نون لیگ ختم ہوئی؟

نون لیگ ختم ہوئی؟
 نون لیگ ختم ہوئی؟

  


ایک وقت تھا جب وفاقی وزیر شیخ رشید اور فوا د چودھری کہا کرتے تھے کہ نون لیگ ختم ہو جائے گی، ایسا نہ ہوا اور اب خود ان کی اپنی حکومت ختم ہونے کی باتیں شروع ہو گئی ہیں!

سپریم کورٹ نے اسلام آباد کی احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو سے متعلق دائر درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے کہہ چکی ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کو اختیار ہے کہ وہ اس ویڈیو کے منظرِ عام آنے کے بعد جج کی طرف سے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو دی جانے والی سزا کا ازسرنو جائزہ لے۔ احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک نے گذشتہ برس میاں نواز شریف کو العزیزیہ سٹیل ملز کے مقدمے میں سات سال قید کی سزا سنائی تھی، جبکہ فلیگ شپ ریفرنس میں اُنھیں بری کر دیا تھا۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی طرف سے لکھے گئے اس فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ احتساب عدالت کے جج کی طرف سے دیے گئے فیصلے میں شہادتوں کا جائزہ لے کر اس سزا کو ختم کرنے کا اختیار بھی رکھتی ہے اس کے علاوہ عدالت عالیہ کے پاس یہ بھی اختیار ہے کہ دستیاب شہادتوں کو سامنے رکھ کر کوئی فیصلہ دے سکتی ہے۔

سپریم کورٹ کے اس فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ احتساب عدالت کے جج نے گدشتہ ماہ جو بیان حلفی جمع کروایا تھا وہ دراصل ان کا اعترافِ جرم ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے اپنے بیان حلفی میں مجرم نواز شریف کے بیٹے کے ساتھ ملاقات کا اعتراف کیا ہے اور اس پیش رفت کے بعد احتساب عدالت کے سابق جج نے اس سے متعلق اعلی حکام کو نہ ہی آگاہ کیا اور نہ ہی وہ خود عدالتی کارروائی سے الگ ہوئے۔ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ احتساب عدالت کے جج کی کنڈکٹ کے بارے میں فیصلہ کرنا اسلام آباد ہائی کورٹ کا کام ہے۔

وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ جج ویڈیو اسکینڈل جج اور عدالت کا معاملہ ہے، ہم نے کبھی نہیں کہا کہ یہ جج کے خلاف کوئی سازش ہے، سپریم کورٹ کا فیصلہ تصدیق کرتا ہے کہ یہ ایک جج کے کنڈکٹ کا ذاتی معاملہ تھا، نواز شریف کیخلاف کوئی بھی کیس زبانی شواہد پر نہیں ہے، نواز شریف کے خلاف تمام کیسوں میں دستاویزی ثبوت موجود ہیں، اس میں کوئی ایسا معاملہ نہیں جس میں انسانی عمل دخل ہو، ویڈیو کیس فیصلے کا نواز شریف کیس کے فیصلے سے کوئی تعلق نہیں ہے، مجھے نہیں لگتا کہ اس سے نواز شریف کی سزا متاثر ہوسکے گی۔

نواز شریف اورا ن کی فیملی نے جائیدادوں کے مالک ہونے کا اعتراف کیا ہے، نواز شریف اپنی جائیداد کے ذرائع نہیں بتاپا رہے ہیں، نواز شریف جائیداد کے ذرائع کل بتادیں تو کیس ختم ہوجائے گا، نواز شریف کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں شواہد پیش کرنے ہیں، ہائیکورٹ آرڈر کرتی ہے تو جج کی ویڈیو کا فارنزک کروانا چاہئے تھا، سپریم کورٹ نے ہائیکورٹ کو حکم دیا ہے کہ وہ اس معاملہ کو دیکھ لے، اسلام آباد ہائیکورٹ اب اس معاملہ کو دیکھے گی اورآگے لے کر جائے گی۔

نون لیگ نے چیئرمین نیب کی ویڈیو پر کہا تھا کہ پارلیمنٹ میں پارلیمانی کمیشن بنانے کا مطالبہ کریں گے، لیکن ہم انتظار کرتے رہے، ن لیگ نے بات ہی نہیں کی، شہباز شریف کہتے ہیں ویڈیو سے متعلق مریم کو پتا ہوگا، مریم کہتی ہیں مجھے بھی نہیں پتا ہے، ویڈیوز لے کر آنے والے ہی بھاگ گئے تو کس نے تحقیق کرنی ہے، ہائیکورٹ ویڈیو کی فارنزک کا حکم کرے گی تو اس پر عمل کریں گے۔ نواز شریف کیخلاف فیصلے کے اصل بینیفشری پاکستان کے عوام ہیں، نواز شریف کے کیس کا جج کی ویڈیوز سے کوئی تعلق نہیں ہے، حسن نواز اور حسین نواز پاکستان واپس آئیں اور اپنا حساب کتاب دیں یا دوسرا طریقہ پلی بارگین کا ہے۔

غالب امکان یہی ہے کہ فواد چودھری کا موقف ہی حکومت کے عدالتی موقف میں ڈھل جائے گا۔ اس کا فیصلہ تو عدالت کرے گی کہ آیا جج ویڈیو سکینڈل کی بنا پر نواز شریف کی بریت بنتی ہے یا نہیں، لیکن ایک بات طے ہے کہ سیاسی جماعتیں عوام سے بنتی ہیں اور عوام ہی انہیں ختم کر سکتے ہیں۔ حکومتوں کے بننے ٹوٹنے کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔ دیکھئے یہ بات دوستوں کو کب سمجھ آتی ہے!

مزید : رائے /کالم


loading...