جہاں درندے رہتے ہیں...

جہاں درندے رہتے ہیں...
جہاں درندے رہتے ہیں...

  


ملک میں بڑے بڑے سانحات ہوگزرے،دلخراش واقعات کے بعدایسالگتاتھا کہ اب یہ بھولنے والی بات نہیں مگرہم سب نے دیکھاکہ یہاں لوگ سگے رشتے داروں کے قتل بھی بھول جاتے ہیں،یہ رسم دنیا ہے یاپھرزندہ رہنے کاطریقہ،کہ مرنے والوں کوبھلادیں تبھی زندگی آگے بڑھتی ہے,پھراگرمیں یہ افسوس کروں کہ قصورکی شناخت بدل کر رکھ دینے والاسانحہ زینب عوام کو اتنی جلدی کیوں بھول گیاتوشایدمیرا افسوس بے جاہوگا۔

زینب کیساتھ جو کچھ ہوا،اب وہ زخم نہ ہی کریدے جائیں تو بہترہے کیوں کہ مجرم بھی کیفرکردارتک پہنچ گیا لیکن ایک بات سے کبھی نظریں چرائی نہیں جاسکتیں کہ جن واقعات نے برصغیرپاک وہندکے عظیم صوفی شاعربابابلھے شاہ کی پُرامن اورروحانی فضاؤں کومعصوم بچوں کے لیے گھٹن کاماحول بناکر رکھ دیاتھااس کے پیچھے کیاایک ہی کردار ذمہ دار تھا یاایک مجرم کو سزا دے کر باقیوں کو نظراندازکردیاگیا؟حالانکہ قصورکاشاندارماضی مذہبی،ثقافتی اور روحانی روایات کاامین ہے، یہ شہر ہماری ملی تاریخ کا ایک ایسا کردار ہے جس نے اسلامی تہذیب وتمدن اور مسلم ثقافت کی ترقی اور اس کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا ،زندہ دلی اور محنت یہاں کے لوگوں کے امتیازی اوصاف ہیں،مگرزینب قتل کیس کے بعدقصورکاجوچہرہ دنیاکے سامنے ظاہرہوا،وہ انتہائی خوفناک ہے،اب بھی آپ انٹرنیٹ پرقصورسرچ کریں توآپ کو اس شہرکی اصل پہچان کہیں آخری صفحات پرنظرآئے گی،سب سے پہلے زینب قتل اوراس جیسے دیگرناخوشگوارواقعات کی خبریں نظرآئیں گی۔

زینب کے قاتل کوتختہ دارپرلٹکانے کے بعدوقتی طورپرسب نے سب کچھ بھلادیالیکن عوامی حلقوں میں یہ شبہ ہمیشہ رہاکہ یہاں کچھ نہ کچھ ایساہے جسے تحقیقات کرنے والوں کی بھی ںظروں سےشاید کمال مہارت سے چھپالیاگیا اوراب ایک بارپھربچوں کے لاپتہ ہونے اورکچھ عرصے بعدلاشوں،ہڈیوں اورپھٹے کپڑوں نے نہ صرف علاقے میں خوف وہراس پھیلا دیا ہے بلکہ ملک بھرمیں لوگ اس سوچ میں مبتلاہیں کہ ایک عرصہ بعدایسے واقعات کاسر اٹھاناکس رازسے پردہ اٹھانے کی ممکنہ شروعات ہیں؟

حال ہی میں قصور کے قریب چونیاں شہرکے مختلف مقامات سے کم سن بچے فیضان،سلمان اورعلی حسنین کی لاشیں مل چکی ہیں جنہیں پہلے اغواء کیاگیاتھا اور راناٹاؤن چونیاں کا ایک بارہ سالہ بچہ عمران ابھی تک لاپتہ ہے،ڈی پی اوقصور کے لیے یہ کیسزانتہائی اہمیت کے حامل ہیں جن کی تہہ تک پہنچنے کے لیے تمام ذرائع استعمال کرنے کی ضرورت ہے اوراس کی تحقیقات پرایسے قابل اورایماندارپولیس افسران کولگانے کی ضرورت ہے کہ جن کاماضی ان کی ایمانداری کاگواہ ہو،اگرایسا نہ کیاگیاتوشایداصل محرکات ایک بارپھرپردے کے پیچھے ہی رہ جائیں ۔

میرے پاس اس بات کے ثبوت تونہیں البتہ بعض دفعہ ہوا میں ماراجانے والا تیربھی نشانے پرلگ سکتاہے اور اس باربے شک آپ ڈاکٹرشاہدمسعودکے انکشافات پریقین نہ کریں مگریہ توہوسکتاہے کہ آپ اس پہلو کوبھی نظراندازنہ کریں،ہماری قوم کی طرح ممکن ہے پولیس بھی فراموش کرچکی ہو مگریہ یاد رکھیں کہ شاہدمسعود نے دعویٰ کیاتھا کہ انہوں نے قصورکے بچوں کے ویڈیوکلپس ڈارک ویب سائٹ پردیکھے ہیں اورانہوں نے انٹرنیشنل پورنو ویڈیوزکےگروہ کابھی باربار ذکرکیاتھا۔تحقیقاتی ادارے جہاں دیگرپہلوؤں پر کھوج لگارہے ہوں گے وہی انہیں اس پہلو کوبھی ایک بارپھرباریک بینی سے دیکھنے کی ضرورت ہے کیوں کہ یہ بچہ صرف ایک ہی نہیں بلکہ ایک سے زائدایک ہی نوعیت کے کیسزاتفاقیہ نہیں ہوسکتی،ممکن ہے کہ کوئی گروہ کسی مکروہ دھندے میں ایسے بچوں کواستعمال کررہاہو۔

مجھے آخر میں جنوری دوہزاراٹھارہ میں اقرارالحسن کے فیس بک اکاؤنٹ سے کی گئی ایک پوسٹ بھی یادآگئی جس میں انہوں نے بتایاتھا کہ جس علاقے میں زینب کیساتھ زیادتی ہوئی اس علاقے کا ایس ایچ او عمران سعیدچھ ماہ قبل ایک جھوٹی ایف آئی آرکاٹنے کے لیے رشوت لینے کے جرم میں پکڑاگیاتھا،اس اللہ کے بندے کو وقتی طورپرمعطل کرکے پھر تھانہ سٹی قصورمیں ہی تعینات کردیاگیا،اگرایک ایس ایچ اوکی ایمانداری کی یہ حالت ہے کہ وہ پیسوں کی خاطرجھوٹی ایف آئی آردرج کرسکتاہے توکیااس طرح کے عناصرکے ہاتھوں کسی مظلوم کوانصاف ملنے کی توقع کی جاسکتی ہے؟۔۔اعلیٰ پولیس افسران حالیہ واقعات کی تحقیقات کسی افسر کے سپردکرنے سے پہلے یہ ضرور سوچیں کہ زیادتی کانشانہ بننے والے بچے بھی آپ کے بچوں کی طرح ہی ہیں،آپ اس بارانصاف قصور کے بچوں کونہیں بلکہ اپنے بچوں کودینے کی نیت سے کریں،اگرایسانہ ہواتوبلھے شاہ کی نگری معصوم بچوں کے لیے کسی خوفناک وادی سے کم نہیں رہے گی جہاں انسانوں کے درمیان ہی درندے رہتے ہیں جومذموم مقاصد کے لیے پھولوں کوبے دردی سے مسل رہے ہیں۔

(بلاگرمناظرعلی سینئر صحافی اور مختلف اخبارات،ٹی وی چینلزکے نیوزروم سے وابستہ رہ چکے ہیں،آج کل لاہورکے ایک نجی ٹی وی چینل پرکام کررہے ہیں، عوامی مسائل اجاگر کرنے کیلئے مختلف ویب سائٹس پربلاگ لکھتے ہیں،اس فیس بک لنک پران سے رابطہ کیا جا سکتا ہے، www.facebook.com/munazer.ali )

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید : بلاگ


loading...