معیشت ، معیشت ہوتی ہے ۔۔۔اصلی ہو یا جعلی

معیشت ، معیشت ہوتی ہے ۔۔۔اصلی ہو یا جعلی
معیشت ، معیشت ہوتی ہے ۔۔۔اصلی ہو یا جعلی

  

پاکستانی معیشت کی حالت   ہسپتال میں داخل اس مریض کی ہے جو کبھی بھی ہسپتال سے باہر نہیں نکل پایا۔۔۔اس کا زیادہ تر وقت وارڈ میں ہی گزرتاہے جہاں اس پر  ہر آنے والی انتظامیہ کے معالج، جراح  اور نیم حکیم اپنے نسخے اور اور کُشتے آزماتے رہتے ہیں کہ ایک نہ ایک دن  معیشت  اپنے پیروں پر کھڑی کر کہ دکھائیں گے  اور حالت بگڑنے پر اسے آئی سی یو منقتل کردیا جاتاہے،  جہاں بیرون  ملک سے منگوائے ہوئےسپیشلسٹ اسے آئی ایم ایف کے وینٹیلٹر پر ڈال کر ایسے اتراتے ہیں جیسے انہوں نے مریض اور اس قوم پر بہت بڑا احسان کردیا ہو ۔۔۔۔

آئی ایم ایف سے آکسیجن لے کر ہماری معیشت کی حالات کچھ بحال ہوتی ہے تو اسے وارڈ منتقل کر دیا جاتا ہے اور اگر عوام کو معیشت کے درشن کروانے ہوں تو اسے  دوست ممالک سے قرضوں سے بھرا سٹیرائیزڈکا انجکشن لگا کر ہسپتال کے لان میں کھڑا کردیا جاتاہے  اور باہر سے منگوائے گئے سپیشلسٹ اس کے ساتھ فوٹو سیشن کرواتےاور سابقہ معالجین پر تنقید کرتے  نظر آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ "دیکھیے ہم نے معیشت کو اپنے پیروں پر کھڑا کردیا "۔۔۔

  بعض ترجمان تو  معیشت کا مقابلہ  یوسین بولٹ سے بھی کرتے نظر آتے ہیں کہ  اب معیشت اتنی تیزی سے ترقی کرے گی کہ اسے کوئی روک نہیں سکتا    اور عوام کی آنکھوں میں دھول !میرا مطلب ہے امید کی لہر دوڑ جاتی ہے  اور کئی تو خوابوں میں ایسے گم ہوجاتے ہیں کہ انہیں لاہور پیرس او پشاور لندن دکھائی دینے لگتاہےلیکن جیسے ہی ان سٹرائیزڈ  کا اثر ختم ہوتاہے تو بےچاری معیشت پھر سے وارڈ میں منتقل ہوجاتی ہے ۔۔ جہاں  اس کا symptomatic treatment  شروع ہوجاتاہے ۔

 ٹیسٹ رپورٹس منگوائی جاتی ہیں تو سب کچھ اتھل پتھل نظر آتاہے ۔ جی ڈی پی کو چھوڑ  کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو کم کرنے پر زور لگانا شروع کردیا جاتاہے اور تجارتی خسارہ بڑھنے  پر صنعت کو مراعات کے انجیکشن لگائے جاتے ہیں تاکہ  بڑھتی درآمدات کا مقابلہ کیا جا سکے مگر صنتکار  امریکہ کی طرح ڈو مور کا مطالبہ کرتے نظرآتے ہیں جنہیں پورا کیا جاتاہے ۔۔ ۔  جی ڈی پی بے شک گر جائے ۔۔کرنٹ اکاؤنٹ خسارے سے سرپلس  ہونے پر وہ جشن منایاجاتاہے کہ لوگ ایک دوسر ے سے سوال کرنے لگتے ہیں کیا اب ہماری تنخواہ بھی بڑھے گی !!!اس دوران سٹاک ایکسچینج  میں ریکارڈ اضافہ ہوتاہے ۔۔۔ تو لوگ سمجھتے ہیں کہ معیشت بہتری کی طرف تیزی سے دوڑ رہی ہے ۔ بالکل ویسے ہی  جیسے کامیڈی شوز میں    خوامخواہ بیک گراؤنڈ میں قہقہے لگائے جاتے ہیں اور دیکھنے والے سمجھتے واقعی بڑی مزاحیہ بات تھی  ۔۔۔۔

مگر پھر رپورٹ آتی ہے   گردشی قرضے سر اُٹھانے لگے ہیں اور کسی نے معیشت کو لاکھوں واٹ کے  جھٹکے لگادیے ہیں  ۔ دعوے سامنے آتے ہیں کہ اس کے ذمہ داروں کے خلاف بڑا آپریشن  کیا جارہاہے  مگر پھر بات  پھیکی  ہومیو پیتھک گولیوں سے آگے نہیں بڑھ پاتی ۔۔۔ پھر اچانک  بے چاری معیشت  کا شوگر لیول شوٹ کر جاتاہے جس پر  بڑے بڑے ماہرین   کا انکوائری بورڈ تشکیل دے  دیا جاتاہے تاکہ پتہ لگایا جا سکے کہ اس کی وجہ کیاہے ؟؟ پتہ چلتا ہے کہ  معیشت کو کھلائی جانے والی زیادہ تر مہنگی میٹھی گولیاں ہسپتال کے کسی پرانے اور وفادار معالج  کی فیکٹری کی ہیں  جس پر اس وفادار معالج کو ذمہ دار ٹھہرانے کا فیصلہ کیا جاتا ہے مگر  اس پر چھوٹے موٹے کمپاؤڈرز  اور ہسپتال کے  عملے سے شدید ترین  آوازیں اُٹھنے لگتی ہیں کہ اگر اس وفادار معالج کو کچھ کہا گیا تو وہ  بھی ہسپتال  چھوڑ دیں گے  جس پر   خاموشی چھاجاتی ہے اور پھر معیشت کے شوگر لیول  نارمل   ہونے  کی رپورٹ جاری ہوجاتی ہے ۔۔۔۔

  پتہ چلتا ہے کہ معیشت پھر سے  آئی سی یو  منتقل ہو چکی ہے  مگر وہاں آئی ایم ایف سے ملنے والی آکسیجن کے ٹینک بھی خالی ہورہے ہوتے ہیں  ۔ اس سے بیشتر کہ معیشت قومے میں چلی جائے  بھلا  ہو  بیرون ملک پاکستانیوں کا جو بڑی مقدار میں ترسیلات زر(  remittances )    بے چاری معیشت کو منتقل کر دیتے ہیں  جس سے نہ صرف معیشت  کی سانس بحال ہوجاتی ہے بلکہ  نئے  خلیے بھی بننے لگتے ہیں جس پر ہسپتال کا  ایم ایس   بیرون ملک پاکستانیوں کا  دل کھول کر شکریہ ادا کرتا نظر آتا ہے کہ انہوں نے  معیشت کو  قومے میں جانے سے بچا لیا۔۔۔ اس کے بعد  معیشت کو پھر سے لان میں کھڑا کر کہ فوٹ شوٹ کیا جاتا ہے ۔۔۔۔ تین سالہ  پرفارمنس رپورٹ جاری ہوتی ہیں  جس پر خود معیشت بھی حیران اور پریشان دکھائی دیتی ہے کہ  وہ تو     سرینا ولیم سے سے بھی زیادہ  فٹ اور  براڈ پٹ سے زیادہ ہینڈسم ہے۔۔۔ اب آپ کہیں گے کہ معیشت اپنا موازنہ  بیرونی اور امریکی فنکاروں سے کرتی ہے  ۔ تو مترو!  بے چاری معیشت کو ہاتھ ہی زیادہ تر باہر کے لوگوں کے لگے ہیں تو پھر وہ  اپنا موازنہ بھی باہروالوں سے کرے گی ۔۔۔۔

خیر معیشت کا اچھا امیج  چھوڑنے کے بعد  اسے جلد ی جلدی   واپس وارڈ میں لایا جاتا ہے  کہ کہیں     زیادہ فوٹو شوٹ سے    میک ہی نہ خراب ہوجائے ۔ فوٹو شوٹ سے تھکی معیشت کو  وارڈ میں   ان ڈائریکٹ  کی ڈرپ لگا دی جاتی ہے  اور اس طرح معیشت   نارمل حالت میں دکھائی دیتی ہے ۔۔ ۔معیشت کی حالت  پھر بگڑنے لگتی ہے  مگر اس بار اسے آئی سی یو میں لے جانے کی بجائے’ سینیئراورامیر ترین ‘ معاشی معالج  فیصلہ کرتا ہے   اسے یہیں ٹھیک کیا جائے ۔اسے کھلا چھوڑ دو ۔۔اسے خود سے پھلنے پھولنے دو۔۔۔مداخلت  مت کرو۔۔۔

مگر پھر اندرونی  رپورٹ میں  گردشی قرضہ ، اندرونی اور بیرونی قرضہ کے ساتھ  ڈالر بھی اوپر جاتا دکھائی دیتاہے اور روپیہ کا  لیول مسلسل گراوٹ کا شکارہوتاہے جس سے مہنگائی   میں بھی اضافہ نوٹ کیا جاتاہے  اور معیشت پر دباؤ بڑھ رہا ہوتا   ہے ۔  فیصلہ کیا جاتاہے ۔ آئی ایم ایف کا  نسخہ جاری رکھا جائے ۔۔ پٹرول ، گیس بجلی  اور ان ڈائریکٹ ٹیکسز کا لیول بڑھا دیا جائے ۔۔ ۔  اس فیصلے کےبعد ہسپتال کا ایم ایس کو    معیشت کا بہترین علاج تلاش کرنے کے  لیے  بیرونی ممالک دورے پر بھیج دیا جاتاہے   کیونکہ پھر سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھنے کا خطر ہ ہےاور معیشت پھر سے آئی سی یو میں داخل ہو سکتی ہے ۔۔

مگر آپ نے گھبرانا نہیں !یہ کوئی پہلی دفعہ نہیں ہے کہ معیشت  آئی سی یو  میں جائے گی  بلکہ وہ    اب اس سب کی عا دی ہو چکی ہے  اور اب تو  صدارتی آرڈیننس کے ذریعے اسے ایڈوانس ٹیکسز کا کورس بھی کروانے کی تیاری کی جا چکی ہے ۔۔ تو گھبرائیے نہیں آپ زندہ رہیں نہ رہیں  معیشت زندہ رہے گی ۔۔

سابق انتظامیہ اور معالجین   کومعیشت کےمیک اپ  اورکاسمیٹکس پربھی اعتراض ہے،بندہ پوچھے کیا میک اپ  کے بغیر بھی بھلا  کوئی'  ہینڈ سم' یا 'خوبصورت' دکھائی دے سکتاہے ؟؟؟وہ تو خود معیشت کو چونا لگا تے رہے ہیں اور و یسے بھی داغ  طرح میک  اپ بھی  اچھا ہوتاہے اور جو لوگ کہتے  تین سالہ پرفارمنس میں دکھائی جانے والی معیشت تو اصلی معیشت ہے ہی نہیں تو انہیں بس اتنا کہوں گا کہ !

معیشت ، معیشت ہوتی ہے۔۔ اصلی ہو یا جعلی! 

 رہی بات جمہوریت کی تو  یہ کہانی پھر سہی۔۔۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -