سخت ہوتا اقتصادی شکنجہ 

سخت ہوتا اقتصادی شکنجہ 
سخت ہوتا اقتصادی شکنجہ 

  

پی ٹی آئی حکومت کو آئے دو سال سے زیادہ کا وقت گزر چکا، کارکردگی کا حال سب کے سامنے ہے، پچھلی حکومتوں کو کوسنے کی پالیسی میں اب دم نہیں رہا، مستقبل کے حوالے سے تشویش بڑھتی جارہی ہے، اور ایسا ہونا ہرگز بے جا نہیں ہر شعبے میں افراتفری ہے، حکمرانوں کی جانب سے یہ وتیرہ اختیار کرلیا گیا ہے کہ دیگر گھسے پٹے نعروں اور دعوں کی طرح یہ رٹا رٹایا سبق بھی ہر دوسرے مہینے پڑھ کر سنا دیا جاتا ہے کہ مشکل وقت گزر چکا، اقتصادی حوالے سے سمت درست ہوگئی اور اس کے خوشگوار نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں، پورے ملک کے عوام جانتے ہیں کہ ان باتوں میں رتی برابر سچائی نہیں،لیکن شاید ابھی تک سب کو ٹھیک سے اندازہ نہیں کہ معاشی ابتری کا یہ دور لمبا چلے گا، کوئی شارٹ کٹ ہے ہی نہیں، اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ ملکی معیشت کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت برباد کیا گیا، اس الزام سے اتفاق نہ بھی کیا جائے تو اس امر سے انکار ممکن نہیں کہ پی ٹی آئی حکومت نے فاش غلطیاں کیں، اب حالات بگڑ کر اس سطح پر آچکے ہیں کہ حکومت کے سرپرست خود تسلیم کرنا شروع ہوگئے ہیں کہ ملک کو مشکل معاشی صورتحال کا سامنا ہے،تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہا جارہا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت آنے کے بعد ملک اقتصادی طور پر سنبھل چکا تھا مگر کورونا وبا نے پھر سے مشکل میں ڈال دیا، اس بات میں کتنی سچائی ہے اس کا پورے 22 کروڑ عوام کو اچھی طرح سے پتہ ہے، تبدیلی حکومت کے آتے ہی عوام پر مالی تنگی کا دور شروع ہوا جو ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید سخت ہوتا چلا گیا، پی ٹی آئی دو نہیں ایک پاکستان کی بات کرتی ہے تو یہ ماننا ہوگا کہ لوگوں کو مالی مشکلات کی چکی میں پیستے ہوئے اس نے کسی چھوٹے بڑے ملازمین یا کاروبار کرنے والوں سمیت کسی کا لحاظ نہیں کیا، یہ الگ بات ہے کہ مالدار طبقہ پہلے سے موجود وسائل کے باعث وقت کاٹ رہا ہے جبکہ مڈل کلاس اور غریب لوگ اخراجات کم کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں، ہاں مگر ہر طرح کے مافیاز اس مالی سونامی کی زد میں آنے سے محفوظ رہے الٹا کئی گنا زیادہ مال بنایا اور آج بھی بنا رہے ہیں، سو یہ واضح ہے کہ کورونا کا محض بہانہ ہے، اصل نقصان پہلے ہی ہو چکا تھا۔

آج حالت یہ ہے کہ وزیراعظم ایک تقریب میں تقریر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس سال سردیوں میں گیس کا بحران آئے گا، اور اس سے اگلے سال پھر بحران آئے گا جو پہلے سے کہیں زیادہ سنگین ہو گا، ساتھ ہی یہ“ خوشخبری“ بھی سنا دی کہ حکومت صارفین کو موجودہ نرخوں پر گیس فراہم کرنے کے لیے سبسڈی نہیں دے سکتی، پاکستانی عوام گیس بھی مہنگے داموں خریدنے کے لیے تیار ہو جائیں، اس خطاب کے فوری بعد آئی ایم ایف کے مطالبات سامنے آگئے کہ بجلی اور گیس کے نرخوں میں فوری طور پر اضافہ کیا جائے، تب جاکر یہ راز کھلا کر وزیر اعظم دراصل عالمی مالیاتی ادارے کے ایجنڈے کا ذکر اپنے الفاظ میں کر رہے تھے، آئی ایم ایف نے نیپرا اور اوگرا کو مالی خود مختاری دینے کا بھی مطالبہ کیا اور ایک ہزار ارب روپے کے ٹیکس جمع کرنے کی شرط بھی رکھ دی، ضروریات کو کم کرتے ہوئے مجموعی مالی ضروریات کو کم کرنے پر بھی زور دیا، تمام تر حکومتی دعوں کے برعکس زوال کی سمت سفر جاری ہے سال 2020 میں پاکستان کی کاروباری صلاحیت میں  کمی واقع ہوئی ہے،عالمی انوویشن انڈیکس (جی آئی آئی) پر درجہ بندی سال 2019 کے 104 کے مقابلے میں بڑھ کر 2020 میں 107 ہوگئی۔مارکیٹ کی تمیز کے حوالے سے پاکستان کی درجہ بندی  2019 میں 102 سے بڑھ کر 2020 میں 116 ہوگئی، کیونکہ سال کے دوران ملک میں سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی صلاحیت بھی کمزور ہوئی۔

اب اگلے کیا ہونے والا ہے اسکا اندازہ اسی بات سے لگا لیں کہ کورونا کی افتاد کے باعث عالمی مالیاتی اداروں نے قرضوں کی واپسی کے لیے قسطیں ادا کرنے کے ٹائم ٹیبل میں جو رعائتیں دے رکھی تھیں، ان کی مدت چار سے پانچ ماہ کے دوران ختم ہونے والی ہے، یہ عارضی ریلیف پاکستان کے بے حد اہمیت کا حامل رہا،آئی ایم ایف پروگرام کے  معمول کے مطابق اطلاق ہونے کی صورت میں روپے کی قدر مستحکم رکھنا بہت بڑا امتحان ہوگا، ڈالر کا ریٹ بڑھا تو کاروباری سرگرمیوں اور معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہونگے،  ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ بھی ایک بہت اہم پہلو ہے جو ہمیں عالمی اسٹیبلشمنٹ کے چنگل میں پھنسائے ہوئے ہے، یہ الگ بات ہے کہ بلیک لسٹ میں جانے کا خطرہ سرے سے موجود ہی نہیں، کیونکہ ابھی ان کو کسی حد تک ہماری ضرورت ہے، ستم ظریفی تو یہ ہے کہ گرے لسٹ میں رہنا ملک کے مفاد میں نہیں اور اگر اس سے نکل بھی جاتے ہیں تو اس کا عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا، عرب بلاک اب واضح طور پر اپنے معاشی مفادات انڈیا سے جوڑ رہے ہیں، سی پیک پاکستان کے لیے گیم چینجر منصوبہ ضرور ہے مگر اس پر کب تک اتنی پیش رفت ہوگی کہ ثمرات عام لوگوں تک پہنچ سکیں اس کا کسی کو علم نہیں، پتہ نہیں ایسا کچھ ہوگا بھی یا نہیں، چین کے صدر نے اس سال طے شدہ  دورہ پاکستان ملتوی کردیا، یہ اچھا شگون نہیں، ہمارے حکام عجیب و غریب وضاحتیں پیش کررہے ہیں، اصل بات صرف اتنی ہے کہ چینی حکومت، سی پیک کے حوالے سے بے چینی کا شکار ہے، اپنی ناراضگی کا اظہار سلیقے سے کرتے ہیں، حال ہی میں سبکدوش ہونے چینی سفیر نے سابق صدر آصف زرداری کے گھر جاکر ان سے ملاقات کی اور سی پیک کے لیے ان کی کوششوں کو سراہا۔

بیرون ملک پاکستانیوں سے جو توقعات باندھی گئی تھیں وہ سراسر خام خیالی تھی، جو ملک میں رہنے کو تیار نہیں وہ کسی سلیبرٹی کو چندہ یا تحفہ تو دے سکتا ہے مگر سرمایہ نہیں لائے گا، ملک میں احتساب کا نظام ہے نہ ہی لوگوں کو انصاف ملنے کی توقع، کرپشن الگ سے جڑوں کو کھوکھلا کر رہی ہے، حالیہ دنوں میں زرمبادلہ کی ترسیل بڑھنے کا حکومتی دعوی بھی خوش فہمی ہے، بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنے رشتہ داروں کے مالی حالات سے پریشان ہوکر رقوم بھجوا رہے ہیں، اصل خطرہ خود ان کو لاحق ہے، خصوصا مشرق وسطی میں ملازمتیں بڑے پیمانے پر ختم ہو رہی ہیں، جلد ہی اکثر کو واپس لوٹنا پڑ سکتا ہے، اس کے بعد اگلا بحران ہمارا منتظر ہوگا، آگے کیا ہونے والا ہے یہ دیکھنے کے لیے  اعداد و شمار کا حقیقی جائزہ لینا ضروری ہے تحریک انصاف کی حکومت کے پہلے دو سالوں کے دوران قرضوں میں 11.35 ٹریلین یعنی گیارہ ہزار ارب سے زیادہ کا اضافہ ہو چکا ہے۔ واجب الادہ مجموعی قرضوں کا حجم 36.3 تین ٹریلین یعنی چھتیس ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔قرضوں کے اس بے تحاشا بوجھ کی وجہ سے قرضوں کی واپسی کی صلاحیت  متاثر ہو رہی ہے۔قرضوں کا بوجھ بڑھنے کی وجوہات میں بڑھتے ہوئے مالیاتی خسارے کے علاوہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی اور شرح سود کا بلند ہونا بھی تھاوزارت خزانہ کے مطابق اس وقت مجموعی  قرضہ ملکی جی ڈی پی کا 87 فیصد تک آچکا ہے، 2008 میں ملک پر مجموعی قرضوں کا حجم ساڑھے چھ ہزار ارب روپے تھے جو پیپلز پارٹی کی حکومت کے آخری مالی سال میں ساڑھے تیرہ ہزار ارب تک جا پہنچا۔

مسلم لیگ ن  کی حکومت کے آخری مالی سال میں مجموعی قرضہ پچیس ہزار ارب تک جا پہنچا جو موجودہ حکومت کے پہلے دو سالوں میں چھتیس ہزار ارب روپے سے بھی تجاوز کر چکا ہے۔دو سال کے عرصے میں ملک پر ساڑھے گیارہ ہزار ارب نئے چڑھنے والے قرضے کی ذمہ داری کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا ذمہ دار آئی ایم ایف اور اس کی دی گئی پالیسی کو ملک میں نافذ کرنے والے افراد ہیں۔شرح سود کو بلند سطح پر رکھنے کی شرط آئی ایم ایف کی تھی جسے سٹیٹ بینک نے پورا کیا تو اسی طرح روپے کی قدر میں کمی بھی بین الاقوامی مالیاتی ادارے کی ایک بنیادی شرط تھی جسے بغیر کسی مزاحمت کے مان لیا گیا اور ملک کی کرنسی میں بے تحاشا کمی کی گئی۔اب اصل خطرہ یہ ہے کہ  ملک میں معاشی پالیسیوں کو جس طرح نافذ کیا جا رہا ہے تو اس سے ایک نئے آئی ایم ایف پروگرام کے لیے راہ ہموار کی ہوگی۔یعنی عالمی مالیاتی ادارے کے پاس آخری بار جانے کا دعوی بھی یو ٹرن میں بدل جائے گا۔

مزید :

رائے -کالم -