شعبہ تعلیم کی ترقی حکومتی توجہ کی طالب

شعبہ تعلیم کی ترقی حکومتی توجہ کی طالب
شعبہ تعلیم کی ترقی حکومتی توجہ کی طالب

  


نبی پاکؐ کا ارشاد ہے کہ علم و حکمت مومن کی میراث ہے جہاں ملے لے لوکیا ہمارا نظام تعلیم حضوراکرمؐ کے اس ارشاد پر پورا اترتا ہے تو جواب نفی میں ہو گا کہ ہماری حکومتوں نے اس طرف توجہ ہی نہیں دی تعلیم اور صحت دوایسے شعبے ہیں جو کسی بھی معاشرے کی ترقی کی ضمانت ہیں کہ تعلیم یافتہ اور صحت مندمعاشرہ ہی ہمیں ترقی یافتہ قوموں کی صف میں کھڑا کر سکتا ہے دُکھ کی بات یہ ہے کہ ہمارا نظام تعلیم منتشر ہے کہ پرائیوت تعلیمی اور سرکاری اداروں کا نصاب اور معیار یکسر مختلف ہے اور ان میں کہیں بھی مماثلت نہیں پائی جاتی جس کے باعث وطن عزیز میں تعلیم کا فیصد تناسب کم ہے ہمارے گردونواح میں واقع سارک ممالک کاتعلیمی تناسب ہم سے کہیں زیادہ ہے۔سری لنکا جو ہم سے آبادی اور رقبے کے لحاظ سے قدرے چھوٹا ملک ہے وہاں کا تعلیمی تناسب 96فیصد،ہم سے الگ ہونے والے بنگلہ دیش کا 71فیصد، بھارت کا 74فیصد،نیپال 77، بھوٹان کا 60فیصد،سینکڑوں جزیروں پر مشتمل مالدیپ کا تعلیمی تناسب 98 فیصد ہے جو ہمارے ارباب بست و کشاد کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔

غورطلب بات یہ ہے کہ ان ممالک نے کِس طرح شرح خواندگی میں قابلِ ذکر اضافہ کیا بہتر ہو گاکہ ان ممالک میں ماہرین تعلیم کے وفودبھیجے جائیں جوان کی تعلیمی ترقی کا باعث بننے والے عوامل کا مطالعہ کریں اور ان سے استفادہ کیا جائے۔ کہنے کو تو ہمارا تعلیمی تناسب 58 فیصد ہے، لیکن اعلیٰ تعلیم کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ تناسب صرف2فیصد رہ جاتا ہے اور اس 2فیصد کو بھی ان کے تعلیمی معیار کے مطابق مناسب روزگار میسر نہیں ہوتا، جس کے باعث وہ تذبذب کاشکار رہتے ہیں۔ یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ جو طلباء اپنی قابلیت کی بنیاد پر سکالر شپ کے ذریعے یا پھر وہ طلباء جن کے والدین متمول ہونے کے باعث اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے لئے بیرون ملک بھیجتے ہیں اور فارغ التحصیل ہونے کے بعد واپسی پر ان کو تعلیمی قابلیت کے لحاظ سے روزگار میسر نہیں آتا اور وہ روزگار کے حصول کے لئے بیرونی ممالک کا رُخ کرتے ہیں اور پھر ہمیشہ کے لئے وہیں کے ہو کے رہ جاتے ہیں۔

یہاں اس امر کاتذکرہ بھی بے جا نہ ہوگا کہ وطن عزیز کو ایٹمی اور میزائل قوت بنانے والے معروف ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدلقدیر خان بھی اگر بیرون ملک سے اعلٰی تعلیم حاصل نہ کرتے تو آج ہم اس صلاحیت سے محروم ہوتے ہماری حکومتوں نے تعلیم پر وہ توجہ نہیں دی جو دی جانی چاہیے تھی بلاتفریق ہر حکومت نے تعلیمی بجٹ کم رکھا جس کے باعث ہمارا نظامِ تعلیم روبہ زوال رہاجس سے ہمارے طلباء اورتعلیمی ادارے بھی متاثر ہوئے ایک دانشورانہ کہاوت ہے کہ کسی قوم کو ختم کرنا مقصود ہو تواس کے نظام تعلیم کومفلوج اور منتشر کردو۔قرونِ اولیٰ سے لے کر ماضیِ بعید تک عالم اسلام تعلیم کے لحاظ سے اوجِ ثریا پر متمکن تھا آج جتنی سائنسی اور دیگر تخلیقات منظرِعام پر ہیں ان میں سے بیشتر مسلمانوں کی ایجاد ہیں مگرازاں بعد رفتہ رفتہ مسلمان تعلیم سے روگردانی کرتے رہے جو ان کے زوال کا سبب بنی بعینہ قیام پاکستان سے لے کر آج تک ہمارے شعبہ تعلیم کو درخوراعتنا نہ سمجھا گیا جس کے باعث ہم ترقی کی وہ منازل طے نہ کر سکے جو ہونی چاہیے تھیں۔

ریاست مدینہ کی دعویدار موجودہ حکومت کے حالیہ تعلیمی بجٹ میں تخفیف کی گئی اورایک بار پھر تعلیم کے شعبہ کو نظر انداز کردیا گیا ہے جوناقابل ِ فہم ہے عوامی توقعات تو یہ تھیں کہ تعلیمی بجٹ کو دیگر شعبوں پر ترجیح اور فوقیت دی جائے گی مگر عمل اس کے برعکس ہوا اور اس میں کمی کی گئی جو ایک تکلیف دہ بات ہے۔

ہمارے نونہالوں کو ایک عجیب نفسیاتی کشمکش سے گزرنا پڑتا ہے کہ گھر میں ان کے ساتھ ان کی مادری علاقائی زبان میں گفتگو کی جاتی ہے سکول میں قومی زبان میں تعلیم دی جاتی ہے اوردفتروں میں انگریزی زبان استعمال کی جاتی ہے ماہرین نفسیات کے مطابق اس سے بچے کی ذہنی نشونما متاثر ہوتی ہے وہ کہتے ہیں کہ بچے کو ابتدائی تعلیم اس کی مادری زبان میں دی جائے جس سے وہ گھر اور سکول میں یکسانیت محسوس کرے گاجس سے اسے ذہنی پختگی حاصل ہو گی اور وہ ذہنی دباوسے محفوظ رہے گاجبکہ بعد کی کلاسوں میں اسے قومی زبان اور دیگر زبانوں میں تعلیم دی جائے تووہ ذہنی طورپراسے قبول کرنے کی صلاحیت کا حامل ہو چکا ہوگا۔

ہمارے نظامِ تعلیم کی بہتری کے پیشِ نظر ضروری ہے کہ حکومت پرائیوٹ اور سرکاری سکولوں کے نصاب اور معیار میں یکسانیت اور مماثلت پیدا کرے اور نجی تعلیمی اداروں کی فیسوں کو اس حد تک لے آئے جوعام آدمی کے لئے قابلِ برداشت ہو تاکہ غریب طالبعلم کو احساسِ محرومی نہ ہواور ایسے جوہر قابل اس لئے ضائع نہ ہوں کہ وہ نجی تعلیمی اداروں کی فیس برداشت کرنے سے قاصر ہوں۔نجی تعلیمی اداروں کے مالکان کو ْتعلیم فروش، کے بجائے ْفروغِ تعلیم،کا پابند بنایا جائے ملک کے سالانہ بجٹ میں تعلیم کو دیگر شعبوں پر فوقیت دی جائے اوراسے دُگناکیا جائے۔ جہاں کہیں ممکن ہو اور بہتر نتائج کی توقع ہو تو ان نجی تعلیمی اداروں کو ہر ممکنہ سہولیات فراہم کی جائیں۔ریسرچ کا ایک الگ مکمل شعبہ قائم کیا جائے اور اس حوالے سے ملک میں موجود ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں اور اس شعبہ کی فراغ دلی سے مالی اعانت کی جائے تاکہ ملک و قوم ان کی جدید ترین ایجادات سے استفادہ کر سکیں۔ہمارے ملک کی اکثریت دیہی آبادی پر مشتمل ہے اور تعلیمی شرح خواندگی کے اضافہ کے لئے تعلیم کا دائرہ کار ایک منظم اور مربوط نظام کے تحت دیہاتوں تک پھیلایا جائے جیساکہ پہلے عرض کیا گیا ہے ان تمام امور کی انجام دہی کے لئے اعلٰی ماہرین پر مشتمل ایک ٹاسک فورس بنائی جائے جو باقائدگی سے ہر ماہ اپنی کارکردگی کی رپورٹ مرتب کرے جو اخبارات اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعہ عوام تک بھی پہنچائی جائے اور اس ٹاسک فورس کی نگرانی وزیراعظم خود کریں۔

مزید : رائے /کالم


loading...