دس منٹ کی نیند 

 دس منٹ کی نیند 
 دس منٹ کی نیند 

  

  روزنامہ پاکستان لاہور  میں پچھلے دنوں ایک سروے میری نظر سے گزرا جس  کے مطابق جاپان میں 85 فیصدطلبہ کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنی خوشی سے سکول جاتے ہیں اور91 فیصد یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ باقاعدگی سے سکول جاتے ہیں اور کوئی کلاس بھی مس نہیں کرتے، اس سے مجھے اپنا بچپن یاد آگیا جب صبح سکول کے لیے اٹھنا سب سے بڑا چیلنج ہوا کرتا تھاسکول،سکول کم اور جیل زیادہ لگتا تھا اور یہ صرف میرا  نہیں  ہر بچے کا مسئلہ تھا ہر روز صبح زبردستی اٹھائے جانے کے بعد سب بہن بھائیوں کو ہاتھ منہ دھونے اور ناشتے کی میز پر حاضر ہونے کے احکامات ہوا کرتے تھے، پہلا کام تو میں بھی بہت اچھے سے کرلیا کرتا تھا۔ہاتھ،منہ دھونے کے بعد سب ناشتے کی میز پر ہوتے تھے مگر ان سب میں میں شامل نہیں ہوتا تھا کیوں کہ میں دس منٹ مزید سونے کی غرض سے دوبارہ بستر میں گھس جاتا تھا گھر والوں کو میری غیر موجودگی کا اندازہ پانچ سات منٹ ہی میں ہوجایا کرتا  جب سب لوگ چنگیر سے اپنی اپنی روٹی نکال چکے ہوتے اور میرا دیسی گھی کا پراٹھا کسی لاوارث کی طرح پڑا ٹھنڈاہو رہا ہوتا تھا لہذا دوبارہ نیند سے جگایا جاتا مگر اس بار الارم سے نہیں بلکہ کمرے کا سیلنگ فین بند کرنے سے،یہ ایک بہت ہی مؤثر طریقہ تھا۔جیسے آئی-ایم-ایف کی امداد بند ہونے سے ہماری حکومتیں جاگ اٹھا کرتی ہیں ویسے ہی پنکھا بند ہونے سے میں بھی جاگ جایا کرتا تھا اور یوں میرا دس منٹ مزید سونے کا خواب کبھی پورا نہیں ہوا بالکل ایسے ہی جیسے ہمارے وزرائے اعظم کاپانچ سال حکومت کرنے کا نہیں ہوا۔ اتوار کی چھٹی ہوا کرتی تھی مگر مسئلہ یہ تھا کہ میں چھٹی کے دن ہمیشہ مقررہ وقت سے خودبخود دس منٹ پہلے اٹھ جایا کرتا تھا جس کی خود مجھے بھی آج تک وجہ سمجھ نہیں آئی کہ ایسا کیوں ہوتا تھا۔ اسکے بعدصبح کی نماز ادا کی جاتی اورپھربلاناغہ فجرکی نماز کے بعد دعا کی جاتی”کاش آج اتنی بارش ہو،کہ سکول سے چھٹی ہو جائے“ جو  مجھے نہیں یاد کبھی قبول ہوئی ہو۔ سکول کے زمانے میں ایک شریف بچہ  ہوا کرتا تھا  آپ کی وضاحت کے لئے عرض کرتاچلوں کہ ابھی بھی ہوں۔ گزرتی عمر کے ساتھ معلوم ہوا کہ یہ سب صرف میرے ساتھ ہی نہیں ہوتا تھا بلکہ ہر معصوم پاکستانی بچے کی کہانی تھی اوپر میں نے اپنے آپ کو شریف اس لیے کہا ہے کہ میری بارش والی دعا سب سے مہذب اور شریفانہ ہے کیونکہ اببھی مجھے یاد ہے کہ میرے ہم جماعت اکثر بچے جن کے والدین ملازمت پیشہ تھے رکشے پر ہی سکول آیا کرتے تھے،کچھ بچے توشرافت میں مجھ سے بھی اس قدر آ گے تھے کہ چھٹی ہو جانے کی غرض سے رکشے والے چچا کے کسی رشتہ دار کی انتقال کی دعا کرتے تھے اور کچھ تو اسکول سے اس حد تک تنگ تھے کہ رکشے والے چچا ہی کے انتقال کی دعا کر آتے تھے،چند ان سے بھی دو ہاتھ آگے تھے اگر ان کا تزکرہ شروع ہو گیا تو مجھے یقین ہے یہ کالم چھپنے کے قابل نہیں رہے گا، اس سب میں قصور تو شاید ان معصوم بچوں کا تھا اور نہ ہی رکشے والی چچا کا۔ جب دوسری،تیسری جماعت کے بچوں کو مجبورا کتابوں سے لدے ان کے وزن سے زیادہ وزنی بستے اٹھانا پڑھے، جب نمبر کم آنے پر ان پر نالائق،نااہل اور نکمے کا لیبل لگا دیا جائے،جب انہیں کتابوں میں وہ پڑھایاجائے جو ان کے باپ دادا کے زمانے کا ہو اور موجودہ جدید دور سے دور دور تک جس کا کوئی تعلق نہ ہو،جس میں نہ صرف اساتذہ بلکہ طلبہ کی بھی کوئی دلچسپی نہ ہو، جب ایک امتحان میں ناکام ہونے پر انہیں زندگی بھر کے لیے فیل قرار دے دیا جائے تو آخر کس کا دل چاہے گا کہ وہ ایسی جگہ پر اپنی مرضی اور خوشی سے جائے۔آپ ایک ایسا ہی سروے پاکستان کے سکولوں میں بھی کروائیں مجھے نہیں لگتا کہ دس فیصد پاکستانی بچے بھی اسکول جانے سے خوش ہوں گے اس کی وجہ کچھ اور نہیں صرف یہ دقیانوسی اور فرسودہ نظام ہے۔ ہمارا تعلیمی نظام صرف ڈاکٹر اور انجینئر کے گرد گھومتا ہے، ہر سال لاکھوں کی تعداد میں طلبہ اس معاشرے اور نظام کے دباو میں آ کر ڈاکٹر بننے کی کوشش کرتے ہیں، اپنے وسائل اور پیسہ بہاتے ہیں مگر پھر ہوتا کیا ہے، صرف 4000 طلبہ جیسے تیسے  اس مشن میں کامیاب ہو پاتے ہیں، مگر کسی نے سوچا ہے کہ وہ باقی لاکھوں طلبہ کا کیا ہوتا ہے؟ جی نہیں نہ آپ نے کبھی اس بارے میں سوچا،نہ میں نے اور نہ ہی ہمارے حکومتی اداروں نے۔۔۔ جب قابلیت کا معیار نمبر ہوں کسی کے مستقبل کا فیصلہ کسی دوسرے شہر میں بیٹھا وہ شخص کرے جو نہ تو کبھی زندگی میں اس بچے سے ملا ہوں، نہ اس کی سوچ سے واقف ہو اور نہ ہی اس کے ٹیلنٹ سے اور محض ڈھائی تین گھنٹے میں حل کیے گئے اس پرچے پر اس کے مستقبل کا فیصلہ کرے جسے شاید ہم یادداشت کا امتحان تو ضرور کہ سکتے ہیں مگر قابلیت کا ہرگز نہیں۔ ملک ڈاکٹر یا انجینئر بنانے سے ترقی نہیں کرتے،یاد رہے کہ ملک تب ترقی کرتے ہیں جب ایجادات ہوتی ہیں اور ایجادات کا نہ تو اچھی یادداشت سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی گیارہ سو میں سے گیارہ سو نمبر حاصل کرنے سے۔ ایجادات ہنر،قابلیت اور ٹیلنٹ سے ہوتی ہیں مگر ہمارے ہاں ستم ظریفی یہ ہے کہ ہم ہرسال بہت سے قابل اور ٹیلنٹڈ بچوں کو غیر تربیت یافتہ اساتذہ اور اس بوسیدہ نظام تعلیم کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں۔ اگر قوم کے مستقبل کو ایسے ہاتھوں میں تھما دیا جائے کہ جنکی ماہانہ تنخواہ مزدور کی آمدنی سے کچھ زیادہ نہ ہو جنہیں پروفیشنلزم نہ تو کسی نے سکھائی ہو اور نہ ٹریننگ کسی نے دی ہوتو ہمیں ایسے نظام تعلیم سے غلام اور غلامانہ سوچ کے سوا کسی چیز کی توقع نہیں کرنی چاہیے۔ابھی بھی وقت ہے کہ ہم اسکبھی نہ پوری ہونے والی دس منٹ کی نیند سے جاگ جائیں کیونکہ خدا ان کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -