بھارت غیر ذمہ دار نیو کلیئر پاور ،پاکستان اور آزاد کشمیر کی طرف اٹھنے  والی میلی آنکھیں نکال دیں گے:ڈاکٹر عارف علوی

بھارت غیر ذمہ دار نیو کلیئر پاور ،پاکستان اور آزاد کشمیر کی طرف اٹھنے  والی ...
بھارت غیر ذمہ دار نیو کلیئر پاور ،پاکستان اور آزاد کشمیر کی طرف اٹھنے  والی میلی آنکھیں نکال دیں گے:ڈاکٹر عارف علوی

  


اسلام آباد(صباح نیوز) صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ  پاکستان اور آزاد کشمیر کی طرف اٹھنے  والی میلی آنکھیں نکال دیں گے، مسئلہ کشمیر چند سالوں کا معاملہ ہے، پورے کشمیر کو آزاد کرکے دکھائیں گے، بھارت اپنے ملک میں مذہبی اور لسانی کشیدگی کی آگ بھڑکا چکا ہے اور اپنے  لوگوں کو اس میں جلا رہا ہے، دنیا دیکھے گھبرائے ہوئے بھارت کا نیو کلیئر بٹن پر انگوٹھا ہے پوری دنیا کیلئے خطرہ ہے،ساری دنیا میں تاثر پیدا ہوچکا ہے کہ بھارت غیر ذمہ دار نیو کلیئر پاور ہے، پاکستان بھارت پر فضائی، زمینی اور بحری  اخلاقی برتری قائم کرچکا ہے، نیچ حرکت کرنے والا بھارت سپر پاور نہیں بن سکتا، پاکستان  کا امن کا راستہ نہیں چھوڑے گا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جناح کنونشن سنٹر اسلام آباد میں بدھ کی شام پہلی قومی پارلیمانی کشمیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے۔ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی، سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سمیت چیدہ چیدہ حکومتی و اپوزیشن جماعتوں کے قائدین، رہنماؤں ، حریت کانفرنس کے نمائندوں، وزرائے اعلیٰ ، وزیراعظم آزاد کشمیر، وفاقی وزراء نے بھی دن بھر جاری رہنے والی کانفرنس سے خطاب کیا۔ صدر پاکستان نے کہاکہ کشمیر کے معاملے پر جذباتی کے ساتھ منطقی اور تاریخی جائزے کی ضرورت ہے، مستقبل کا کیا راستہ اختیار کرنا ہے عملی باتوں پر سوچنا چاہیے، بھارت کے 5 اگست کے اقدامات غیر آئینی، غیر قانونی، غیر اخلاقی ، غیر انسانی ہیں، اقوام متحدہ  اس لئے قائم ہوئی کہ  مسائل پرامن طریقے سے  حل اور طے ہوں ورنہ ہمارے مجاہدین پورے کشمیر کو آزاد کروانے والے تھے ، جواہر لعل نہرو اقوام متحدہ کی طرف بھاگے اور حق خودارادیت کا وعدہ کیا،برصغیر کی  غیر اصولی تقسیم کرنے والوں نے کشمیر کے تنازع کا ناسور چھوڑا، پاکستان تسلسل  سے اس مسئلے کو اٹھا رہا ہے مگر اس وقت ملٹی نیشنل   کمپنیوں کی اجارہ داری ہے ، پیسے  اور معیشت کی بنیاد پر فیصلے ہورہے ہیں اور یہ ملٹی نیشنل کمپنیاں پارلیمنٹ کو ہائی چیک کرچکی ہیں، عرب ممالک کے سامنے بھی یہی تجارتی اصول سامنے ہوں گے ، بھارت نے ظلم کا بازار گرم کررکھا ہے  معاملہ کرفیو کے اٹھنے کاہے تو اس کے ساتھ  یہ بھی ہے  کہ اس کے بعد کیا ہوگا اصل مسئلہ یہ ہے۔ بھارت نے اپنے ملک میں لسانی اور مذہبی کشیدگی کی آگ بھڑکا دی ہے، بھارت میں کوئی کشمیر پر بات نہیں کرسکتا، مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال اسی سلسلے کی کڑی ہے،بھارت کی طرف سے  لسانی مذہبی کشیدگی کا زہر پھیلایا جارہا ہے اور اپنی خواہش سے یہ آگ لگا لی ہے، ہم نہیں چاہتے کہ وہ اس آگ  کو جلاتا کیونکہ اس کے اثرات پاکستان پر بھی ہوسکتے ہیں اور مشکلات اور پریشانیاں آسکتی ہیں، بھارت میں جو ہونے جارہا ہے مسلمانوں کے مقام کی فکر مندی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت اپنے آپ سے  جنگ لڑ رہا ہے  تاریخ  سے جنگ لڑ رہا ہے، اسے مسلمانوں کی طویل حکمرانی پسند نہیں اس لئے اگر اس کا بس چلے تو تاریخ کے اوراق کو پھاڑ کر پھینک دے اپنے نصاب کو بدل دے،وہ مسلمانوں کو نچلی سطح پر لے جانا چاہتا ہے، شہریت سے بے دخلی کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے،کوئی پڑوسی بھارت سے خوش نہیں ہے ہر فورم پر پاکستان کی مخالفت کرتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بھارت کا یہ ناممکن خواب ہے کہ وہ سپر پاور بن جائے گا ایسی نیچ حرکت کرکے بھارت سپر پاور نہیں بن سکتا، سپر پاور بننے کیلئے دنیا میں بنیادی اصول ہیں۔ بھارت خواب دیکھتا رہے کبھی سپر پاور نہیں بنے گا۔صدر مملکت کا کہنا تھا کہ  370 کا تعلق نہیں ہے اصل مسئلہ یہ ہے کہ بھارتی آئین میں کشمیر کا ذکر کیوں ہے؟ یہ پوزیشن ختم ہونی چاہیے،کشمیر میں ہونے والی جدوجہد کا الزام پاکستان پر لگ رہا ہے اور لگتا رہے گا،خطرہ اس بات کا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کیلئے مشکلات بڑھیں  گی جو بھی کشمیر پر بات کرتا ہے اس کا گھیراؤ اور اسے ذلیل کیا جاتا ہے،بھارتی قانون ساز ایوانوں میں کشمیر کے  سنگین  حالات پر بات نہیں ہوسکتی ، راہول گاندھی بھی اپنے  بیان سے  دس دن بعد پھر  گئے ایسا بیان دیدیا  جو ان کے نانا نے بھی نہیں دیا تھا کیونکہ ان کے نانا جواہر نے  استصواب رائے کی بات کی تھی۔

صدر مملکت نے کہا کہ بھارتی فاشسٹ  کشمیریوں کو دبانا چاہتے ہیں مگر پوری دنیا کشمیریوں کی آواز سنتی رہے گی، آواز نہیں دب سکتی آج بھی 70 سال ہوگئے فلسطینیوں کی آواز کو کون دبا سکا، مسئلہ کشمیر شارٹ اور لانگ ٹرم نہیں بلکہ درمیانی مدت  کا معاملہ ہےچند سالوں میں اس حوالے سے حکمت عملی ہوسکتی ہے،اقوام متحدہ کے ملٹری ابزرور گروپ کو مقبوضہ کشمیر میں جانا چاہیے، فیکٹ فائنڈنگ مشن کو اجازت دی جائے،ضرورت اس امر کی ہے کہ کشمیر سے جو امیجز نکلیں ہر کوئی ان کی تشہیر میں اپنا کردارادا کرے،پاکستان کے وزیراعظم ، وزراء اور سیاسی رہنما آزاد کشمیر میں جلسے کرسکتے ہیں، بھارتی سرکار مقبوضہ کشمیر میں  کرکے دکھائے ، ہمیں اہم وفود بار بار بڑے ممالک میں بھیجنے چاہیے جو سپر پاور کا خواب دیکھ رہا تھا پاکستان نے  اس کے دوجہاز گرائے اور ایک جہاز اپنی حدود میں اس لئے  گرایا کہ کل کو بھارت اپنے  جہاز کے گرنے کی تردید نہ کردے،بھارت خود اپنی قوم کو آگ میں  جلا رہا ہے۔ صدر پاکستان نے کہاکہ واضح کردینا چاہتا ہوں کہ پاکستان اور آزاد کشمیر کی طرف اٹھنے  والی میلی آنکھیں نکال دیں گے،سفارتی سطح پر کوششیں تیز کرنے کی ضرورت ہے ، سرحدوں کو محفوظ رکھنے پر پاک فوج کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ، بھارت سیز فائر کی سینکڑوں خلاف ورزیاں کرچکا ہے۔ پاکستان امن کا ساتھ نہیں چھوڑے گا۔ دنیا میں یہ تاثر پیدا ہوچکا ہے کہ بھارت غیر ذمہ دار نیو کلیئر پاور ہے اور وہ اتنا گھبرایا ہوا ہے کہ اپنے میزائل سے اپنا جہاز گرا دیا۔ ہمارے لوگ جہاد کے جذبے سے لڑتے ہیں ، جان  دینے کیلئے جہاز اڑاتے ہیں۔ دنیا دیکھے کہ اگر بھارت کا نیو کلیئر بٹن پر انگوٹھا ہوگا تو ساری دنیا کیلئے  خطرہ ہے۔ بھارتی سب میرین کو ہم نے تباہ کیے بغیر واپس کیا۔ فضائی ، بحری، زمینی طورپر بھارت کو اخلاقی برتری دکھا چکے ہیں۔ بھارت کی کسی وہم و گمان  میں نہ رہے پہلے کشمیریوں سے  مقابلہ کرکے تو دکھائے  پاکستان بعد میں  آئے گا۔  صدر مملکت نے کہاکہ مسئلہ کشمیر چند سالوں کا مسئلہ ہے کوئی مائی کا لعل کشمیریوں کو نہیں دبا سکتا، کشمیر کی آزادی کیلئے  ساتھ دیتے رہے ہیں  ساتھ ہیں اور ساتھ رہیں گے ، سارے کشمیر کو آزاد کشمیر بنائیں گے۔

مزید : قومی


loading...