کورونا وبا کے دوران متاثرین کی مدد کیلئے باہر سے آنے والی امدادی رقوم کا آڈٹ کرایا جائے، بڑا مطالبہ سامنے آگیا 

کورونا وبا کے دوران متاثرین کی مدد کیلئے باہر سے آنے والی امدادی رقوم کا آڈٹ ...
کورونا وبا کے دوران متاثرین کی مدد کیلئے باہر سے آنے والی امدادی رقوم کا آڈٹ کرایا جائے، بڑا مطالبہ سامنے آگیا 

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)امیرجماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے مطالبہ کیا ہے کہ  کورونا وبا کے دوران متاثرین کی مدد کیلئے باہر سے آنے والی امدادی رقوم کا آڈٹ کرایا جائے،حکومت نے امدادی رقوم متاثرین تک پہنچانے کی بجائے اپنے بجٹ کا حصہ بنا لیا،امدادی فنڈز سے تعلیمی اداروں اور چھوٹے تاجروں ،کسانوں او ر مزدوروں کی مدد کرنے کی بجائے حکومت ان فنڈز کو دبا کر بیٹھ گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق سینیٹر سراج الحق نے مطالبہ کیا ہے کہ کورونا وبا کے دوران متاثرین کی مدد کیلئے باہر سے آنے والی امدادی رقوم کا آڈٹ کرایا جائے ، حکومت نے امدادی رقوم متاثرین تک پہنچانے کی بجائے اپنے بجٹ کا حصہ بنا لیا، امدادی فنڈز سے تعلیمی اداروں اور چھوٹے تاجروں ،کسانوں او ر مزدوروں کی مدد کرنے کی بجائے حکومت ان فنڈز کو دبا کر بیٹھ گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے متاثرین کی امداد کیلئے 12سو ارب روپے کا اعلان کیا تھا مگر وہ پیسہ بھی متاثرین تک نہیں پہنچا،یہ 12سو ارب روپیہ کہاں خرچ ہواحکومت کو اس کا بھی حساب دینا ہوگا۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ حکومت کشمیر کی آزادی کیلئے زبانی جمع خرچ اور اچھل کود کے سوا کچھ نہیں کررہی،موجودہ حکومت کے دور میں بین الاقوامی سطح پر کشمیر کاز کو نقصان پہنچا،کشمیر میں 14ماہ سے جاری بدترین لاک ڈاؤن ختم نہیں ہوسکا،قابض بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر کے اندر شہر ویران اور قبرستان آباد کئے ہیں،غاصب فوج نے مظالم کی انتہاءکردی ہے بچوں ، بوڑھوں اور خواتین کو بے دردی سے شہید کیا جارہا ہے مگر اس سب کے باوجود کشمیری آزادی کے حصول کیلئے ڈٹے ہوئے ہیں،کشمیری عوام آزادی سے کم کوئی حل قبول نہیں کرینگے ۔

سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ کشمیر پر بھارت کے قبضہ سے پاکستان کے آبی وسائل کو شدید خطرہ ہے،پاکستانی دریا خشک اور زمینیں بنجر ہوجائیں گی،بھارت پاکستان کے خلاف آبی جارحیت سے باز نہیں آئے گامگر ہمارے حکمران اب بھی خوش فہمیوں میں مبتلا ہیں، کشمیر پاکستان کیلئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے ،پاکستان کی بقا سا لمیت اور تحفظ کیلئے کشمیر کی آزادی ناگزیر ہے،ہم زندگی کے آخری لمحہ اور آخری سانس کشمیر کی آزادی کیلئے کشمیر یوں کا ساتھ دیں گے،جب تک کشمیر آزادہو کر پاکستان کاحصہ نہیں بن جاتا اُس وقت تک ہم کشمیریوں کے شانہ بشانہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے کشمیر پر بھارت کے قبضہ کو ذہنی طور پر تسلیم کرلیا ہے مگر پاکستان کے 22کروڑ عوام کشمیریوں کی پشت پر ہیں، پاکستان کی تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں سیاسی اختلافات کے باوجود کشمیر کے مسئلے پر متفق ہیں، جس طرح افغانستان میں سابق سویت یونین کو نکالنے کیلئے پوری دنیا نے اخلاقی ، سیاسی اور عسکری مدد کی اسی طرح کشمیر سے بھارتی فوج کو نکالنے کیلئے بھی دنیا کشمیریوں کی مدد کرے،بھارتی فوج کو کشمیر سے نکلنا ہے،مقبوضہ اور آزاد کشمیر کی قیادت کو پاکستانی حکومت کے رویے نے سخت مایوس کیا ہے۔     

مزید :

قومی -