آصف زرداری کی ضمنی ریفرنسز خارج کرنے کی درخواستوں پر فیصلہ 23 ستمبر تک موخر

آصف زرداری کی ضمنی ریفرنسز خارج کرنے کی درخواستوں پر فیصلہ 23 ستمبر تک موخر
آصف زرداری کی ضمنی ریفرنسز خارج کرنے کی درخواستوں پر فیصلہ 23 ستمبر تک موخر

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سابق صدر آصف زرداری کی ضمنی ریفرنسز خارج کرنے کی درخواستوں پر فیصلہ 23 ستمبر تک موخرکردیا گیا،آصف زرداری کی ضمنی ریفرنسز خارج کرنے کی درخواستوں پر فیصلہ 23 ستمبر کو سنایا جائے گا،احتساب عدالت کے جج اعظم خان 23 ستمبر کو محفوظ فیصلہ سنائیں گے ۔

گزشتہ روز سابق صدر کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے میگامنی لانڈرنگ، پارک لین ، ٹھٹھہ واٹر سپلائی ضمنی ریفرنسز خارج کرنے کی درخواستوں پر دلائل دیتے ہوئے کہاتھاکہ ٹھٹھہ واٹر سپلائی ریفرنس سے آغاز کرناچاہوں گا، چیئرمین نیب کے پاس ضمنی ریفرنس دائر کرنے کااختیار ہی نہیں ، اس کیس میں کوئی انکوائری اور انویسٹی گیشن نہیں کی گئی ، آصف زرداری کو نیب کی جانب سے طلب نہیں کیاگیا ، سابق صدر آصف زرداری کانام اس ریفرنس میں ڈال دیا گیا ، فوجداری قانون میں ادھورے چالان کے بعد مکمل چالان جمع کرایا جا سکتا ہے ، نیب آرڈیننس میں عبوری اور پھر ضمنی چالان جمع نہیں کرایا جا سکتا ۔

فاروق ایچ نائیک نے کہاکہ ریفرنس صرف نیب کی بدنیتی ہے ،کوئی قانونی حیثیت نہیں ، ریفرنس کو خارج کیا جائے یہ ریفرنس سپریم کورٹ کی ڈائریکشن کے خلاف ہے،سپریم کورٹ نے نیب کو2ماہ میں ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا تھا جو کہ نہیں کیا جا سکا،عدالت ضمنی ریفرنس میں آصف زرداری کی طلبی کا نوٹس واپس لے۔

فاروق ایچ نائیک نے کہاکہ پارک لین اور ٹھٹھہ واٹر سپلائی دونوں ریفرنسز میں ہمارا اعتراض یہی ہے،منی لانڈرنگ ریفرنس کی نوعیت ان دونوں سے الگ ہے ،منی لانڈرنگ کی ایف آئی آر،ایف آئی اے نے درج کی تھی ۔

نیب نے سپریم کورٹ کے احکامات پر انحصار کرکے ریفرنس دائر کردیا، کراچی سے ایف آئی اے کا ریکارڈ اس عدالت میں آیا،کراچی سے آنے والا ریکارڈ ریفرنس کی حیثیت ہی رکھتا تھا،منی لانڈرنگ میں نیب نے خود اپنے ریفرنس کو ضمنی ریفرنس کا نام دے رکھا ہے، عدالت سے استدعا ہے منی لانڈرنگ کا ضمنی ریفرنس بھی خارج کیا جائے ۔احتساب عدالت نے کہاکہ آپ جو کہہ رہے ہیں اس کی کوئی عدالتی نظیریں بتائیں ۔

نیب نے آصف زرداری کے ریفرنسز خارج کرنے کی درخواست کی مخالفت کی ،سردار مظفرعباسی نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ ضمنی ریفرنس دائرکرنا غیرقانونی نہیں ہے ، نیب ضمنی ریفرنس دائر کرسکتا ہے،کہیں پر کسی قانون میں نہیں لکھا کہ ضمنی ریفرنس دائر نہیں ہو سکتا ،فاروق ایچ نائیک نے ایک بھی قانون کا حوالہ نہیں دیا جس میں ایسا لکھا ہو۔سردار مظفر کی جانب سے نیب آرڈیننس کی سیکشن سولہ کا حوالہ دیاگیا،نیب پراسیکیوٹر نے کہاکہ سیکشن سولہ کے مطابق ایک کیس کسی دوسری جگہ منتقل بھی ہو سکتا ہے ۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -علاقائی -اسلام آباد -