اسرائیل میں دوبارہ انتخابات

اسرائیل میں دوبارہ انتخابات
اسرائیل میں دوبارہ انتخابات

  


اسرائیلی وزیراعظم(نگران وزیراعظم) نتن یاہو نے الیکشن جیتنے کے بعد مغربی کنارے کی مقبوضات کو اسرائیل میں ضم کرنے کا اعلان کر کے عالم عرب میں غم و غصے کی لہر دوڑادی ہے عربوں نے آرگنائزیشن آف اسلامک کو آپریشن کے وزرائے خارجہ کی کونسل کے سولہویں غیر معمولی اجلاس میں بھی اس معاملے پر غور و فکر کیا اور پھر ایک اعلامیہ جاری کیا کہ ”ہم قبول نہیں کریں گے“ ہم یہ کریں گے ”ہم وہ کریں گے“ وغیرہ وغیرہ۔ عرب و عجم کے مسلمان ممالک کی یہ تنظیم آج تک بیان بازی کے سوا کچھ بھی نہیں کر سکی۔عرب ممالک کی عرب لیگ کی بھی ایسی ہی صورت حال ہے وہ بھی آج تک کوئی قابل ذکر ٹھوس کام نہیں کر سکی ہے فلسطینی مسلمان جلاوطنی کی زندگیاں گزار رہے ہیں اور یہودی پوری دُنیا سے یہاں آکر ان کی زمینوں پر زندگیاں گزار رہے ہیں۔ گریٹر اسرائیل کی جغرافیائی سرحدوں بارے ایک بہت ہی جامع فقرہ اسرائیلی پارلیمنٹ کی پیشانی پر بھی درج ہے اور اسرائیل کی سرحدیں اسی کے تحت پھیلائی جا رہی ہیں۔ گزشتہ سال اسرائیل کا یروشلم کو اسرائیل کا دارلخلافہ قرار دینا اور اب نتن یاہو کا حا لیہ بیان اسی نقشے کی تکمیل کی طرف اگلا قدم ہے۔ مجوزہ فلسطینی ریاست کا قیام ویسٹ بینک اور غزہ کی پٹی کے علاقوں پر ہونا ہے جبکہ مشرقی یروشلم اس ریاست کا دارالحکومت ہونا تجویز کیا گیا تھا اسرائیل پہلے ہی مشرقی یروشلم کو بھی ریاست اسرائیل کے دارالحکومت میں شامل کرنے کا اعلان کر چکا ہے اور اب مغربی کنارے کے مقبوضہ علاقے کو اسرائیل میں ضم کرنے کا اعلان محض بیان نہیں وہ اس بیان کو عملی صورت دینے کے لئے پر عزم بھی دکھائی دیتے ہیں۔

نتن یاہو اسرائیلی تاریخ کے ایک تاریخی سیاسی رہنما ہیں وہ 2009ء سے اسرائیل کے وزیراعظم ہیں۔اس سے پہلے بھی وہ 1996-99ء میں وزیراعظم رہے ہیں اسطرح جدید اسرائیلی تاریخ میں وہ سب سے طویل مدت تک رہنے والے وزیراعظم ہیں اب وہ ایک بار پھر وزارت عظمیٰ کے لئے انتخابی میدان میں موجود ہیں۔ 1967 کی چھ روزہ عرب اسرائیل جنگ کے تھوڑے ہی عرصے بعد آرمی جانن کی اور چھ سال تک فوجی خدمات سر انجام دیتے رہے 1973ء میں کپتان کے رینک کے ساتھ فوج سے ڈسچارج ہوئے ایم آئی ٹی سے بیچلرز اور پھر ماسٹرز کی ڈگری لینے کے بعد بوسٹن کنسلٹنگ گروپ میں شمولیت اختیار کی وزیراعظم اسحاق شمیر نے انہیں 1984ء میں اقوام متحدہ میں اسرائیل کا مستقبل نمائندہ مقرر کیا۔ جہاں وہ 1988ء تک تعینات رہے پھراسرائیلی پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوئے اور 1993ء میں لکڈ (LIKUD) پارٹی کے سربراہ مقرر ہوئے۔ 1996ء کے الیکشن میں پارٹی کو فتح دلائی اور اسرائیل کے کم عمر ترین وزیراعظم منتخب ہو گئے 1999ء میں انتخابی شکست کے بعد سیاست چھوڑ کر نجی شعبے کے ساتھ وابستہ ہو گئے کچھ عرصے بعد دوبارہ سیاست میں قدم رکھا اورایریل شیرون کی حکومت میں وزیر خزانہ اور وزیر خارجہ کے طور پر خدمات سر انجام دیں۔ انہوں نے اسرائیلی معیشت کو بہتر بنانے کے لئے کئی کامیاب ریفارمز کیں اور اسرائیلی معیشت کو مستحکم بنایا۔

دسمبر 2005ء میں نتن یاہو لکڈ پارٹی کے دوبارہ سربراہ بنے اور 2009ء کے انتخاب میں لکڈ پارٹی دوسرے نمبر پر آئی، لیکن انہوں نے کولیشن گورنمنٹ بنائی۔ اس کے بعد لکڈ پارٹی نے 2015,2013ء کے انتخابی معرکے یاہوکی قیادت میں سر کئے اور وہ اس وقت سے اسرائیل کے وزیراعظم ہیں 2016ء سے ان کے خلاف کرپشن کی تحقیقات ہو رہی ہیں 2019ء کے انتخابات میں کوئی بھی جماعت حکومت سازی کرنے کے قابل نہیں ہو سکی اِس لئے دوبارہ انتخابات ہوئے اور نتائج بارے توقعات ہیں کہ نتن یاہو حکومت سازی کریں گے۔نتن یاہو میڈیا کی نہ صرف ضرورت اور اہمیت سے کما حقہ واقف ہیں،بلکہ اسے استعمال کرنے کا سلیقہ بھی جانتے ہیں انہوں نے اپنے طویل سیاسی و غیر سیاسی کیرئیر کے دوران اپنی شخصیت کے بارے میں ایک عالمی شخصیت ہونے کا تاثر پیدا کیا۔ اپنے عالمی رابطوں کو اُجاگر کیا ہے اور اسی تاثر کو حالیہ انتخابات میں بھی استعمال کیا ہے۔

نتن یاہو فلسطین کے مسئلے کے بارے میں بڑی واضح رائے رکھتے ہیں 2009ء میں امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے جب فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعلان کیا تو یاہو نے اس کی مخالفت کی اور کہا کہ فلسطینی ریاست کے قیام بارے بات چیت صرف اس وقت ہو سکتی ہے جب فلسطینی اسرائیل کو یہودی ریاست تسلیم کریں۔ یروشلم کو بلا تقسیم اسرائیل کا دارلحکومت مانیں اور اس بات کا بھی اعلان کریں کہ وہ اپنے آبائی علاقوں میں واپسی کا مطالبہ نہیں کریں گے اور ان کی فوج بھی نہیں ہو گی نتن یاہو نے مغربی کنارے میں واقع یہودی آبادی کے ”پھیلاؤ / بڑہوتی کے فطری حق“ کی بھی بات کی ہے۔ اب اسی نتن یاہونے اپنی الیکشن مہم میں اس بات کا واشگاف الفاظ میں اعلان کر کے عالم عرب میں ہلچل مچادی ہے کہ وہ مغربی کنارے کی یہودی آبادی کو اسرائیل میں شامل کرلے گا۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے نریندرا مودی نے اپنی الیکشن مہم میں ریاست جموں و کشمیرکو انڈین یونین میں ضم/ شامل کرنے کا وعدہ کیا تھا اور پھر 5 اگست 2019ء کو انہوں نے ایسا کر دکھایا۔ مودی سرکار نے اپنے خیالات کے مطابق اپنے انداز میں مسئلہ کشمیر حل کر کے رکھدیا ہے۔بالکل اسی طرح نتن یاہونے الیکشنوں کے دوران مغربی کنارے کی مقبوضات کو اسرائیل میں ضم کرنے کا جو وعدہ کیا ہے الیکشن جیت کر وہ اس وعدے کو یقینی طور پر پورا کریں گے اس طرح ریاست فلسطین کی مجوزہ تخلیق کا عمل اور بھی مشکل ہو جائے گا۔

اسرائیل نے تحقیق کے ذریعے صحراؤں کو لالہ زار بنانے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے صحرائے نگیومیں پانی کی فراوانی پیدا کر کے وہاں سبزیاں و پھل اگانے شروع کر دئیے ہیں سمندری پانی کو پینے اور زرعی مقاصد کے لئے استعمال کے قابل بنانے کی ٹیکنالوجی حاصل کر کے نہ صرف اپنی ضرورت کی سبزیاں، پھل اور پانی دستیاب کر لیا ہے، بلکہ یہ سب کچھ برآمد کرنا بھی شروع کر دیا ہے اسرائیل کی عرب ممالک کو پینے کا پانی بھی بیچ رہا ہے۔ انفارمیشن اینڈ کمیونیکشن ٹیکنالوجی اور 5-G ٹیکنالوجی کے ذریعے سائنسی اور فنی اختراعات پر بھی دسترس حاصل کر لی ہے، جس کے باعث نہ صرف اسرائیل کی معیشت مضبوط ہو گئی ہے،بلکہ اس کی سفارتی حیثیت بھی مسلم اور مستحکم ہے یہی وجہ ہے کہ اسرائیل اپنے طے کردہ اہداف کے حصول میں یکسو ہے جس طرح مودی نے کشمیر پر آئینی اور فوجی قبضہ کر کے مسئلہ کشمیر کو یکطرفہ طور پر حل کر کے رکھ دیا ہے بالکل اسی طرح نتن یاہو بھی مسئلہ فلسطین کو حل کرنے کی راہ پر چل رہے ہیں یہ سب کچھ چھپ چھپا کر نہیں،بلکہ کھلے عام کیا جا رہا ہے عرب، خواب و خرگوش کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ انجام، بھیانک انجام کی طرف بڑھتے ہوئے عرب انجان بنے ہوئے ہیں۔

مزید : رائے /کالم


loading...