حالات حاضرہ اور یادِ ماضی کا عذاب!

 حالات حاضرہ اور یادِ ماضی کا عذاب!
 حالات حاضرہ اور یادِ ماضی کا عذاب!

  

ملکی سلامتی کے لئے ہر پاکستانی دعاگو ہے۔ ہم بھی دن رات خیر مانگنے اور ہر روز نئی توقعات سے اپنا دفتری سفر شروع کرتے اور ہر شب مایوسی کے غلبے سے نیند کی آغوش میں چلے جاتے ہیں، اکثر ہڑبڑا کر اٹھنا پڑتا کہ واش روم کی حاجت محسوس ہوتی ہے، تاہم حالات کا دباؤ ایسا ہے کہ اٹھتے ہوئے بھی ملکی ماحول ہی کا اثر ہوتا ہے، یہ سب اس لئے ہے کہ میرا ملک مصائب میں گھرا ہوا ہے اگرچہ یہ پہلی بار نہیں لیکن اس مرتبہ حالات اس لئے مختلف ہیں کہ ہمارے سیاسی اکابرین احساس سے عاری محسوس ہونے لگے ہیں کہ یہ وقت مکمل اتحاد و اتفاق کا تقاضا کرتا ہے لیکن ہم ہیں کہ ایک دوسرے کو برداشت ہی نہیں کر پا رہے ہر کوئی سوا سیر کا ہے، پونے سیر کو ماننے پر تیار ہی نہیں۔ ملک کی معاشی اور سیاسی صورت حال کے بارے لکھتے لکھتے اب دل بھی اکتانے لگا اور دعا پر ہی گزارا ہے کہ حالات کی ستم ظریفی اور منصوبہ سازوں کی مہربانی سے جو تبدیلی لائی گئی وہ مثبت کی نسبت منفی ثابت ہوئی اور آج حالات اس حد تک جاپہنچے کہ ہر شعبہ زندگی میں واضح تقسیم ہو گئی اور یہ ایسی ہوئی کہ اب دلیل ختم اور ضد آڑے آ گئی، حالات ہی کی ستم ظریفی دعا پر مجبور کرتی ہے دکھ یہ ہے کہ میں نہ تو سوشل میڈیا ان مقاصد کے لئے استعمال کرتا ہوں اور نہ ہی خود منفی تحریروں میں یقین رکھتا ہوں۔ میری تحریریں شاہد ہیں کہ میں نے اپنے  خیالات اور تصورات کا اظہار ضرور کیا، بعض اوقات جی چاہتا ہے کہ اپنا دِل کھول کر کیا چیر کر قارئین کے سامنے رکھ دوں تاہم بہت سی اہم خبروں کو ملکی مفاد اور صحافتی اقدار کی خاطر چھپا کر رکھنا پڑتا ہے۔

حالات میں کوئی تبدیلی نہیں،بلکہ بارشوں کے باعث سیلاب نے مزید حالات خراب کر دیئے اور معیشت کا پہلے سے بھی برا حال ہے، بدقسمتی یہ ہے کہ تباہی جس پیمانے پر ہوئی اس نے عوام کی حالت ابتر کر دی اور اب بحالی تو دور کی بات ابھی تک تحفظ اور سر چھپانے کی ضرورت پوری نہیں ہوئی،امراض کا پھیلاؤ بڑھتا جا رہا ہے،وسائل کم ہیں،امداد آ رہی ہے،تقسیم کے حوالے سے شکایات ہیں،اس دوران لاڑکانہ کی ایک مل سے خیموں اور امدادی راشن کی برآمدگی شرمناک ہے۔خبروں کے مطابق یہ مل بھی سندھ کے ایک صوبائی وزیر کی ہے جو بلاشبہ حکمران جماعت پیپلزپارٹی سے تعلق رکھتے ہیں یہ بدنامی بھی ہے،چیئرمین بلاول بھٹو تو ملک میں نہیں تھے البتہ خود سابق صدر آصف علی زرداری تو موجود تھے اور وزیراعلیٰ مراد علی شاہ بھی سرکاری قافلوں کے ساتھ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دور ے کر رہے ہیں، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ محترم وزیر صاحب کو تحقیقات کی تکمیل تک نہ صرف وزارت سے ہٹا دیا جاتا بلکہ ان کی جماعتی رکنیت بھی معطل کی جاتی لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا، بلکہ پہلے گرفتاری کی خبر چلی جو بعد میں مقدمہ کے اندراج میں تبدیل ہو گئی،چھاپہ  بھی سیشن جج متعلقہ کی اپنی قیادت میں مارا گیا تھا توقع کی جائے کہ بلاول واپس آ گئے ہیں،اب ایکشن ہو جائے گا۔

نہ چاہتے ہوئے بھی قلم پھر سے حالات کی معمول والی عکاسی پر مجبور ہو گیا، حالانکہ گھر سے یہ سوچ کر چلے تھے کہ آج دکھوں سے نجات پا کر ماضی کو یاد کیا جائے گا کہ کچھ اپنے سمیت قارئین کا دھیان بھی بٹ جائے گا۔معذرت خواہ ہوں، برسر مطلب یہ کہ برطانیہ کی ملکہ معظمہ ایلزبتھ94سال زندگی پا کر وفات پا گئیں،ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی تاہم جسد خاکی ابھی تک تابوت میں موجود عوامی دیدار کے لئے رکھا ہوا ہے،اسے کل (19ستمبر) قبر میں اتار دیا جائے گا، ملکہ ایلزبتھ کے حوالے سے بہت سی یادیں بھی وابستہ ہیں، وہ اپنے دور جوانی میں پاکستان بھی آ چکی ہیں اور ان کی پہلی آمد سے بعض خوشگوار سے لطائف بھی مشہور ہیں، پہلی بار وہ آئیں تو ملک پر ایوب خان حکمران تھے۔ لاہور میں ایک بلدیاتی سیٹ اَپ تھا اور میئر کی جگہ وائس چیئرمین ہوتا تھا، ان دِنوں ہمارے اچھرہ (فیروزپور روڈ) کے محترم چودھری محمد حسین وائس چیئرمین تھے اور دوسرے عمال کے ساتھ لاہور آمد پر ملکہ کا استقبال بھی انہوں نے کیا تھا۔ روایت کے مطابق ملکہ ایلزبتھ کو  شہری استقبالیہ دیا گیا جو معمول کے مطابق شالیمار باغ میں ہوا، اس سے قبل ایئرپورٹ سے گورنر ہاؤس تک عوامی استقبال بھی ہوا، ملکہ  اور ان کے شوہر ایک بگھی میں ایئرپورٹ سے گورنر ہاؤس تک لائے گئے اور اس بگھی سے پہلے اور بعد میں گھڑ سوار دستے بھی تھے، کیسے اچھے دن تھے کہ مال روڈ کے دونوں اطراف عوام تھے، ان میں عام شہری مرد و خواتین کے علاوہ طلباء اور طالبات بھی تھے   جو ملکہ کے جلوس کی آمد پر نعرے بھی لگاتے تھے، شالیمار باغ میں دیا جانے والا استقبالیہ بھی یادگار تھا، باغ کی اپنی خوبصورتی تو تھی ہی، اسے رنگ برنگی روشنیوں اور پھولوں سے بھی سجایا گیا تھا اور پہلے تختے سے دوسرے تختے تک فوارے بھی بہار دکھا رہے تھے۔ مہمانوں نے بہت خوشی کا اظہار کیا اور بڑی تعریف کی، اس موقع پر معمول کے مطابق سپاسنامہ بھی پیش کیا گیا جو محترم وائس چیئرمین کی سہولت کے لیے اردو میں لکھا گیا تھا،اس سپاسنامے میں اوپر 2اکتوبر کی تاریخ تھی اور آغاز ملکہ معظمہ سے ہوتا تھا، کہا جاتا ہے کہ ہمارے مہربان کی پڑھتے وقت زبان پھسل گئی،بتانے میں کوئی حرج نہیں کہ آج کے دور میں بڑے بڑوں کی زبان غوطہ کھا جاتی اور خبریں بنتی ہیں۔

محترم میزبان نے پڑھنا شروع کیا،لاہور بارہ(12) کبوتر، مکہ معظمہ آپ کی میّت میں ”دراصل تحریر یہ تھی، دو اکتوبر اور ملکہ معظمہ آپ کی معیت میں“ لیکن زبان پھسلنے کی بات ہے، پھسل گئی تو کیا ہوا،مہمانوں کو علم نہ ہو سکا کہ ترجمہ درست کیا گیا تھا۔

یہ سب توجہ ہٹانے کے لئے یاد آیا، کسی کو ناگوار گزرے تو معذرت خواہ ہوں، چودھری محمد حسین بہرحال اس شہر کے معزز سربراہ رہے اور ان کے کھاتے میں بڑے بڑے نیک کام بھی ہیں اور لوگ یاد کرتے ہیں اللہ ن کی مغفرت فرمائے۔

ملکہ ایلزبتھ کے استقبال اور شہریوں کے شوق سے یاد آیا تو اسی شہر لاہور میں شہنشاہ ایران رضا شاہ پہلوی کا استقبال بھی بے مثال تھا۔ان کے استقبال کے لئے تو ہم دوست بھی طالب علم کی حیثیت سے مال روڈ پر کلب چوک والے کونے میں موجود تھے۔ شہر کا شہر امڈ آیا تھا، بہت بھیڑ تھی، رضا شاہ پہلوی کو بھی بگھی ہی میں لایا گیا اور آج جیسے سکیورٹی کے انتظامات بھی نہیں تھے۔شہری سڑک کے دونوں کناروں پر تھے،پولیس کے سپاہی تھوڑے تھوڑے فاصلے پر لوگوں کے سامنے کھڑے تھے اور آگے بڑھنے والوں کو روکتے تھے کہ استقبالیہ  ہجوم میں شرارتیں بھی ہوئیں اور تھوڑی دھکم پیل بھی ہوتی رہی، رضا شاہ پہلوی بھی استقبال سے مطمئن اور بہت خوش گئے تھے۔ان کے علاوہ بھی کئی غیر ملکی مہمانوں کا ایسا ہی استقبال ہوا،لیکن یہ دونوں بہت یادگار ہیں،پیچھے پلٹ کر دیکھتا ہوں تو یہ سب خواب محسوس ہوتا ہے کہ آج کے دور میں ایسا کھلا استقبال حقیقتاً خواب ہو کر رہ گیا۔اگرچہ1986ء تک بھی حالات اس قدر خراب نہیں تھے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی آمد پر بھی ایئر پورٹ سے مینار پاکستان تک لوگ ہی لوگ تھے،اس کے بعد بھارتی آنجہانی وزیراعظم واجپائی کا بھی استقبال ہوا، لیکن جب وہ مینار پاکستان لائے جا رہے تھے تو ان کے قافلے پر پتھر برسے تھے، اب تو یہ سب خواب و خیال ہے، استقبالیہ جلوس عنقا ہوئے۔ البتہ1986ء کے بعد سے لانگ مارچ مشہور ہوئے، آخری لانگ مارچ اسی سال 25مئی والا تھا جس کے حوالے اب بھی چل رہے ہیں اور اب پھر سے کپتان اپنے کھلاڑیوں سمیت عوام کو کال دینے کا اعلان کر رہے ہیں، اللہ خیر کرے آج کے مخدوش حالات میں ایسے لانگ مارچ سے فائدہ تو کیا ہو گا ناقابل تلافی نقصان ضرور ہو سکتا ہے،کیا یہ بہتر نہیں کہ صدرِ مملکت کی کوشش کو بار آور ہونے دیا جائے۔

مزید :

رائے -کالم -