چین کی سرحد پر انڈین وارگیم!

چین کی سرحد پر انڈین وارگیم!
چین کی سرحد پر انڈین وارگیم!

  


میں ان کالموں میں کئی بار عرض کر چکا ہوں کہ ملک کی ترقی کا راز خزانے کی ترقی میں مضمر ہے۔ دفاع، تعلیم، صحت اور عوامی خوشحالی وغیرہ سب کی سب خزانے کی مرہونِ منت ہیں۔ مسدس حالی کا ایک بند یاد آ رہا ہے:

الپ ارسلاں سے یہ طغرل نے پوچھا

کہ قومیں ہیں دنیا میں جو جلوہ فرما

نشاں ان کی اقبال مندی کی ہیں کیا

کب اقبال مند ان کو کہناہے زیبا؟

کہا ملک و دولت ہو ہاتھ ان کے جب تک

جہاں ہو کمربستہ ساتھ ان کے جب تک

”ملک و دولت“ کا یہ جوڑا (Pair) اکٹھا ہی ترقی یاب ہوتا ہے۔ ہم نے کسی بھی ملک یا قوم کی تاریخ میں یہ نہیں پڑھا کہ وہ مفلس اور غریب تھی اور اس افلاس اور نکبت کے باوجود اس نے خوشحالی اور ترقی پائی۔ یہ بحث دراز ہو جائے گی اس لئے ماضی کو چھوڑ کر حال کی بات کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ آج جو اقوام، ماڈرن اور ترقی یافتہ شمار ہوتی ہیں ان کی مرفع الحالی کا سب سے بڑا ستون کیا ہے۔ آج پاکستان اور پاکستانی عوام کا سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ ہمارا خزانہ خالی ہے۔ تاہم مشیر خزانہ بار بار تسلیاں دیئے جا رہے ہیں کہ ہماری برآمدات بڑھ رہی ہیں اور درآمدات میں کمی ہو رہی ہے اس لئے معیشت کو سنبھالا ملتا جا رہا ہے اور ساتھ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس سال مہنگائی کی شرح 12% تک چلی گئی ہے، اگلے برس بھی یہی صورتِ حال رہے گی اور 2021ء میں کہیں جا کر یہ رجحان (Trend)تبدیل ہو گا۔ یہ دلاسہ بھی دیا جاتا ہے کہ قوموں پر مشکل وقت بھی آتا ہے اور گزر جاتا ہے۔ دیکھیں اب پاکستان کا مشکل وقت کب گزرتا ہے۔

میں اپنے کالموں کی زبان اور اندازِ نگارش حتی الواسع آسان رکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ وجہ یہ ہے کہ میرے قارئین کا ایک بڑا حلقہ زیادہ عالم فاضل نہیں، اس لئے اس پر اپنی قابلیت کا رعب جھاڑنا اور کالموں میں ثقیل اور بھاری بھرکم الفاظ و تراکیب کو استعمال کرنا صرف اسی وقت جائز سمجھتا ہوں جب ایسا کرنا ناگزیر ہو جائے۔ خزانہ اور دفاع کے موضوعات ویسے بھی خشک اور گرانبار ہوتے ہیں اس لئے ان کو ڈسکس کرتے ہوئے شیخ رشید والی ہلکی پھلکی موسیقی کا سہارا لیتا ہوں …… اشعار کا تڑکا بھی اسی ذیل میں شمار کیجئے۔

دوچار روز پہلے ایک خبر نظر سے گزری کہ انڈین آرمی اگلے ماہ (اکتوبر 2019ء میں) انڈوچائنا سرحد پر ایک فوجی مشق چلانے جا رہی ہے جس میں ایسٹرن کمانڈ کی 17سٹرائک کور استعمال کی جائے گی اور اس امریکی اسلحہ کو بھی آزمایا جائے گا جو حال ہی میں امریکہ سے خریدا گیا ہے۔ اس میں سے بعض بھاری سلاحِ جنگ موصول ہو چکے ہیں اور ان کو متعلقہ فوجی تنظیموں (یونٹوں اور فارمشینوں) میں انڈکٹ کیا جا چکا ہے جبکہ کئی ہتھیار ابھی پائپ لائن میں ہیں ……میں نے سوچا کہ موضوع تو خشک ہے لیکن اس کو آسان زبان میں ایک اوسط فہم والے قاری تک پہنچایا جائے۔

اس سے پہلے کہ آگے بڑھیں قارئین کو بتانا چاہوں گا کہ انڈین آرمی کی سات کمانڈیں ہیں جن کے نام بالترتیب یہ ہیں …… (1) ناردرن کمانڈ…… (2) ویسٹرن کمانڈ…… (3) ساؤتھ ویسٹرن کمانڈ…… (4) سادرن کمانڈ …… (5) سنٹرل کمانڈ……(6) ٹریننگ کمانڈ …… اور (7) ایسٹرن کمانڈ۔ ایک کمانڈ میں بالعموم دو یا دو سے زیادہ کوریں، ایک کور میں دو یا دو سے زیادہ ڈویژن، ایک ڈویژن میں دو یا دو سے زیادہ بریگیڈ اور ایک بریگڈ میں دو یا دو سے زیادہ بٹالینیں ہوتی ہیں۔ ایک بٹالین کی نفری تقریباً 700سے لے کر 900 تک افسروں اور جوانوں پر مشتمل ہوتی ہے…… انڈین آرمی کی کل نفری 13لاکھ سے کچھ زیادہ اور پاکستان آرمی کی 6لاکھ سے کچھ زیادہ ہے۔ دوسرے لفظوں میں انڈین آرمی کی تعداد پاک آرمی سے تقریباً دگنی ہے…… پاکستانی کمانڈوں کو فی الحال رہنے دیتے ہیں!

انڈیا کی ان سات کمانڈوں میں ایک ٹریننگ کمانڈ ہے اور باقی چھ آپریشنل کمانڈز ہیں یعنی جنگ میں استعمال ہوتی ہیں۔ انڈیا کے دو حریف ہیں، ایک پاکستان اور دوسرا چین۔ انڈیا نے اپنی 6آپریشنل کمانڈز میں سے چار پاکستان کی سرحد پر لگا رکھی ہیں۔ ان کے نام ناردرن کمانڈ (ادھم پور)، ویسٹرن کمانڈ (چاندی مندر)، ساؤتھ ویسٹرن کمانڈ (جے پور) اور سادرن کمانڈ (پونا) ہیں۔(بریکٹ میں ان کمانڈز کے ہیڈکوارٹرز درج ہیں۔) آپ نقشے میں دیکھیں کہ ادھم پور، چاندی مندر اور جے پور پاکستانی بارڈر کے نزدیک ہیں اور ان کو لائن آف کنٹرول سے رن کچھ تک پہنچنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔پونا اگرچہ ممبئی کے قریب ہے لیکن یہ کمانڈ پاکستان بارڈر پر لگی تین کمانڈوں کے لئے ریزرو کا کام دیتی ہے۔ باقی تین کمانڈوں (ٹریننگ، سنٹرل اور ایسٹرن) میں ٹریننگ کمانڈ کا ہیڈکوارٹر شملہ، سنٹرل کا لکھنو اور ایسٹرن کا کول کتہ میں ہے۔ سنٹرل کمانڈ بھی پاکستان اور چین کے بارڈر پر تیزی سے پہنچنے کے لئے ریزرو کمانڈ ہے۔ ساتویں کمانڈ جس کا نام ایسٹرن کمانڈ ہے اور جس کا ہیڈکوارٹر کول کتہ میں ہے وہ واحد آرمی کمانڈ ہے جو انڈو چائنا بارڈ پر صف بند ہے۔

بطور خلاصہ کہا جائے گا کہ انڈین آرمی کی سات کمانڈوں میں سے ایک ٹریننگ کمانڈ ہے، دو ریزرو کمانڈز ہیں اور چار آپریشنل کمانڈز میں سے تین پاکستان کے خلاف اور صرف ایک چین کے خلاف صف بند (Deployed) ہے۔اس واحد ایسٹرن کمانڈ میں چار کوریں ہیں۔ جن کے نام 3کور،4کور، 33کور اور 17کور ہیں …… اور یہی موخر الذکر 17سٹرائیک کور ہمارا آج کا موضوع ہے۔

یہ کور انڈیا نے 2015ء میں کھڑی کی تھی اور اس کا سارا فوکس چین پر ہے۔یہ انڈیا کی پہلی ماؤنٹین سٹرائیک کور ہے جو کوئیک ری ایکشن فورس بھی کہلاتی ہے اور چین کے خلاف لائن آف ایکچویل کنٹرول (LAC) پر لگی ہوئی ہے۔ چین چونکہ امریکہ کا اصل حریف ہے اس لئے اس 17سٹرائک کور کا سارا اسلحہ بارود امریکی نژاد ہے۔ یہ اس لئے رکھا گیا ہے کہ ”بوقتِ ضرورت“ انڈیا کو (چین کے خلاف) جو فوجی مدد دی جائے اس کے بھاری اور ہلکے ہتھیار اور دوسرا جنگی ساز و سامان (Equipment) امریکہ سے فوری طرف پر لے کر انڈکٹ کر لیا جائے۔

اس سٹرائیک کور کا بھاری اسلحہ جن ہتھیاروں پر مشتمل ہے ان میں انتہائی ہلکی (Ultra-light) توپیں ہیں (ان کو ہوٹزر بھی کہا جاتا ہے) اور جو M777 کہلاتی ہیں اور چنوک ہیوی لفٹ ہیلی کاپٹر شامل ہیں۔چونکہ یہ سارا اسلحہ اور اس کا گولہ بارود امریکہ سے انڈیا پہنچ چکا ہے اس لئے اب اس کو دشمن کے خلاف استعمال کرنے کی مشق پلان کی گئی ہے جو اگلے ماہ ہو گی۔ یہ دو طرفہ مشق ہو گی۔ 4کور کو ”دشمن“ کا رول دیا جائے گا اور 17سٹرائیک کور کو سٹرائک (Strike) رول میں استعمال کرکے یہ وار گیم مکمل کی جائے گی…… اس ایکسرسائز کا نام ہِم وجے (Himvijay) رکھا گیا ہے۔ مقصود یہ ہے کہ 17سٹرائیک کور کی حربی صلاحیت (Fighting Ability)ٹیسٹ کی جائے۔ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ مشق اروناچل پردیش میں چلائی جائے گی۔

یہ انڈین ریاست چین اور انڈیا کے درمیان متنازعہ علاقہ ہے۔ اس جنگی مشق کو اچانک اس لئے برسرِعمل لایا جا رہا ہے کہ انڈیا نے 5اگست 2019ء کو کشمیرکے جن علاقوں کا خصوصی سٹیٹس ختم کیا ہے ان میں لداخ بھی شامل ہے۔ لداخ کا متنازعہ سٹیٹس ختم کرنے پر چین نے احتجاج کیا تھا۔اب کہا جا رہا ہے کہ اگلے ماہ چینی صدر شی جن پنگ انڈیا کا دورہ کر رہے ہیں)؟) مودی ان کا بنارس Varanasi) میں استقبال کریں گے۔) یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس ملاقات میں لداخ کا سوال بھی زیر بحث آئے گا۔ چین نے اس علاقے کی خصوصی اہمیت ختم کرنے پر جو احتجاج کیا تھا، اس سے ہم سب پاکستانی واقف ہیں۔ انڈیا، اروناچل پردیش میں لگی اس 17ماؤنٹین سٹرائیک کور کی جو ایکسرسائز کر رہا ہے اس کی تاریخیں ابھی نہیں بتائی جا رہیں، شائد صدر شی کی وزٹ کے بعد ایسا کیا جائے۔ اس ایکسرسائز میں انڈین ائر فورس (IAF) بھی حصہ لے گی۔

اس وار گیم کی تیاریاں گزشتہ 6ماہ سے جاری ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ انڈیا نے 5اگست کو جس آرٹیکل 370 کی تنسیخ کی ہے وہ کوئی اچانک موو (Move) نہیں تھی بلکہ اس کی پلاننگ مودی کے دوبارہ وزیراعظم بننے سے بھی پہلے شروع ہو چکی تھی۔17کور کا ہیڈکوارٹر پناگڑھ (مغربی بنگال) میں ہے جبکہ ایسٹرن کمانڈ کی 4کور کا ہیڈ کوارٹرز تیزپور (آسام) میں ہے۔

اس ایکسرسائز کا جو سنریو اب تک جاری کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ 4کور کے ٹروپس اروناچل کے کسی بلند مقام پر تعینات کئے جائیں گے اور ان کو ”دشمن“ تصور کیا جائے گا۔ ان پر حملہ کرنے کے لئے 17سٹرائیک کور کا ایک بریگیڈ (2500آفیسرز/ سولجرز) مغربی بنگال میں واقع ایک شہر باغ ڈوگرہ سے ائر لفٹ کیا جائے گا۔ اس ائر لفٹ میں C-17، C-130J سپر ہرکولیس اور AN-32 قسم کے دیوہیکل ٹرانسپورٹ طیارے استعمال کئے جائیں گے جو اس بریگیڈ اور اس کے ہتھیاروں (بالخصوص M777 ہوٹزر) کو لفٹ کرکے ”دشمن“ (4کور) کے سامنے صف بند کر دیں گے۔

یہ منظرنامہ (Scenerio) مستقبل کی کسی انڈوچائنا وار کا منظر نامہ تصور کر لیا گیا ہے۔ انڈین آرمی سب سے پہلے یہ مشق کرے گی کہ وہ ہیوی لفٹ چنوک ہیلی کاپٹروں اور ٹرانسپورٹ طیاروں کو استعمال کرکے فوج کو چین کی سرحد پر کتنی جلد ڈال سکتی ہے۔خیال کیا جاتا ہے کہ چین اور انڈیا کی افواج کا اصل مقابلہ (اگر ہوا تو) اسی اروناچل پردیش کی سرحد پر ہو گا۔

اس تناظر میں چین کا جواب کیا ہو گا، وہ کیا تیاریاں کر رہا ہے اور کون کون سے اسلحہ جات استعمال کرے گا، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ چین کی طرف سے اس کا ردعمل ابھی نہیں آیا۔

میں نے کالم کے آغاز میں عرض کیا تھا کہ خزانہ اور دفاع کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ ”ملک و دولت“ جب تک آپ کے ہاتھ میں ہے اور عوام بھی ”کمربستہ“ آپ کے ہمراہ ہیں تو پھر آپ کو کسی طرف سے کوئی ”چِنتا“ نہیں ہونی چاہیے۔ مولانا حالی کے بند میں آخری شعر میں لفظ ’جہاں‘ کا مفہوم زمانہ نہیں بلکہ ملک کے عوام ہیں …… ایک بار پھر اس شعرکو دیکھئے:

کہا ملک و دولت ہو ہاتھ ان کے جب تک

جہاں ہو کمربستہ ساتھ ان کے جب تک

مزید : رائے /کالم


loading...