عمران خان کا کراچی

عمران خان کا کراچی
عمران خان کا کراچی

  


فیض نے کہا تھا،…… ”جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے“…… شاید فیض نے یہ شعر سیاست دانوں کے بارے میں ہی کہا تھا۔ اقتدار سے نکلتے ہیں تو سیدھے جیل یاترا ان کا مقدرٹھہرتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ہمارا سسٹم کرپٹ ہے اور جو بھی اس نمک میں اترتا ہے نمک ہو جاتا ہے۔ پچھلے کچھ دن میں نے اسلام آباد میں گزارے۔ بڑی بڑی گاڑیاں،جنہیں حلال کمانے والا صرف حسرت سے دیکھ ہی سکتا ہے، ہر طرف بھاگی پھر رہی ہیں۔ بیوروکریٹ اور اتنی بڑ ی گاڑیاں اور وہ بھی ایک سے زیادہ۔ محکمہ تعلیم میں دیکھا ہے کہ انیس گریڈ کے استاد کے پاس چھوٹی سی گاڑی ہوتی ہے۔ صبح صبح گاڑی خود سٹارٹ ہو جائے تو اس کی مہربانی، ورنہ بیگم بھاگی آتی ہے۔ گاڑی کا کنٹرول سنبھالتی ہے اور صاحب پوری قوت سے دھکا لگاتے ہیں۔ تھوڑی تگ و دو کے بعد گاڑی چل پڑتی ہے۔ بیگم گھر واپس اور صاحب حلیہ ٹھیک کرتے ہوئے دفتر کو روانہ ہو جاتے ہیں بیسویں گریڈ کے پاس قدرے بہتر گاڑی اور اکیسویں کے پاس کرولا جیسی 1300CC پرانی کار۔ ایماندار آدمی کی اس سے زیادہ اوقات ممکن ہی نہیں۔لمبی لمبی گاڑیاں اور سرکاری ملازم …… ذہن قبول نہیں کرتا۔تحقیق کے بعد اندازہ ہواکہ ان لمبی لمبی گاڑیوں کے پچانوے(95) فیصد کے مالک سیاستدان، بیورو کریٹ یا دلال ہیں۔ اسلام آباد میں اصل اور سب سے بڑا کاروبار ہی دلالی ہے۔ آپ کو کچھ کام کروانا ہے۔ آپ کوشش کے باوجود ناکام ہیں۔ اتنے میں کوئی دلال آپ کے پاس پہنچ جائے گا۔ سودا کریں، اگلے دن کام ہو جائے گا۔ دلال کے بغیر ہر جائز کام ناجائز اور دلال سے مک مکا ہو جائے تو ہر ناجائز کام جائز ہو جاتا ہے۔ آپ سے لی گئی رقم بانٹ لی جائے گی۔ ہر مہینے اتنی معقول رقم دلال سیاستدانوں اور بیوروکریٹ کو ادا کرتے ہیں کہ بڑی گاڑی اور بڑا بنگلہ تو معمولی چیز ہو گئی ہے۔

کسی زمانے میں اسلام آباد کو بیوروکریسی کا قبرستان کہا جاتا تھا مگر جب سے دلالوں نے اسے جلا بخشی ہے، بیوروکریٹ خوشی سے وہاں کی پوسٹنگ پسند کرنے لگے ہیں۔نیا پاکستان بنانے والے ان رسوم اور اس دلال کلچر کا خود کو دشمن ظاہر کر آئے تھے، اسی سبب انہیں اس قدر پذیرائی ملی تھی، مگر سب اسی طرح ہے کچھ بدلا نہیں۔ بلکہ مزید یہ کہ ان کی نااہلیوں نے عوام کا جینا پہلے سے زیادہ مشکل کر دیا ہے۔ خان صاحب کی مخلصی پر تو کسی کو شک نہیں۔ اہلیت صفر ہونا انہوں نے خود ثابت کر دیا ہے۔تحریک انصاف سے انہیں ذرہ ہٹا کر دیکھیں تو پتہ چلے گا کہ کراچی جیسی صورت حال ہے۔عمران خان نے اپنے اس کراچی میں پرانی حکومتوں کا ساری کچرا اور گند خود اپنے دائیں بائیں اکٹھا کر لیا ہے جسے صاف کرنا اب ان کے بس کی بات بھی نہیں۔ یہ کچرا عمران خان کو آسانی سے ماموں بنا لیتا اور سب اچھا کی رپورٹ دیتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ کوئی بڑی تبدیلی ایک بار پھردستک دے رہی ہے۔ شاید اس کی ضرورت بھی ہے۔ فطرت کے اپنے اصول ہیں جو ٹل نہیں سکتے۔ حکمرانوں کو یہ بھی احساس نہیں کہ کشمیر کی صورت حال نے انہیں کچھ وقت دے دیا ہے، مگر حسب روایت یہ اسے بھی کھو دیں گے اور کوئے یار بھی۔

مہنگائی ہے کہ گھنٹوں کے حساب سے چھلانگیں لگا رہی ہے۔مجھے شاہدرہ کے قریب ایک جگہ جانا تھا۔ موٹر وے کا راستہ اختیا کیا۔ ٹول پلازہ پر نوٹس لگا تھا کہ ٹیکس میں دس فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے۔ مجھے پہلے انٹر چینچ پر ہی اترنا تھا سوچا پہلے تیس لیتے تھے اب تین روپے زیادہ سہی۔ انٹر چینچ پر انہوں نے چالیس وصول کئے۔ یوں اضافہ حقیقت میں پچیس فیصد ہے۔ شاید راؤنڈ کیا ہو گا۔ اعشاریہ میں اصول ہے کہ اگر اعشاریہ پانچ یا زیادہ ہو تو راؤنڈ کرکے اگلے نمبر میں ڈالتے ہیں اور اگر پانچ سے کم ہو تو نظر انداز کرتے ہیں۔ مگر وہ ریاضی ہے اور یہ حکومت، جس کا شروع دن سے یہی یہ وطیرہ ہے کہ ”کہو کچھ کرو کچھ“۔ ایک دوست کے ساتھ ایک سٹور سے خریداری کر رہے تھے۔ پتہ چلا مسور کی قیمت چار سو روپے ہو گئی ہے۔ میں جب سکول اور کالج میں پڑھتا تھا، لاہور کے ہر محلے میں ایک تنور ہوتا تھاجہاں غریب مزدور صرف دو روٹیاں خریدتے اور سالن کے طور پر کوئی پکی ہوئی دال مفت مل جاتی۔ دالیں غریب کی مجبوری کا کھانا تھا۔ اب یہ مرغ سے مہنگی ہے اس لئے کہ نئے پاکستان کی عمرانی دال ہے۔اگر یہی حکومت رہی تو ہو سکتا ہے اپنی اٹھان اور اونچی پرواز کے سبب ایک آدھ سال میں دال کھانا سٹیٹس سمبل بن جائے۔

بیروزگاری میں ہر لمحہ اضافہ ہو رہا ہے۔ چوکوں میں فقیروں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔سنا ہے ان کی آمدن پر بھی ٹیکس زیر غور ہے۔مہنگائی کی وجہ سے لوگوں کی آہ و زاریاں بڑھ رہی ہیں، ٹیکس وصولی یہاں بھی ضروری لگتی ہے۔ عوام کی آواز کو دبانے کے لئے وزراء کی بڑھک بازی بڑھ رہی ہے بڑھک کا ریٹ مقرر ہو گیا تو فواد چودھری اور شیخ رشید بڑے ٹیکس دہندہ یا ٹیکس چور ہوں گے۔ حد تو یہ ہے کہ ہر جگہ رشوت کا ریٹ بھی بڑھ گیا ہے۔ کوئی چیز اگر کم ہو رہی ہے تو حکومت کی مقبولیت یا حکمرانوں کا احساس ہے۔ عمران خان صاحب کے مانگے تانگے کے یا امپورٹڈ وزراء اور مشیر زمینی حقائق سے واقف ہی نہیں۔ ترقی یافتہ ملکوں اور ترقی پذیر ملکوں کا مزاج بہت مختلف ہوتا ہے۔ کوئی چیز نقل کرنے کے لئے اس کی اچھائیوں اور برائیوں سے مکمل واقفیت کے علاوہ عقل کا استعمال بھی بہت ضروری ہوتا ہے۔ ٹیکس زبردستی وصول کرنے اور ہر چیز کو لکھت پڑھت میں ڈالنے والوں کو اس کی اچھائیاں اور برائیاں نہ صرف پوری طرح پتہ ہوبلکہ ملک کے لٹریسی ریٹ کا بھی پتہ ہونا چائیے۔ یہاں کے لوگوں کی مجبوریوں کا احساس بھی ہونا چائیے۔ مگر یہ فرد واحد کے سوچنے کی بات ہے جو عوام کو جواب دہ ہے۔ مشیر تو کارروائی ڈالتے اور اپنا کام نکالتے ہیں۔ امریکی یا برطانوی نظام یہاں کیسے چل سکتا ہے؟

اچھی حکومتیں اور اچھے حکمران عوام کے بارے میں سوچتے ہیں، ان کی مجبوریاں جانتے ہیں ان پر ٹیکسوں کابوجھ کم ڈالتے ہیں۔ مگر اپنے اخراجات کنٹرول کرتے ہیں۔ موجودہ نئے پاکستان کے تمام وزیر پرانے پاکستان سے اپنا سب کچھ من و عن سمیٹ کر اپنے ساتھ لائے ہیں اور اپنے مفاد میں ہر اچھا برا کام کرنا بخوبی جانتے ہیں۔ ایک حکایت ہے کہ مغل بادشاہ جہانگیر سرہند کے دورے پر تھا تو وہاں کے محصولچی نے بتایا کہ وہ تیرہ من سونا اکٹھا کر چکا ہے، اگر بادشاہ حکم نامہ جاری کر دے تو وہ مالدار ہندوؤں سے مزید محصول عائد کرکے روزانہ تین من سونااکٹھا کر سکتا ہے۔بادشاہ نے کہا کہ جو مال و زر اس کے پاس ہے، پہلے وہ لے آئے۔ اگلے دن محصولچی قیمتی لباس پہنے، گلے میں ایک لاکھ مالیت کا موتیوں کا ہار پہنے، خوش خوش اپنی ترقی کی امید پر خزانے سمیت بادشاہ کے روبرو پیش ہوا۔بادشاہ نے حکم دیا کہ اس شخص کو شہر سے باہر لے جا کر اچھی طرح زد و کوب کیا جائے، پھر اسے اونٹ سے باندھ کر پورے شہر میں پھرایا جائے اور لوگوں کو بتایا جائے کہ یہ شخص بادشاہ کو غلط مشورے دیتا تھا اور اسے غلط راستے پر چلانا چاہتا تھا۔ بادشاہ نے جو ٹیکس معاف کئے ہوئے تھے یہ انہیں دوبارہ عائد کرنے کے لئے کوشاں تھا۔ بادشاہ عوام کا باپ ہوتا ہے اور یہ لوگوں کو اس کی پدرانہ شفقت سے محروم کرنا چاہتا ہے اس لئے اس شخص کو یہ سزا دی گئی ہے۔ جہانگیر تمام تر خامیوں کے باوجود ایک ذہین آدمی تھا،اس لئے ٹیکس لگانے والا مافیا ناکام رہا مگر ہمارے ہاں تو۔۔۔ کیا کہہ سکتا ہوں۔

مزید : رائے /کالم


loading...