خود ساختہ سزائیں یا حدود اللہ کا نفاذ

خود ساختہ سزائیں یا حدود اللہ کا نفاذ
 خود ساختہ سزائیں یا حدود اللہ کا نفاذ

  

2020ء یقینا اُمت مسلمہ کے لئے بڑی آزمائشوں کا سال ہے، فتنوں کا دور ہے، ہر لمحہ بدلتے حالات کا  دور دورہ ہے، کورونا کو فتنہ کہہ لیں، عذاب کہہ لیں، آزمائش قرار دے لیں،اب وہ ہو رہا ہے،جو نوعِ انسانی میں شائد پہلے نہیں ہوا ہے، زیادہ دور کی بات نہیں ہے 2019ء کی باتیں تاریخ کا حصہ ہیں، مغرب نے حجاب پر پابندی کے لئے کیا کچھ نہیں کیا، حجاب کو عورت کی آزادی کے راستے کی رکاوٹ، عبایا کو دہشت کی علامت، اس سے کہیں زیادہ عریانی، فحاشی اور بے حیائی کا پرچار کرنے والے دور جدید کے طائع آزماؤں نے کہاں کہاں اُمت مسلمہ کو زخم نہیں دیئے۔ مجھے یاد ہے دوست ایک دوسرے کو کاروبار شروع کرنے کے لئے مشورہ دیتے اور لیتے ہیں۔ایک کاروبار پر یکسوئی ہوتی تھی، عمرہ، حج کا کام کر لیں، دُنیا بھی  مل جائے گی اللہ کے گھر سے بھی رابطہ رہے گا۔

یہ بھی کہا جاتا ہے اکانومی دُنیا کی جتنی مرضی تباہ ہو جائے اللہ اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گھر بند نہیں ہو گا، عمرہ تو چلتا رہے گا یہی وجہ تھی 2018-19ء میں ٹریول، عمرہ اور حج کے لئے ایس ای سی پی میں رجسٹرڈ ہونے والی کمپنیوں کی تعداد میں 33فیصد اضافہ ہوا ہے، نافرمانیوں کا سلسلہ بڑھا، رحمت ِ خداوندی نے جوش مارا وہ رب جو غفور رحیم ہے اُس نے اپنے غضب کی ایک لہر اِس دُنیا پر ماری، جدید دُنیا کی پوری ٹیکنالوجی زمین بوس ہو گئی، پھر دُنیا نے دیکھاخانہ خدا کے دروازے بھی بند ہو گئے، روضہئ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حاضری سے بھی روک دیا گیا، حجاب سے منع کرنے والے مغرب کو منہ چھپاتے دُنیا دیکھ رہی ہے، یہ مثالیں ہمیں بدلنے اور رجوع للہ کے لئے کافی ہیں،مگر ایسا نہیں ہو رہا اس کے برعکس ہمارا الیکٹرونک اور سوشل میڈیا،جو مولوی حضرات کو فتویٰ دینے اور کم  علم ہونے کا طعنہ دے رہا تھا اب خود ہی اینکر دینی مفکر اور عالم بن کر حدود اللہ کو پامال کرتے نظر آتے ہیں یہ کوئی نئی چیز نہیں ہو رہی، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان رونما ہونے والے فتنوں کی نشاندہی کر چکے ہیں، قربِ قیامت کے قریب کے مسلمانوں کی حالت ِ زار اور دین سے دُوری اس دور کے فتنوں کا ذکر تاریخ کا حصہ ہے۔

موٹروے زیادتی کیس کو بنیاد بنا کر جس انداز میں حدود اللہ پر عملدرآمد کی بجائے خود ساختہ سزائیں تجویز کرنے کا جو نیا سلسلہ شروع ہوا ہے یہ دین کے بگاڑ اور قرآن و سنت سے عملی بغاوت کا شاخسانہ ہے، حالانکہ موٹروے زیادتی کیس کے دن ایک اخبار میں جنسی تشدد، زنا بالجبر کے20 سے زائد کیس رجسٹرڈ ہونے کی خبریں شائع ہوئیں ہیں، یقینا موٹروے زیادتی کیس بڑا لمحہ فکریہ ہے ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا۔ مدینہ کی ریاست بنانے کے دعویدار حکمرانوں کے لئے بڑا چیلنج ہے۔

افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس پہلو کا جائزہ لینے،بات کرنے اور ٹو لگانے پر جنسی تشدد، قتل و غارت  زنا بالجبر کے واقعات کیوں کر بڑھ رہے ہیں، ان کا تدارک کیسے ممکن ہے؟ قرآن و سنت سے رہنمائی لینے کی بجائے مغربی ممالک میں بچوں سے بداخلاقی،جنسی تشدد کرنے والوں کو نامزد بنانے یا نہ بنانے، پھانسی سرعام دینے یا نہ دینے کی ایسی فضول بحث شروع کر دی گئی ہے، جس کا بظاہر کوئی فائدہ نظر نہیں آ رہا۔چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے پولیس کو قبضہ مافیا قرار دے کر پورے نظام کو ناکام قرار دینے کے ریمارکس سے پوائنٹ سکورنگ اور واہ واہ تو ہو سکتی ہے، پولیس کلچر تبدیل ہو سکتا ہے نہ ملزمان کو فوری انصاف مل سکتا ہے، ہمارے پاکستانی میڈیا کا تو وہی حال ہے جو تاریخ بتاتی ہے، بغداد پر حملہ ہو رہا تھا،حملے کا جواب دینے اور منصوبہ بندی کرنے کی بجائے اس دوران یہ بحث جاری تھی، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہوئی تھی، جس قلم سے حدیث لکھی جاتی تھی اس پر کتنے فرشتے بیٹھے ہوتے تھے اسی طرح رومن ایمپائر کے دارالحکومت قسطنطینہ (استنبول) کا جب1453ء میں سلطان محمد فاتح نے محاصرہ کیا تو اس وقت مسیحی علماء اس بات پر مناظرے کر رہے تھے،کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جب پھانسی دی گئی اس دن خمیری روٹی کھائی تھی یا فطیری؟

فرشتہ سوئی کے ناکے میں سے گزر سکتا ہے یا نہیں، ہندوستان میں مسلمانوں کے زوال پذیر ہونے کے درجنوں واقعات درج ہیں (نعوذ باللہ) یہ بھی مسلمانوں میں مناظر ہوتے رہے ہیں، اللہ جھوٹ بول سکتا ہے یا نہیں۔یہی حال موجودہ اُمت مسلمہ کا بالعموم اور پاکستانی مسلمانوں کا بالخصوص ہے۔ ریاست اپنی اصل ذمہ داری کی بجائے عوام کو رام کرنے کے لئے جذباتی نعرے متعارف کرا رہی ہے، جیسے زیادتی کرنے والے کو نامرد کر دیا جائے، پارلیمینٹ میں حکمران اور اپوزیشن فضول بحث کر رہے ہیں،ہمارے رہبر آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمانِ خدا وندی پر عمل کر کے ہمارے لئے رہنمائی دے دی ہے۔ اللہ نے سورہئ نور میں فرما دیا ہے، غیر شادی شدہ اگر زنا کرے تو 100 کوڑے مارے جائیں، شادی شدہ کرے سنگسار کیا جائے، سنگسار کے معنی پھانسی کے نکالے جا سکتے ہیں، سنگسار سرے عام کیا جاتا  تھا تاکہ لوگ عبرت پکڑے اور گناہوں سے باز رہیں۔

بات جو کرنے والی ہے دو دن پہلے بل پاس ہوا ہے پاک فوج یا سربراہوں کے خلاف بات کرنے والے الزام لگانے والے کو دو لاکھ جرمانہ  ہو گا، درست عمل ہو سکتا ہے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پر قائم ہونے والے پاکستان میں حدود اللہ کی خلاف ورزی پر جرمانہ سزائیں کیوں نہیں ہو سکتی، ریاست کا سربراہ کوئی بھی تغریب عام کر سکتا ہے۔ اس میں سرعام پھانسی، ایک سال کی جلاوطنی وغیرہ شامل ہیں ایسا ہوتا رہا ہے۔ وزیراعظم کو حدود اللہ پامال کرنے والوں کے خلاف بھی ایکشن لینا ہو گا ان کے خلاف بھی جرمانوں، سزاؤں کا فیصلہ کرنا ہو گا، بڑھتے ہوئے جنسی تشدد، زنا بالجبر، بچوں سے بداخلاقی کے رجحان کو روکنے کے لئے جنسی ہیجان پیدا کرنے والے الیکٹرونک،پرنٹ،سوشل میڈیا، اشتہارات، انٹرنیٹ کو کنٹرول کرنا ہو گا۔

نہ رہے بانس نہ بجے بانسری

اگر جنسی تشدد، بے حیائی، فحاشی پیدا کرنے والے عوامل کو نکیل ڈالنے کی ضرورت ہے،باقی سب کچھ سیاست اور پوائنٹ سکورنگ کے سوا کچھ نہیں۔ آخر میں ایک واقعہ،حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک صحابی  ؓ آئے، یا رسول اللہ مَیں اپنے نفس پر قابو نہیں پا سکتا، مجھے رجوع اللہ میں سخت دشواری ہے، مجھے نامرد بننے کی اجازت دی جائے، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ الفاظ سن کر سخت غصے میں آ گئے، فرمایا:میری زندگی آپ کے  سامنے ہے،مَیں نے شادیاں بھی کی ہیں اللہ سے تعلق بھی قائم ہے۔ اللہ کے نبی نے نامرد بنانے کی درخواست کو سختی سے مسترد کر دیا۔جب فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس آ گیا اس کے بعد دُنیا میں کسی چیز کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

مزید :

رائے -کالم -