جماعت ’’جموں و کشمیر لیبرپارزٹی‘‘ کی بنیاد رکھی جا چکی ہے جو اپنے ابتدائی خدوخال بنانے کے مراحل سے گزر رہی ہے۔ جہاں عوام کا ایک جم غفیر لیبرپارزٹی پر گل پاشی کرتے ہوئے اسے خوش آمدید کہہ رہا ہے وہیں پر کچھ لوگ سوالات کی پوچھاڑ کرنے میں بھی مصروف ہیں۔ ان سوالات میں سرفہرست سوالات کی جھلکیاں اور ان کے جوابات ذیل میں ملاحظہ فرمائیں۔ لیبرپارزٹی یا ایک نئی پارٹی کیوں بنائی جارہی ہے، کیا پہلے سیاسی جماعتوں کی کوئی کمی تھی؟ یہ کیسے کامیاب ہوگی اور نظام کیسے بدلا جائے گا؟ وسائل کہاں سے آئیں گے؟ اس میں لوگ کیسے ہوں گے ان کا ماضی کیسا ہوگا؟ اس کی کشمیر پالیسی کیا ہوگی اور یہ انتخابات کیسے جیتے گی؟ وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ان سوالات کے جوابات حاضر ہیں:آزادکشمیر میں اس سے پہلے کسی سیاسی جماعت کا وجود نہیں ہے، اگر کوئی بندہ یہ ثابت کر دے کہ کوئی جماعت ہے تو ہم بھی اس میں ضم ہو سکتے ہیں۔

کیونکہ ہم نے شوق سے نہیں بلکہ با امر مجبوری یہ جماعت بنائی ہے۔ پہلے یہ سمجھنا ہوگا کہ سیاسی جماعت ہوتی کیا ہے اور کیوں بنائی جاتی ہے۔ دنیا میں جمہوریت کی ابتداء اڑھائی ہزار سال قبل مسیح ایتھنز اور سپارٹا (موجودہ یونان) کی دو ریاستوں سے ہوئی تھی۔ تب ہی سے نظریاتی سیاست کی ابتدا ہوئی، لیکن نظریات اور اختلاف رائے تو انسانوں کے ابتدائی خاندان سے ہی سامنے آگیا تھا۔ کیونکہ اللہ تعالی نے ہر ذی شعور کو الگ دماغ اور شعور عطا فرمایا ہے۔ اس لئے ہر انسان اپنے ہی دماغ سے سوچتا ہے کبھی دو ذہن مکمل طور پر ایک نہیں ہو سکتے چاہے وہ ایک ہی جوڑے کی اولاد ہی کیوں نہ ہوں۔ اس لئے اختلاف لازمی ہے، لیکن دوسری طرف یہ بھی ہے کہ ہم ایک دوسرے کے بغیر رہ بھی نہیں سکتے۔ اسی چیز کو سامنے رکھتے ہوئے جمہوریت کا تصور سامنے آیا کہ انسان آپس میں بحث مباحثے کے بعد کسی نتیجے پر متفق ہو جائیں۔ اور اہل لوگوں کو ذمہ داریاں سونپی جائیں۔ اسی لئے دنیا میں مختلف الخیال سیاسی جماعتیں معرض وجود میں آتی ہیں۔ کوئی جماعت بغیر نظریے کے نہیں بن سکتی۔

اس کی ایک نظیر یہ ہو سکتی ہے کہ برطانیہ میں کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ ہم سرمایہ دارانہ نظام لائیں اور سرمایہ داروں کو سہولیات دے کر ان کو مضبوط کیا جائے، تاکہ ملک میں سرمایہ آئے اور لوگ خوشحال ہوں،جبکہ دوسرے لوگوں کا خیال تھا کہ مزدوروں اور نچلے طبقے کو ریلیف دیا جائے ان کو بااختیار بنا کر ملک میںِ خوشحالی لائی جا سکتی ہے۔ اس طرح پہلے خیال کے لوگوں نے اپنی سوچ پر ایک جماعت قائم کر لی اور دوسرے خیال والوں نے لیبر کے نام سے دوسری جماعت قائم کر لی، لیکن دونوں ہی اپنے اپنے طریقے سے اپنے ملک کی بہتری چاہتے ہیں۔ اور ہر پانچ سال کے بعد فیصلہ عوام کرتے ہیں کہ کس جماعت کو ملک چلانے کا اختیار دینا ہے۔ اسے نظریاتی سیاست کا نام دیا جاتا ہے اور یہی جمہوریت ہے۔ اب ان جماعتوں کے اندر بھی مختلف الخیال لوگ ہیں اور کئی معاملات پر اختلافات موجود ہوتے ہیں اور جماعت کے اندر اکثریت رائے سے فیصلے ہوتے ہیں، لیکن یہ خال خال ہی ہوتا کہ جماعت میں اختلافات شدت اختیار کر جائیں اور کوئی بندہ جماعت ہی کو خیرباد کہہ دے اور کبھی ایسا ہو بھی جائے تو وہ بندہ جماعت چھوڑ کر اگلے روز دوسری جماعت میں شامل نہیں ہو جاتا کیونکہ بہرصورت اس کا نظریہ تو وہی تھا، جس کی بنیاد پر وہ جماعت میں شامل ہوا تھا، جبکہ دوسری جماعت تو بنی ہی اس کے مخالف نظریے پر تھی تو وہ اس جماعت میں کیونکر جا سکتا ہے۔ اب ذرا واپس آزادکشمیر کی طرف آتے ہیں۔

پاکستان معرض وجود میں آیا تو پاکستان میں مسلم لیگ بڑی جماعت تھی اور قائداعظم محمد علی جناح اس کے قائد تھے۔ اور جب ریاست جموں و کشمیر جو تقسیم کے کلئے کے تحت پاکستان کا حصہ تھا کی اس وقت کی حکومت یا ڈکٹیٹر نے ریاست کا الحاق بھارت سے کرنے کا اعلان کر دیا۔ جسے کشمیری عوام نے مسترد کر کے پاکستان کے ساتھ شامل ہونے کے لئے جہاد کا اعلان کر دیا اور بہت جلد کشمیر کے ایک بڑے حصے پر قابض بھی ہو گئے۔ بھارتی فوج اکتوبر 1947ء میں کشمیر میں داخل ہوئی اور کشمیریوں پر جنگ مسلط کر کےّ کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کرنے کی کوشش شروع کی، لیکن جب کشمیری مجاہدین غالب آنے لگے تو بھارت نے اقوام متحدہ سے مداخلت کی اپیل کی اس طرح یہ معاملہ اقوام متحدہ میں چلا گیا اور اقوام متحدہ کی مداخلت پر جنگ بندی ہوئی اور فریقین جہاں جہاں تھے وہیں روک دیئے گئے اور اسے جنگ بندی لائن کا نام دے کر کشمیر میں استصواب رائے کی قراردادیں منظور کی گئیں۔

اب کشمیر کی آزادی اور الحاق پاکستان کے نظریات پر ایک جماعت آزاد جموں و کشمیر مسلم کانفرنس چوہدری غلام عباس کی قیادت میں قائم ہوئی جو مسلم لیگ کی متبادل کے طور پر کشمیر کی جماعت ٹھہری۔ باقی تاریخ ہے، لیکن اس جماعت کا شیرازہ بکھر چکا ہے اس کی وجوہات نظریے سے انحراف ہو، قیادت کی لڑائی ہو، اقرباء پروری ہو یا پاکستانی حکومتوں کی ریشہ دوانیاں ہوں۔ بہر صورت مسلم کانفرنس جماعت کا وجود باقی ہے نہ نظریہ۔ اس جماعت کے بعد جتنی جماعتیں بنائی گئی ہیں ان کا کوئی نظریہ ہے نہ تنظیم سازی، یہ محض مفاداتی ٹولے ہیں اور اقتدار حاصل کرنے کے سوا ان کا کوئی منتہائے مقصود نہیں ہے۔ نچلی سطح پر تو ان کی سرے سے کوئی تنظیم ہے نہ ممبر سازی کرتے ہیں۔

اور مرکزی عہدوں پر کبھی انتخابات کراتے ہیں نہ مجلس عاملہ کی کوئی حیثیت ہے۔ یہی ٹولے پاکستان میں حکومتی تبدیلی کے ساتھ ہی اپنا قبلہ بھی تبدیل کر لیتے ہیں۔ انتخابات میں حصہ برادری کے نام پر لیتے ہیں اور آئے روز جماعتیں تبدیل کرتے ہیں۔ کبھی تو شخصیات ایک جماعت سے دوسری جماعت میں چلی جاتی ہیں۔ تو کبھی پورا ٹولہ ہی دوسرے ٹولے میں گھس جاتا ہے۔ اب پاکستان میں تبدیلی کے ساتھ ہی آزادکشمیر کے ٹولیوں اور دھڑوں سے شخصیات پر تول رہی ہیں کہ کیسے پی ٹی آئی میں گھسا جائے۔ (جاری ہے)

مزید :

رائے -کالم -