اسد عمر کی وزارت ختم ہو گئی، چینی کی بڑھی ہوئی قیمت واپس نہ آسکی

اسد عمر کی وزارت ختم ہو گئی، چینی کی بڑھی ہوئی قیمت واپس نہ آسکی

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

گنے  کے کاشتکاروں نے کرشننگ سیزن 2019-20کے لئے جو اگلے ماہ کی 15تاریخ سے شروع ہو رہا ہے گنے کی قیمت 300روپے فی من مقرر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ بظاہر تو لگتاہے کہ اس مطالبے کو کوئی پذیرائی نہیں ملے گی، کیونکہ چینی کی ملوں کے مالکان میں زیادہ تر ایسے لوگ شامل ہیں جو کسی نہ کسی حوالے سے بااثر ہیں وہ اپنے کرتبوں کے ذریعے چینی کی قیمت تو 75یا 80روپے کلو تک لے جاسکتے ہیں، لیکن ان کے نزدیک گنے کا موجودہ ریٹ (180روپے فی من) بھی زیادہ ہے۔ کاشتکار اس معاملے میں بدقسمت ہیں کہ ان کی حکومت میں کوئی لابی نہیں البتہ یہ دعوے ضرور ہیں کہ حکومت زراعت کے شعبے کی ترقی چاہتی ہے، کاشتکاروں کو  یہ طے شدہ ریٹ بھی نہیں ملتا، کئی سال تک سندھ کی شوگر ملوں سے کاشتکاروں کو یہ شکایت رہی کہ انہیں کئی کئی روز تک گنا خریدنے کے لئے انڈنٹ جاری نہیں کیا جاتا ہے اور جب بڑی حد تک گنا سوکھ جاتا ہے اور اس کا وزن کافی کم ہو جاتا ہے تو انہیں کہا جاتا ہے کہ وہ کم قیمت پر اگر گنا فروخت کرنا چاہیں تو کردیں ورنہ واپس لے جائیں۔ ایسی صورت میں بعض کاشتکار تو مجبوری کے عالم میں کم قیمت پر ہی گنا فروخت کردیتے ہیں اور جو نہیں کرتے وہ پھر اس گنے کو جلا کر راکھ کر دیتے ہیں۔ ہر سیزن میں ایسے واقعات ہوتے ہیں کہ مل کے باہر کھڑے کھڑے ٹرالوں میں گنا سوکھ گیا اور کسان دل برداشتہ ہوکر اسے وہیں چھوڑ کر خالی ٹرالیاں واپس لے گئے یا پھر غصے میں گنے کو ایک جگہ ڈھیر کرکے آگ لگا دی، گنے کے کاشتکاروں کا خیال ہے کہ مل مالکان گزشتہ پانچ سال سے کاشتکاروں کا استحصال کر رہے ہیں، اور ہر چیز کے نرخ بڑھنے کے باوجود گنے کا ریٹ بڑھنے نہیں دیتے۔

کاشتکاروں کے گنے کی تاخیر سے فروخت کے سلسلے میں دہرے مسائل ہیں اگر گنا بروقت کھیت سے نہ کاٹا جائے اور کھیت کو اگلی فصل (گندم وغیرہ) کے لئے خالی نہ کیا جائے تو گندم کی کاشت بھی نہیں ہوسکتی، اس لئے وہ دہرے نقصان سے بچنے کے لئے کم قیمت پر بھی گنا فروخت کر دیتے ہیں۔ سال 2015ء میں گنے کی فی من قیمت 180روپے مقرر ہوئی تھی جبکہ اس وقت چینی 50 روپے کلو فروخت ہوتی تھی اور  راب کا ریٹ 5500روپے فی ٹن تھا۔ مڈھ کا ریٹ 1200روپے فی ٹن اور بگاس کا ریٹ 1800روپے ٹن تھا۔ آج دوہزار انیس یعنی چار سال بعد گنے کے نرخ میں تو کوئی اضافہ نہیں ہوا بلکہ یہ سودے بازی کرکے مقررہ نرخ سے بھی کم میں فروخت ہو رہا ہے، لیکن چینی 75سے 80 روپے کلو فروخت ہو رہی ہے۔ راب کا ریٹ 15ہزار روپے فی ٹن ہوگیا ہے، مڈھ تین ہزار روپے ٹن اور بگاس 3100روپے فی ٹن میں فروخت ہو رہا ہے۔ اس کے باوجود  شوگر مل مالکان کاشتکاروں کو بروقت ادائیگیاں نہیں کرتے، گنے کے کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ 2015ء کے بعد زرعی مداخل (کھاد، پیسٹی سائیڈ وغیرہ) کی قیمتوں میں 100گنا اضافہ ہوگیا ہے۔ ڈیزل کی قیمت بڑھ گئی ہے، کھاد کی بوری پر حکومت نے جو ”سیس“ لگایا تھا وہ کسانوں سے 200روپے فی بوری کے حساب سے تو وصول کیا، لیکن اربوں روپے کی یہ رقم سرکاری خزانے میں جمع نہیں کرائی اور پھر حکومت کے ساتھ مل کر سودے بازی کی کامیاب کوشش کی اور بعض وزراء کے ذریعے حکومت کو اس پر آمادہ کرلیا کہ وہ 228ارب روپے (وصول شدہ رقم کا تقریباً نصف) صنعت کاروں کو معاف کردے تو باقی رقم ادا کر دی جائے گی۔ اس مقصد کے لئے صدارتی آرڈی ننس جاری کیا گیا جس پر شور مچا تو اسے واپس لینے کا اعلان کردیا گیا۔ اس سارے معاملے کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ جو ”سیس“ کسانوں سے نقد وصول کیا جا رہا تھا وہ سرکاری خزانے تک کیوں نہیں پہنچ پا رہا تھا اور کیا کسانوں کا یہ حق نہیں کہ یہ ٹیکس  اگر سرکار کے خزانے میں نہیں گیا تو انہیں واپس کیا جائے، کیونکہ کوئی صنعت کار اسے اپنی تجوریاں بھرنے کے لئے استعمال نہیں کرسکتا،  لیکن حکومت میں بیٹھے ہوئے بااثر صنعت کار اپنے حق میں فیصلے کرانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ چینی کی قیمت میں اضافے پر تو سابق وزیر خزانہ اسد عمر بھی پریشان تھے اور متعدد بار انہوں نے اس امر پر حیرت کا اظہار کیا کہ ان کے ہوتے ہوئے  چینی کی قیمت کیسے بڑھ گئی، لیکن ان کی وزارت چلی گئی، چینی کی قیمت نیچے نہ آئی۔ شاید انہیں معلوم نہیں تھا کہ ان کی پارٹی کے اندر ”شوگر کنگ“ بھی بیٹھے ہوئے ہیں۔

وزارت اور چینی

مزید : تجزیہ


loading...