موٹر وے کیس ،مرکزی ملزم عابد ننکانہ صاحب کے پارک میں کس خاتون سے ملنے پہنچا لیکن عین موقع پر پولیس کے ہاتھوں سے بچ کر نکل گیا ؟ نجی ٹی وی نے بڑا دعویٰ کر دیا 

موٹر وے کیس ،مرکزی ملزم عابد ننکانہ صاحب کے پارک میں کس خاتون سے ملنے پہنچا ...
موٹر وے کیس ،مرکزی ملزم عابد ننکانہ صاحب کے پارک میں کس خاتون سے ملنے پہنچا لیکن عین موقع پر پولیس کے ہاتھوں سے بچ کر نکل گیا ؟ نجی ٹی وی نے بڑا دعویٰ کر دیا 

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )پولیس نے موٹروے کیس کے مرکزی ملزم عابد ملہی کو گرفتار کرنے کیلئے زمین آسمان ایک کر رکھاہے لیکن اب ایک دعویٰ سامنے آیا ہے کہ ننکانہ صاحب کے علاقے میں پولیس ملزم کے قریب پہنچ چکی تھی لیکن وہ فرار ہو گیا ۔

نجی ٹی وی ” 24 “ نیوز نے دعویٰ کیاہے کہ موٹر وے کیس کا مرکزی ملزم عابد ملہی ننکانہ صاحب کے علاقے میں اپنی سالی سے ملنے کیلئے پہنچا تھا لیکن وہ پولیس کو اطلاع کے ملنے کے باوجود بھی قابو نہیں آ سکا اور فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا ۔ ملزم عابد گزشتہ روز اپنی سالی کیشور بی بی سے ملاقات کیلئے پرانا ننکانہ میں اس کی رہائشگاہ پہنچا تھا ۔کشور بی بی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اس ملاقات کے حوالے سے پولیس کو بھی آ گاہ کر دیا تھا لیکن پولیس 30 منٹ کی تاخیر سے پہنچی ۔

موٹروے کیس کے مرکزی ملزم عابد کی سالی نے بیان دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ میں اس وقت عابد کے ساتھ پارک میں موجود تھی جیسے ہی پولیس نے اسے پکڑنے کی کوشش کی وہ فرار ہو گیا ۔ خاتون نے کہا کہ عابد نے مجھے دھکا دیا اور وہ وہاں سے بھا گ گیا ، کیشور بی بی نے میزد بتایا کہ ان کی جان کو بھی خطرہ ہے کیونکہ انہوں نے پولیس عابد ملہی کی موجود گی کی اطلاع دی تھی لیکن وہ فرار ہو گیا ۔ بعدازاں پولیس نے مقامی قبرستان کو گھیر لیا تھا کیونکہ اس کی وہاں پر موجودگی کا شبہ تھا ۔

یاد رہے کہ موٹروے کیس کا ایک مرکزی ملزم شفقت گرفتار ہو چکا ہے جسے عدالت نے شناخت پریڈ کیلئے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیاہے ، ملزم نے پولیس کے سامنے دوران تحقیقات اپنے جرم کا اعتراف بھی کر لیاہے جبکہ خاتون نے اس کو پہنچاننے کی تصدیق بھی کر دی ہے۔ملزم شفقت کا موقع واردات سے ملنے والے شواہد کے ساتھ ڈی این اے بھی میچ کر گیاہے ۔

پولیس نے موٹروے کیس میں تحقیقات کا آغاز کیا اور ملزم عابد اور وقار الحسن کی تصویر جاری کی جس کے بعد ملزم وقار اگلے روز خود ہی تھانہ سی آئی اے کے سامنے پیش ہو گیا اور صحت جرم سے انکار کرتے ہوئے ڈی این اے کروانے کا مطالبہ کیا تاہم ڈی این اے میچ نہیں ہوا لیکن اس نے تحقیقات کے دوران شفقت اور اپنے برادر نسبتی عباس کا نام لیا تھا۔

عباس کا نام سامنے آنے کے بعد اس نے اگلے روز شیخو پورہ پولیس کو گرفتاری پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ عابد کے ساتھ سٹیل مل میں کام کرتا تھا اور کام کی حد تک ہی اس کا عابد کے ساتھ تعلق تھا، اس کاعابد سے رابطہ گرفتاری سے 12 روز قبل ہو تھا اور وہ بھی کام کے حوالے سے ہی ہوا تھا۔ 

پولیس نے شفقت کا نام سامنے آنے پر دیپالپور کے ایک گاوں میں کارروائی کے دوران شفقت کو برف خانے میں کام کرتے ہوئے گرفتار کر لیا تھا اور پھر اس کا ڈی این اے کروایا گیا جو کہ میچ کر گیا تھا تاہم بعدازاں پولیس نے اسے لاہور منتقل کر دیا تھا۔

مزید :

قومی -