بار دیگر۔۔۔باردیگر

بار دیگر۔۔۔باردیگر

  

باکمال شعراء کے چند کلام ادب کے شاہکار تو ہوتے ہی ہیں تاہم بعض دفعہ ان کی شاعری جب پیرائے صوت و آہنگ میں آتی ہے تو اس کی مقبولیت کا بھی منفرد معیار بن جاتاہے۔شائق ایسے کلام کو سادہ انداز میں حتیٰ کہ تحت الفظ بھی عموماً ادا نہیں کررہا ہوتا بلکہ بے ساختہ مقبول طرز پر گنگنا ناشروع کردیتا ہے۔ شاد عظیم آبادی اس غزل کے خالق  ہیں جس کا مطلع ہے

ڈھونڈ وگے اگر ملکوں ملکوں 

 ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم 

عابدہ پروین صاحبہ کی حقِ گائیکی کا نقطہ عروج کہ اس پہلے مصرعے کی جاذبیت میں ہی سامع محو ہوجاتا ہے اور اس (سامع) کے تخیل کی پرواز، سخن و آہنگ کے فضا میں (بسااوقات دوسرے مصرع کی جانب متوجہ ہونے کی بجائے) کسی اور جانب چلی جاتی ہے۔۔۔اکثر اپنے پیارے مرحومین کی طرف!

مرحومین ابرارحسین نیکوکارہ، قاضی مدثر حسن قاسمی، ڈاکٹر اجمل ہنجرا صاحبان بھی ایسی شخصیات تھیں جن کاحسن کلام و ساز تعاون مقبولیت کے آہنگ پرچنیوٹ کی فضا میں جیسے رچ بس ہی گیا۔ چنیوٹ کے وکلاء جو اپنے مرحوم اراکین بار کو یاد کرنے اور رکھنے کی روایت سے بخوبی آشنا ہیں ان  مرحومین  کو  اپنے دائرہ تحسین میں اس لیے نہیں لارہے کہ ان  کی راقم اور عہدداران نشین عرفان  الحق پوری، عرفان حسین نیکوکارہ و سابق سیکرٹری بار قاضی ابراحسین صاحبان سے برادارنہ رشتہ داری تھی بلکہ چنیوٹ بار کا شاید ہی کوئی ایسارکن ہو جو مرحومین سے کسی نہ کسی رنگ کی اپنی برادرانہ تعلق داری کا داعی نہ ہو۔

سب  تماشائے  کن  ختم شد

کہ  دیا  اس نے  بس  اور بس 

اس سال کے آغاز میں ہی میاں عرفان نیکوکارہ کی کامیابی کے لیے تشکر کی فضا مکدر ہو گئی، ابرار حسین نیکوکارہ صاحب کی رحلت نے ہر چشم کو اشکبار کردیا۔ ابرار صاحب اہلیان چنیوٹ میں ایسے محبت بکھیرتے تھے گویا ان کی مقابلے کے امتحان میں کامیابی میں ہم نے  جیسے کوئی کاوش کی ہو۔ وہ ملک کے جس گوشے میں بھی تعینات رہے، اہلیان چنیوٹ اور وکلاء بالخصوص نازاں رہے۔ چنیوٹ کا کو ئی باسی اگر اتفاقاً بھی ان کی جائے تعیناتی سے گزرتا تو اپنے لیے ان کا دروازہ کھلا پاتا۔ جائے تعزیت پر متنوع نمبر پلیٹس اس امر کی غماز تھیں کہ وہ جہاں بھی گئے داستان محبت چھوڑ آئے۔

یوں بہار آئی امسال کے گلشن میں صبا

پوچھتی ہے گزراس بارکرو ں یا نہ کروں 

ہماری آمد سے بہت پہلے چنیوٹ کچہری کی فضائیں جس نام سے آشنا تھیں وہ تھا قاضی مدثر حسن قاسمی اور محمد حسین جاوید صاحب کا نام ہمارے والد جعفر قاسمی صاحب سے گھر میں ہم ایسے سنتے جیسا وہ والد صاحب کے کچہری میں نمائندہ ہوں۔ ہم جتنا عرصہ چنیوٹ میں مسلسل رہے اور اب بھی تسلسل سے بھائی جان کے ہی صفدر گجر، عرفان حیدر گکھڑ ایسے شاگردوں سے پیار و احترام سمیٹتے ہیں۔ خاور محمود گجر صاحب سے ملاقات میں ہمیشہ صرف بھائی جان کی باتیں ہوتی رہیں / ہیں۔خاور صاحب نے ہم سے سیاست پر کبھی بات نہ کی ہے اس کے لیے ان کا انتخاب مشق مخدوم علی حسن ہی ہیں۔مخدوم علی حسن،بھائی جان مدثر کے رشتے میں بھتیجے تھے۔ دوستی اور مشاورت بھی مخدوم صاحب نے اپنے چاچو سے خوب نبھائی تاہم کبھی بھی احترام کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ بھائی جان مدثر کی چنیوٹ کچہری میں آمدورفت کا مرکزی مقامِ ربط، مخدوم علی حسن ہی ہوتے؛ خواہ مخدوم صاحب کا چیمبر ہوتا، مرکزی گزرگاہ پر منتظر ساعتیں یا صوتی نشری رابطہ۔ اب  بھائی جان مدثر کے صاحبزادے محمد احمد قاسمی بھی  اسی روایت کو  برقرار  رکھے ہوئے  ہیں ، مخدوم صاحب کی مصاحبت  میں جہاں بھی اپنا مدلل نقطہ نظر  بیان کرتے  نظر آئیں، احترام  کا دامن تھامے رکھتے ہیں۔ جیسے  محمد احمد قاسمی کی شباہت  بھائی جان  مدثر  پر  ہے،  ویسے  ہی  خدا کرے  وہ عملی  زندگی  میں بھی،  اپنے والد  کی  طرح، اپنے  دادا  کی اعلی روایات  کو زندہ رکھیں۔

 ایک ایک  کرکے  لوگ  بچھڑ تے  گئے 

یہ  کیا  ہوا  کہ  وقفہ  ماتم  نہیں  ملا 

ڈاکٹر اجمل ہنجرا صاحب کا وکلاء سے تعلق فوجداری پیشہ وارانہ تقاضے سے بہت آگے جا چکا تھا۔ کچھ معالج اپنے طرزمسیحائی کی وجہ سے فیملی  ڈاکٹرکے رتبے سے بھی بلند ہوکر طبیب شہریان کے درجہ پر متمکن ہو جاتے ہیں۔ہم اگر صرف یہی کہہ دیں تو اجمل صاحب کے کار ہائے نمایاں آشکار ہو جائیں کہ وہ حاذق چنیوٹ ڈاکٹر آر ایم یٰسین مرحوم و مغفور کا منصب احسن طریقے سے نبھا رہے تھے۔ ان کی جدائی شہر بھر کے لیے آزاردگی ہے۔

ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں، ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

تعبیر ہے جس کی حسرت و غم، اے ہم نفسو و ہ خواب ہیں ہم

دوسرے مصرع پر غور فرمائیں:

 چنیوٹ کے وکلاء اپنے مرحوم محسنین کو یاد کرتے رہے گے۔ اب  صدماتی لمحات کا  یہ عالم ہے کہ دنیا جہاں عرفان پوری صاحب کو دلاسہ دے رہی ہے شاید اس سے بھی زیادہ شدت  اظہار سے قاضی ابرار حسین، میاں اسد نثار بھٹی ایسی معزز اراکین بارسے بھی غمگسار ہے۔ ہر عصر کے اراکین بار میں مقبول،میاں اسد نثار بھٹی اپنی ذات میں ایک انجمن ہیں۔ ہماری بار کے محترم جعفر علی شاہ جعفری، قاضی مشرف حسین، چوہدری بشیر احمد، میاں منشاء اللہ ایسے صاحبان مشفق اور مشاق ہیں تاہم ہنوز بزرگ کہلوائے جانے کی طرف بوجوہ راغب نہ ہو رہے ہیں۔ ایسے میں اسد صاحب اپنے جوان کندھوں پر لباس بزرگی زیب تن کیے ہوئے ہیں۔ (ہمیں اراکین بار چنیوٹ کے علاوہ  دیگر شخصیات کا تذکر ہ کرنے کی اپنی تجویز پر  حیرت آمیز سرسری مخالفت کا سامنا بھی ہوا، میاں اسد صاحب نے حوصلہ افزائی کی)  ایسی خوبصورت شخصیت کی قدر دانی بھی ہم پر لازم ہے کہ

لاکھوں ہی مسافر چلتے ہیں، منزل پر پہنچنے ہیں دو ایک 

اے اہل زمانہ قدر کرو نایاب نہ ہوں، کم یاب ہیں ہم

(ڈ سٹرکٹ بار ایسوسی ایشن  چنیوٹ کے زیر اہتمام منعقدہ تعزیتی اجلاس میں کیاگیا اظہار خیال)

مزید :

رائے -کالم -