ملزمان کو نامرد بنانے سے معاملہ حل نہیں ہوسکتا بلکہ دراصل۔۔۔ سینئر کالم نویس حامد ولید نے انتہائی مفید تجاویز پیش کردیں

ملزمان کو نامرد بنانے سے معاملہ حل نہیں ہوسکتا بلکہ دراصل۔۔۔ سینئر کالم نویس ...
ملزمان کو نامرد بنانے سے معاملہ حل نہیں ہوسکتا بلکہ دراصل۔۔۔ سینئر کالم نویس حامد ولید نے انتہائی مفید تجاویز پیش کردیں
کیپشن:    سورس:   Twitter/@hamidwaleed

  

لاہور (کالم: حامد ولید) موٹر وے زیادتی کیس میں اہم یہ نہیں ہے کہ مجرم کو کیا سزا ملنی چاہئے کیونکہ ملکی عدالتیں کام کر رہی ہیں اور وہ اس سوال کا قانونی جواب بخوبی دے دیں گی!.... اس کے برعکس اہم بات یہ ہے کہ آیا ملک میں امن و امان کی صورت حال قابل اعتبار ہے؟ 

اگر وزیر اعظم نے سارا زور جرم کے مرتکب افراد کو آختہ کرنے پر لگایا تو درحقیقت وہ گول پوسٹ کو شفٹ کرکے پولیس ریفارمز کی بجائے مجرموں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر آختہ کرنے میں اپناوقت ضائع کردیں گے اور ایک وقت وہ آسکتا ہے جب اپوزیشن خطرہ لاحق ہو جائے کہ کہیں حکومت اس آختہ بازی کا رخ ان کی جانب نہ موڑدے!

روزنامہ پاکستان میں اپنے کالم میں حامد ولید نے لکھا کہ بی اے میں ہمارے انگریزی کے استاد ظہیرالدین بابر ہوا کرتے تھے، کیا کمال طریقے سے ورڈز ورتھ کی نظمیں پڑھایا کرتے تھے۔ان کا طلباءکے اصلاح احوال کا طریقہ خوب تھا۔کلاس میں داخل ہوتے ہی ایک خالی صفحہ ہم سٹوڈنٹوں کو تھمادیتے کہ اس پر حاضری لگادیں اور خود وقت ضائع کئے بغیر انگریزی ادب پڑھانا شروع کردیتے، دوسری جانب ہم طلباءاپنی حاضری کے ساتھ ساتھ اپنے اپنے غیر حاضر یاروں دوستوں کے رول نمبر بھی اس صفحے پر لکھ کر کلاس کے ختم ہونے سے قبل ظہیرالدین بابر صاحب کو تھمادیتے تھے جسے وہ بغیر پڑھے کتاب میں رکھتے اور چلے جاتے، البتہ کبھی کبھار وہ اس صفحے کو تھام کر اس پر لکھے گئے رول نمبر پکار نا شروع کردیتے تو آدھی سے زیادہ کلاس غیر حاضر نکلتی تھی۔ جب وہ اس عمل کو مکمل کرلیتے تو کہتے کہ ایک غیر حاضری کا جرمانہ 25پیسے ہے، آج آپ نے 25پیسے کی کرپشن کی ہے،کل کو آپ ایسی سیٹ پر پہنچ سکتے ہیں جہاں 25کروڑ کا معاملہ آپ کے سامنے پیش ہو، اگر اس روز آپ نے کرپشن کی تو میں آپ کو ضرور یادآؤں گا!....

ان کی یہ بات سن کر ہم حاضر طلباءندامت سے سر جھکالیتے اور آئندہ کبھی غیر حاضر دوست کی حاضری نہ لگانے کاخود سے وعدہ کرلیتے تھے۔ ظہیرالدین بابر صاحب ایک اور پتے کی بات کہا کرتے تھے کہ آپ برائی کو کبھی ختم نہیں کرسکتے ہیں، صرف دبا سکتے ہیں۔ اس لئے کوشش کیاکریں کہ برائی دبی رہے۔ اس سے ہمیں یاد آیا کہ جب عراقی صدر صدام حسین کی پھانسی کو ٹی وی پر براہ راست نشر کیا گیا تھا دنیا بھر میں کئی جگہوں پر بچوں اور نوجوانوں نے اس عمل کو ایک دوسرے پر دوہرایا تھا اور اپنے ساتھیوں کو پھانسی دے دی تھی۔ خطرہ یہ ہے کہ اگر حکومت نے عابد علی اور شفقت علی کو کسی کیمیکل سے آختہ کردیا تو کل کو گلی گلی محلے محلے میں یہ کیمیکل بکتا پایا جائے گا!

چنانچہ وزیر اعظم عمران خان سے درخواست ہے کہ وہ بجائے اس کے کہ گول پوسٹ شفٹ کرکے سارا زور ایک ایسی برائی کے خاتمے پر لگادیں جس کا ختم ہونا ناممکن ہے، وہ اپنا قبلہ درست کریں اور پولیس ریفارمز کرنے کا موقع ہاتھ نہ گنوائیں۔ وہ بدقسمت خاتون اس لئے اپنی عزت نہیں لٹوا بیٹھی کہ مردوں کی شکل میں خونخوار بھیڑیوں نے اسے گھیر لیا تھا بلکہ اس لئے لٹی کہ ان بھیڑیوں کی خبر لینے والے بے خبر تھے۔ اس بات سے کون انکار کرسکتا ہے کہ اگر محض ڈکیتی ہوئی ہوتی تو اس قدر شور نہ مچتا، مگر اب جب شور مچا ہے تو لگتا ہے کہ حکومت اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھی ہے اور کنوئیں سے کتا نکالنے کی بجائے پانی نکالنے کا اہتمام کرنے جا رہی ہے، جو ناممکن بات ہے!

افسوس کی بات یہ ہے کہ وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید کہتے ہیں کہ وہ اس لئے مستعفی نہیں ہوں گے کہ حادثہ موٹر وے پر نہیں بلکہ لنک روڈ پر پیش آیا، سوال یہ ہے کہ اس سے اگلے روز لاہور اسلام آباد موٹر وے پر شیخوپورہ کے قریب ڈکیتی کی جو واردات ہوئی، اس پر ان کے کیا ارادے ہیں؟ چلئے چھوڑیئے اس بات کو، وفاقی وزیر جواب دیں کہ ان دو واقعات کے بعدآیا انہوں نے ابھی تک موٹرویز پر کرائم کنٹرول کرنے کا کابینہ یا پارلیمنٹ کے سامنے کوئی پلان پیش کیا ہے؟

صرف یہی نہیں بلکہ اگر ناقص کارکردگی پر وزیر اعظم ایک نیا ایف بی آر کھڑا کرنے کی دھمکی دے سکتے ہیں تو ایک نئی پولیس فورس کیوں کھڑی نہیں کر سکتے ہیں!....سوال یہ ہے کہ کیا مجرموں کو نامرد بنا کر حکومت اپنی ساکھ بحال کرلے گی؟ کیا عمران علی کو پھانسی کے بعد زینب جیسی بچیاں ان اخلاق باختہ عناصر سے محفوظ ہوگئیں، یا زینب الرٹ قانون کراکی کی ننھی مروہ کو تحفظ دے سکا؟

بہتر یہ ہے کہ پولیس کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے حکومت عملی ریفارمز کا آغاز کرے اور (1)ہر تھانے پر لازمی قرار دے کہ روزانہ ایک مقدمے کی تکمیل لازمی کرے، (2) پولیس میں کرپٹ عناصر کی نشاندہی پر 25لاکھ روپے کا انعام رکھے، (3) چھوٹے شہروں اور قصبوں دیہاتوں میں خالی ڈاکٹر ہی نہیں بلکہ پڑھے لکھے پولیس افسروں کو کام کرنے کی ترغیب کے لئے اچھی مراعات کا اعلان کرے، (4) جانچ پڑتال کی جائے کہ پراسیکیوشن کو انوسٹی گیشن سے علیحدہ کرنے کے کیا اثرات آئے ہیں اور مزید کیسے بہتر ی لائی جاسکتی ہے، (5) پولیس فورس کو ڈی سی نظام کے تابع لایا جائے یا نہ لایا جائے، (6) فوج کی طرح پالیسی ساز پولیس افسران کو بے تحاشا پڑھایا جائے، (7) کریمنلز کے لئے ری ہیبیلیٹیشن ادارے کھولے جائیں، (8) ماہر نفسیات کو پولیس میں بھرتی کیا جائے، (9) 1860کے پولیس ایکٹ کو سامنے رکھ کر 2060کے لئے پولیس ایکٹ تحریر کیا جائے، اور (10) پولیس رینکس میں بہتری لائی جائے۔

سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے دور میں پولیس کا یونیفارم تبدیل کرنے کا مقصد پولیس وردی سے جڑے کرپشن کے تاثر کو ختم کرنا تھا لیکن اگر حکومت CCPOلاہور عمر شیخ کی پشت پناہی کرے گی تو پولیس میں سیاسی بھرتیوں کا تاثر کیسے ختم ہوگا؟

پولیس فورس ریاست کی پالیسیوں پر عمل درآمد یقینی بناتی ہے، اس لئے ضروری ہے کہ ریاست عوام دوست پالیسیوں کو یقینی بنائے، ووٹ کو عزت دے، ووٹر کو عزت دے!

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -