آرمی چیف کا انتباہ لیکن تدارک؟

آرمی چیف کا انتباہ لیکن تدارک؟
آرمی چیف کا انتباہ لیکن تدارک؟

  

حد تو یہ ہے کہ ہمارے ذرائع ابلاغ خوداپنے آرمی چیف کی تقریر بھی درست طریقے پر رپورٹ نہیں کر پاتے۔ 6ستمبر کو یوم دفاع کے موقع پر آرمی چیف جنرل باجوہ کا بیان یوں رپورٹ ہوا: "میں آپ کی توجہ ایک اور چیلنج کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں اور یہ چیلنج ففتھ جنریشن یا ہائبرڈ وار کی صورت میں ہم پر مسلط کی گئی ہے." بیان پڑھ کر میں نے کم و بیش تمام بڑے اخبارات دیکھے, ہر ایک میں 'ففتھ' جنریشن وار ہی تھا۔ میرے لیے یہ یقین تو کیا، گمان بھی خاصا دشوار ہے کہ نمبر ون آرمی کے چیف نے واقعی ففتھ جنریشن وار کی اصطلاح استعمال کی ہو گی۔ 17 جون 2019 کے اپنے مضمون میں خاصی تفصیل سے میں لکھ چکا ہوں کہ ابھی تک عسکری دنیا جنگوں کی صرف چار قسموں سے آشنا ہو پائی ہے۔ 1989ء میں ایک امریکی ولیم ایس لنڈ نے سب جنگوں پر بھرپور نظر ڈال کر انہیں چار قسموں (generations) میں بیان کیا. آرمی چیف کا بیان پڑھ کر میں ایک دفعہ پھر پڑھائی میں جت گیا کہ کسی ففتھ جنریشن وار کا سراغ ملے، معلوم ہوا جنگیں چار نسلوں تک ہی پہنچ پائی ہیں۔ تب خیال آیا کہ ہو نہ ہو، چیف کے بیان کی رپورٹنگ غلط ہوئی ہوگی۔ میں امید کرتا ہوں کہ آئی ایس پی آر اس کی وضاحت کرے گا۔

میں آرمی چیف کے بیان میں مذکور مضمون سے مکمل متفق ہوں کہ دشمن نے ہمارے ملک کے خلاف  نادیدہ ہائبرڈ یا دوغلی جنگ شروع کر رکھی ہے۔ ولیم لنڈ کی تحقیق کے مطابق یہ جنگ نان اسٹیٹ ایکٹر، ریاستی اداروں کے خلاف برپا کرتے ہیں۔ اس طریق واردات کے مطابق بھرپور جنگ سے قبل دشمن اپنے مقامی ایجنٹوں کے ذریعے عوام کے دلوں میں ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پھیلاتا ہے۔ادارے کمزور ہوتے ہیں، تو ملک کمزور ہوتا ہے۔ اس جنگ کی کئی شکلیں ہیں جو پاکستان میں کثرت سے استعمال ہوئی ہیں۔ ٹیکس نہ دینے کی ترغیب، مذہبی منافرت، پولیس اور ٹی وی اسٹیشن اور دیگر سرکاری عمارتوں پر حملے اور  لاقانونیت کی ایسی ہی متعدد شکلیں ہم 2014 کے دھرنے میں دیکھ چکے ہیں۔ اس دوغلی جنگ کے  علما کہتے ہیں کہ یہ لوگ اور تحریک لبیک یا رسول اللہ جیسے بے لگام فسادی ان مذکورہ حدوں تک  نہیں جا سکتے جب تک انہہں ریاستی اداروں کے اندر موجود دشمن کا کام کرنے والے طاقتور خودسر عناصر کی تائید حاصل نہ ہو۔ موجودہ ریاستی ترتیب میں ان بے لگام عناصر کی نشاندہی ناممکن الحصول ہدف ہے۔ یہ جرائم دبائے تو جا سکتے ہیں، چھپائے نہیں جاسکتے۔امید  ہے کہ ہم نہ سہی، ہماری نسلیں جب آزاد فضا میں کچھ لکھ بول رہی ہوں گی، تب مستقبل کا جسٹس سیٹھ وقار نہ صرف فیصلہ سنائے گا بلکہ اپنے فیصلے پر عمل بھی کرائے گا، انشاء اللہ۔

اس دوغلی جنگ کی ایک بھونڈی سی شکل آج کل خوب دیکھنے سننے کو مل رہی ہے:  دستوری اداروں کے خلاف مسلسل تشہیر کہ یہ سب ادارے بدعنوان ہیں۔ کبھی ممبران اسمبلی تو کبھی ارکان سینیٹ کی بنائی گئی جگتیں، تو کبھی سابق صدر ممنون حسین کی افادیت پر تضحیک آمیز سوال۔ صدر ممنون کا عہد تو بیت گیا لیکن اب موجودہ آئینی اندازکار پر طرح طرح کے سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ ماسوائے کسی معمولی سوجھ بوجھ والے غبی شخص کے، کسی عقلمند سے ان سوالات کاتصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اندازہ کیجئے کہ گریڈ 21یا 22 اور ان کے مساوی معمولی معمولی ریاستی اہلکاروں پر ذرائع ابلاغ ایک لفظ شائع کرنے کو تیار نہیں لیکن انہی اہلکاروں کے حکام یعنی وزیراعظم، وزراء اور صدر مملکت کی جس انداز میں کردار کشی ہو رہی ہے، یا یہ کہنا بہتر ہوگا کہ ہوتی رہی ہے، وہ کوئی ایسا معمولی عمل نہیں ہے جسے سوچنے سمجھنے والے لوگ نظر انداز کردیں۔

میں نے تو یہی نتیجہ نکالا ہے کہ پارلیمنٹ کے ہوتے ہوئے ملکی مفاد کے خلاف کبھی کوئی کام نہیں ہو سکتا۔ اس کی بین اور تازہ مثال یمن کی خانہ جنگی میں پارلیمنٹ کا فوج نہ بھیجنے کا فیصلہ ہے۔ حالانکہ گریڈ 22 کا ہمارا خودسر ریاستی اہل کار، امریکی حاشیہ بردار عربوں سے فوجیں بھیجنے کا وعدہ کر چکا تھا۔ کیوں کر چکا تھا؟ مستقبل کا کوئی سیٹھ وقار اس کا فیصلہ کرے گا۔ دعا کریں کہ ہماری پارلیمنٹ، ہمارے ادارے، سلامت رہیں۔ ریاستی اداروں کے اندر چھپے ففتھ کالمسٹ اور قومی مفاد کا کچھ ڈالروں کے عوض سودا کرنے والے ملک دشمن اب ہاری ہوئی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اس جنگ میں پاکستانی عوام، دستور اور دستوری اداروں کی فتح ہوگی۔ دوران ملازمت بیرونی طاقتوں کے مفادات کی حفاظت کر کے ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے آقائے ولی نعمت کی آغوش میں پناہ لینے اور انہی ملکوں میں کروڑوں ڈالر کے کاروبار کرنے والوں کے پول ایک ایک کر کے کھل رہے ہیں۔

ملک کے اساسی دستوری اداروں اور ان کے ارکان کے خلاف فیس بک، ٹویٹر اور واٹس ایپ پر اور ذرائع ابلاغ میں جاری اس، بقول آرمی چیف کے، دوغلی جنگ کے ہتھیاروں کا میں نے جائزہ لیا۔ ہمارے مقدس دستوری اداروں اور سیاستدانوں پر اٹھنے والے اخراجات کے حساب کتاب، گمراہ کن اعداد و شمار اور پرفریب انداز میں ان اداروں کے خلاف نفرت بھرے کلپ میں نے چند ماہرین کو دکھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کلپوں کی ڈیزائننگ عام آدمی سے نہیں ہو سکتی، گویا مجھے آپ کو روزانہ نت نئے  ملنے والے کلپ بنانے والے اس فن کے ماہر ہیں۔نہ صرف ڈیزائن اور فن تشہیر بلکہ، یوں کہئے کہ شر پھیلانے کے فن سے بھی بخوبی واقف ہیں۔ دستور، دستوری اداروں اور ان اداروں کے سیاسی افراد کے خلاف یہ جنگ یونہی جاری رہی تو نتائج کسی سے پوشیدہ نہیں رہنا چاہیے۔ ریاستی اداروں کے اندر گھسے غیرملکی اہلکاروں کے ذہن میں اگر یہ خناس سمایا ہوا ہے کہ وہ کامیاب ہو جائیں گے تو یاد رکھئے،اب ملک بارود کے ڈھیر پر ہے۔ اب دستور دشمن اور غیر ملکی ایجنٹ بڑی عمدگی سے کھل کر عوام کے سامنے بے نقاب ہو چکے ہیں۔ پس پشت رہ کر فیصلہ سازوں کا بیس کیمپ کبھی پنجاب ہوا کرتا تھا۔ مقدس دستوری اداروں کے خلاف حالیہ تشہیری مہم اور اسلام آباد اور پنڈی جیسے مرکزی شہروں سے درجنوں افراد کے غائب ہونے پر پنجاب میں بھی فضا اب مطلقا بدل چکی ہے۔ یہ عناصر جس شاخ پر بیٹھے ہیں، اسی کو عقل مند بن کر کاٹ رہے ہیں۔

کیا ہی اچھا ہو، اگر ہمارے محترم آرمی چیف پنجابی محاورے کے مطابق منجھی تھلے ڈانگ  پھیر لیں۔ ہاں! خیال رہے کہ عوام میں سے ایک فی لاکھ لوگ بھی مسلح افواج کے خلاف نہیں ہیں،مسلح افواج کوئی نادیدہ جنوں بھوتوں کا گروہ نہیں ہے۔ میرے آپ کے بھائی بیٹے ہیں۔ میرا اپنا ایک سگا بھائی فوج میں رہ چکا ہے۔ میرے بہنوئی 71 کی جنگ میں  جنگی قیدی رہ چکے ہیں۔ خود میں فوجی تربیت حاصل کر چکا ہوں، یہ تو گھر کے اندر کے افراد ہیں، اپنے خاندان کا ذکر کروں تو صاحب! پورا خاندان فوجی ہے. چنانچہ قارئین کرام! خلاصہ یہ کہ مسلح افواج اگر ہمارا مقدس ادارہ ہے، عدلیہ ہمارے سر کا تاج ہے تو یاد رکھیے، ان سب سے بالا ان سب کے اوپر، ہمالہ کی برفیلی چوٹیوں سے بھی اوپر ہمارا دستور ہم سب کے لیے، سب سے زیادہ مقدس ہونا چاہیے۔

دستور کی روشنی میں بنے ادارے ان سب سے کہیں زیادہ مقدس ہیں۔ مقدس دستوری افراد اور اداروں کی تضحیک، ان کی کردار کشی اور ان سب کے خلاف اس دوغلی جنگ کی طرف آرمی چیف کو مزید توجہ کرنا چاہیے جس کی نشاندہی  وہ خود کر چکے ہیں۔ ہم میں سے کوئی شخص مسلح افواج کی تضحیک برداشت نہیں کر سکتا۔ یہ مجاہد پاکستانی عوام کی افواج ہیں۔ اسی طرح پاکستانی عوام اب پارلیمان اور دیگر اداروں کے بارے میں بھی بہت حساس ہو چکے ہیں۔یہ حساسیت دن بدن بڑھ رہی ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ آرمی چیف دستوری اداروں کے خلاف نادیدہ و پوشیدہ افراد کی اس دوغلی جنگ کے خلاف کردار ادا کریں گے کہ ملک بارود کے ڈھیر پر کھڑا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -