حاملہ خواتین اور بچوں پر فضائی آلودگی کے خطرناک اثرات ،سائنسدانوں کی تحقیق میں پہلی بار ہولناک انکشافات سامنے آگئے

حاملہ خواتین اور بچوں پر فضائی آلودگی کے خطرناک اثرات ،سائنسدانوں کی تحقیق ...
حاملہ خواتین اور بچوں پر فضائی آلودگی کے خطرناک اثرات ،سائنسدانوں کی تحقیق میں پہلی بار ہولناک انکشافات سامنے آگئے

  


برسلز(مانیٹرنگ ڈیسک) فضائی آلودگی ہر انسان کے لیے خطرہ بن چکی ہے تاہم اب سائنسدانوں نے نئی تحقیق میں حاملہ خواتین کے لیے اس کا ایک انتہائی خوفناک نقصان دریافت کر لیا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق بیلجیم کے سائنسدانوں نے اس تحقیق میں 28حاملہ خواتین کے مادررحم کے سکین کیے جن کے نتائج میں یہ ہولناک انکشاف ہوا کہ ان تمام خواتین کے مادررحم میں فضائی آلودگی کے اجزا، بلیک کاربن وغیرہ، موجود تھے۔

یہ دنیا میں پہلی بار حاملہ خواتین کے مادر رحم میں فضائی آلودگی کے اجزاءکا انکشاف ہے جو منظرعام پر آیا ہے۔ بیلجیم کی ہیسلٹ یونیورسٹی کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ بچے دانی میں ان اجزاءکی موجودگی قبل از وقت پیدائش کی شرح میں تیزی سے اضافے کا سبب بن سکتی ہے اور جو بچے پیدا ہوں گے ، یہ اجزاءان کے وزن میں بھی کمی کی وجہ بن سکتے ہیں۔

تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر ٹم نیوروٹ کا کہنا تھا کہ ان 28میں سے 10خواتین کے رحم میں 2.4مائیکروگرام فی میٹر کیوب پایا گیا جو کہ بہت زیادہ مقدار ہے اور ان کے جسم میں پرورش پانے والے بچے کے اس سے متاثر ہونے کے غالب امکانات ہیں۔یہ ایک انتہائی خوفناک صورتحال ہے جس کے تدارک کے لیے پوری دنیا کو مل کر کام کرنا ہو گا۔

مزید : تعلیم و صحت


loading...