عالمی طاقتیں مقبوضہ کشمیر میں کیا چاہتی ہیں

عالمی طاقتیں مقبوضہ کشمیر میں کیا چاہتی ہیں
عالمی طاقتیں مقبوضہ کشمیر میں کیا چاہتی ہیں

  


بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کی زیر قیادت حکومت نے 5 اگست 2019ء سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے اسے اپنے ملک میں شامل کر لیا ہے۔ ایک ماہ سے زائد گزرجانے کے بعد بھی وہاں تادم تحریر کرفیو کا مسلسل نفاذ جاری ہے۔ عام لوگ خوراک، ادویات، اور دیگر ضروریات زندگی کے حصول سے محروم ہونے کے علاوہ باہمی روابط کے لئے فون اور انٹرنیٹ کی سہولتیں استعمال کرنے میں بھی ناکام اور قاصر چلے آ رہے ہیں۔ گزشتہ پانچ ہفتوں کے دوران وہاں بعض تازہ اطلاعات کے مطابق ہزاروں نوجوان مسلح فوج اور پولیس کی کارروائیوں سے زبردستی جیلوں اور عقوبت خانوں میں اپنے گھروں سے دور فاصلوں پر پابند سلاسل کر دیئے گئے ہیں۔ ان میں بے شمار نوجوان ایسے ہیں جن پر جسمانی تشدد کر کے انہیں اپنی ذہنی صلاحیت اور معمول کی کارکردگی کی حرکت و محنت سے معذور و مفلوج کر دیا گیا ہے،دیگر کئی لوگوں پر، ایسی غیر انسانی ظلم و ستم کی کارروائیوں کا ارتکاب کیا جا رہا ہے۔

جولائی 2019ء کے چوتھے ہفتے میں وزیر اعظم عمران خاں کے دورہئ امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باہمی مذاکرات میں تنازعہ کشمیر پر اپنا ثالثی کا کردار پیش کیا تھا تاکہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی بھی اس معاملے پر اپنی رضا مندی کا عملی مظاہرہ کر کے باہمی گفت و شنید سے کوئی ایسا حل تسلیم کر لیں جو مقبوضہ جموں و کشمیر کے مجبور و محکوم لوگوں کے لئے بھی قابل قبول ہو۔ کیونکہ گزشتہ 70 سال سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کئی بار اہل کشمیر کے حق خود ارادیت کے موقع کی فراہمی پر کسی جبر اور دباؤ کے بغیر انہیں یہ بنیادی حق، استعمال کرنے کی قراردادیں منظور کی گئی ہیں، لیکن اہل کشمیر کے بار بار کے مطالبات اور مسلسل احتجاجی مظاہروں اور ہڑتالوں کے باوجود، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر تا حال، عمل درآمد نہیں کیا گیا، جبکہ مقبوضہ کشمیر میں، ایک کروڑ 40 لاکھ لوگوں کے احتجاج کے باوجود بھارتی حکمران ان کے اس قانونی طور پر درست اور جائز مطالبے پر اپنی دیرینہ ضد اور ظالمانہ ہٹ دھرمی کی بنا پر عمل کرنے سے انکار کرتے چلے آ رہے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج کل بھی بھارتی حکمرانوں کو باہمی گفتگو شنید اور پُر امن حالات میں اس انسانی مسئلے کو متعلقہ لوگوں، یعنی اہل کشمیر کی خواہشات کے مطابق حل کرنے کے اقدامات کی ترغیب اور زور دے رہے ہیں تاکہ جنوبی ایشیا میں پاکستان اور بھارت کے درمیان سخت کشیدگی اور محاذ آرائی کے نتیجے میں کوئی ایٹمی جنگ نہ چھڑ جائے خدانخواستہ ایسا ہونے سے لاکھوں بے قصور لوگ آناً فاناً ہلاک، شدید زخمی اور طویل عرصے یا ہمیشہ کے لئے ذہنی اور جسمانی طور پر معذور ہو سکتے ہیں۔

قابل غور امر یہ ہے کہ بھارت، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد سے انکار کا کیا قانونی جواز پیش کر سکتا ہے، جبکہ اقوام متحدہ تشکیل دینے کا ایک بڑا اور بنیادی مقصد ہی یہ ہے کہ لوگوں کو آزادی کا بنیادی حق جلد دینے کے اقدامات اور انتظامات کئے جائیں، تاکہ عالمی امن کے قیام و استحکام کے امکانات کی رکاوٹوں کو دور کیا جائے۔ قارئین کرام کو یاد ہوگا کہ نمبیا (Namibia)،جنوب مغربی افریقہ، دو دہائی قبل، مشرقی تیمور اور محض چند سال پہلے جنوبی سوڈان کے لوگوں کو اقوام متحدہ کے احکامات کے تحت آزادی کا حق دیا گیا تھا تو پھر اہل کشمیر کو یہ ان کا حق دینے سے بھارت کیسے انکار کر سکتا ہے؟ کیا بھارت یہ چاہتا ہے کہ اس معاملے میں یہاں ایٹمی جنگ ہو اور اس کے خطرناک نتائج پیدا ہوں۔ نیز کیا عالمی طاقتیں اور مہذب دنیا بھی اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی بجائے یہاں ایٹمی جنگ کی تباہ کاریاں پھیلنے اور دیکھنے کی منتظر ہیں؟

مزید : رائے /کالم


loading...