قاضی آفاق حسین اور میری نشریات (3)    

 قاضی آفاق حسین اور میری نشریات (3)    
 قاضی آفاق حسین اور میری نشریات (3)    

  

 ابتدا میں ایک تعلیمی سال کے لیے اور پھر دس برس تک پاکستان سے میری غیر حاضری کے دوران قاضی آفاق حسین کی افقی اور عمودی حرکت پذیری کی اطلاعات ملتی رہیِں۔ نئی صدی شروع ہونے سے چودہ سال پہلے سمند پار چھٹی منانے کے لیے وطن آنا ہوا تو لاٹ صاحب کے دفتر میں ملاقات بھی ہو گئی جہاں آفاق ڈپٹی سیکرٹری ایجوکیشن تھے پہلے پتا چلا کہ اندر میٹنگ ہو رہی ہے۔ سو، مِلتے ہی پوچھا کہ کیا سَچ مُچ کوئی اجلاس ہو رہا تھا۔ کہنے لگے کہ ہو تو رہا ہے لیکن دس منٹ میں ختم ہو جائے گا۔“ تھوڑی ہی دیر میں وہی زیر ِمونچھ مسکراہٹ روبرو تھی اور چھوٹی چھوٹی باتوں سے مزا لینے کی ترنگ۔ ایک تسلسل سے ملاقاتیں بحال ہوئی ہیں میری بال بچوں کے ساتھ مستقل وطن واپسی پر۔ اِس بیچ آفاق حسین افسرانہ رُتبے میں ترقی کے ساتھ ساتھ ہارورڈ اور مِشی گن سے کُچھ فالتو علم بھی سمیٹ لائے تھے۔ جی او آر تھری ہو یا انگریزکی بنائی ہوئی اصلی تے وڈی گورنمنٹ آفیسرز ریذیڈیسز، میرے گھر سے دونوں تک پہنچنے کے لیے بس ایک ایک مصروف سڑک پار کرنے کی شرط ہے۔ وہی جس کا اشارہ منفرد لہجے کے شاعر باقی صدیقی نے یہ کہہ کر دیا تھا:

ایک دیوار کی دُوری ہے قفس

توڑ سکتے تو چمن میں ہوتے

اُس وقت ویوار کی دُوری کو توڑنا قدرے آسان لگا کیونکہ سرکاری آبادیوں کے گِرد خار دار تار اور حفاظتی گیٹ ابھی نصب نہیں ہوئے تھے اگر نصب ہو بھی چُکے ہوتے تو لاہور میں دوستانہ پھُل جھڑیاں چھوڑنے کے لیے ملاقات گاہوں کی کمی نہیں۔ ابتدا میں جی سی (یو) کے گِنے چُنے پرانے ہمکاروں کا میل جو ل ہر دوسرے ہفتے ہونے لگا تھا۔ یہاں شرکا میں قاضی آفاق، کسٹم والے عمر فاروق اور اِس خاکسار کے علاوہ پروفیسر کے۔ ایم۔ صدیقی، ڈاکٹر خالد آفتاب اور فائن آرٹس اسٹوڈیو میں اوریجنل چائے پارٹی کے بانی میزبان، مرحوم اسلم منہاس کے نام لینا ہی پڑیں گے۔ مجھ سمیت آخری چار شُرکا کی ترجیحی توجہ چائے کافی پر رہتی جبکہ قاضی آفاق اور عمر فاروق کے ووٹ جمخانہ، ڈیفنس اور پنجاب کلب کے لنچ اور ڈنر کے حق میں ہوتے۔ خاص طور پر آخری دَور میں جب سینئر دوستوں کے لیے طویل فاصلے بتدریج مسئلہ بننے لگے۔

اگر حافظہ غلطی نہیں کر رہا تو میرے وطن لوٹنے پر قاضی آفاق سماجی بہبود کے ڈائریکٹر جنرل تھے۔ پھر صوبائی سیکرٹری بنے مگر گاہے گاہے اُن کے محکمہ جات تبدیل ہوتے رہتے۔ تیسرے فریق کے طور پر خود مجھے اُن کا زکواۃ و عشر کا شعبہ پسند آیا۔ ایک تو سیکرٹری صاحب کا دفتر میرے گھر سے، محتاط اندازے کے مطابق، بمشکل دو سو مِیٹر دُور ہوگا۔ دوسرے، دفتر کے کُرسی نشین نے گرم مشروبات کی سبیِل لگا رکھی تھی۔ ایک دِن کمرے میں داخل ہوا تو چند منٹ کے اندر خوشبوار سیّال مادے سے لبالب بھری سُرخی مائل پیالیاں ہمارے آگے رکھ دی گئیں۔ مرعوب ہو کر پوچھا کہ یہ کیا ہے۔ مُسکراتا ہوا جواب آیا ”قہوہ ہے، آڑو کے فلیور والا۔“ حیرت میں منہ سے نکلا ”مَیں نے تو ایسی چیز پہلے کبھی نہیں دیکھی۔“ ”فروٹی قہوے تو عام مِلتے ہیں۔“ مِلتے ہوں گے مگر ولایت پلٹ صحافی کے عِلم میں یہ اضافہ اُسی سہ پہر ہوا تھا۔

گھراور دفتر میں یہ میزبانیاں لاہور کی ہیں جہاں سے آفاق نے اسلام آباد کا رُخ کیا اور اُس مقام پر فائز ہوئے جس پہ پہنچ کر عہدے ہی ختم ہو جاتے ہیں۔ وفاقی سیکرٹری کا ریٹائر ہوکر صوبائی پبلک سروس کمیشن کا ممبر بن جانا کوئی اچنبھے کی بات تو نہیں۔ نہ اِ س میں حیرت کا پہلو ہے کہ کمیشن کی رُکنیت کی میعاد ختم ہوتے ہی آپ سروسز ٹربیونل کے جج مقرر ہو جائیں۔ پھر بھی اِسے دوستانہ لاف زنی نہ سمجھیں تو قاضی آفاق حسین نے کئی ایسے مقدموں کے فیصلے کیے جن میں ممولہ شہباز سے نہ صرف لڑا بلکہ فتح یاب بھی ہوا۔ سرکاری سروس کے معاملات میں کیا کیا گھپلے ہو جاتے ہیں اور اُن کا ممکنہ مداوا کیونکر کیا جا سکتا ہے؟ اگر آپ کو انتظامی بے انصافیوں کا شکار ہونے والے ملازمین کے لیے اِس سوال کی اہمیت کا اندازہ ہے تو آپ میرا نکتہ سمجھ گئے ہوں گے۔ 

  قبل ازیں صوبائی پبلک سروس کمیشن میں بھی قاضی آفاق حسین کا تجربہ اِتنا ہی دلچسپ تھا۔ جیسے ایک دن پنجاب ہائر ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے لیے اسلامیات کے مضمون میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر براہِ راست تقرریوں کے انٹرویو ہو رہے تھے۔ سبھی امیدوار کم از کم ایم فِل اور سات سالہ تجربے کے حامل۔ شرعی وضع قطع میں ایک گولڈ میڈلِسٹ تشریف لائے اور زور سے ’السلام علیکم‘ کہا۔ سیلیکشن بورڈ کے سربراہ نے اُسی تپاک سے ’وعلیکم السلام‘ کہا اور پہلا سوال کیا کہ تین غزوات کے نام بتائیے۔ ”سر، غزوہء بدر، غزوہء احد اور غزوہ ء۔۔۔ غزوہء۔۔۔“ اِس پر آفاق صاحب نے معرکہء حنین کا اشارہ دینے کی کوشش کی۔ ”ایک صبح نبیء پاک ﷺ نے ایک جید صحابی کو پرچم عطا کر کے فرمایا تھا کہ آج فتح اِن کے ہاتھ سے ہوگی۔“ ”جی جی یاد آ گیا، جنگِ سومنات۔“ 

  آفاق کا جی سی (یو) میں تدریس سے دوبارہ وابستہ ہو جانے کا فیصلہ اِسی چشم کُشا انکشاف کی روشنی میں تھا۔ ایک اضافی سبب یہ بھی کہ امیدوار کو گولڈ میڈل دینے والے وائس چانسلر کو جب شکایت کا فون کِیا گیا تو جواب مِلا: ”کیا کریں، اِسی طرح کے لوگ آ رہے ہیں۔“ قاضی آفاق کا تدریسی سلسلہ کئی سال تک چلا، جس دوران وہ اولڈ راوینز یونین کے صدر بھی منتخب ہوئے۔ البتہ جنگِ سومنات سے کچھ ہی کم حیرت اب سے ڈھائی سال پہلے ہوئی تھی۔ مَیں نے فون پر ایک چار ستاروں والے ہوٹل کا نام لے کر کہا کہ شام کو کلاس سے فارغ کر وہِیں پہنچ جائیں، عمر فاروق بھی ہوں گے۔ کہنے لگے: ”جی سی (یو) کی نئی انتظامیہ نے آن لائن پیغام بھیجا تھا کہ تدریس جاری رکھنے کے لیے آپ تحریری درخواست جمع کرائیں اور انٹرویو کے لیے پیش ہوں۔ مَیں نے پڑھانا چھوڑ دیا ہے۔“ 

  تعلیم کو مِشن سمجھنے والے ہر دلعزیز استاد کو اِس پر کتنا دُکھ ہوا؟ مَیں اِس پہ کیا کہوں کہ خود مجھے چارٹرڈ انسٹی ٹیوٹ آف لِنگوسٹس سے انگلش میں ایم سی آئی ایل اور بی بی سی لندن سے براڈ کاسٹ جرنلزم کے کورسز کرنے کے باوجود قاضی آفاق کے ڈیڑھ سال بعد مشابہہ حالات میں سرکاری جامعہ سے فارغ خطی دی جا چکی ہے۔ یوں بحیثیت لیکچرر ہماری اوریجنل سینیارٹی کا فرق آخری مرحلے تک برقرار رہا۔ بدلہ لینے کے لیے مَیں نے ایک نجی ادارے میں تدریس پر توجہ دینے کی ٹھان لی ہے۔ قاضی آفاق نے یہ انتقام لیا کہ جاتے جاتے سب سے پُرانی یونیورسٹی میں بطور ممبر سیلیکشن بورڈ زور لگا کر چند ایسے نوجوانوں کا تقرر کر گئے جن کے لیے مَیں نے کہا تھا کہ قاضی صاحب سفارش تو نہیں مگر انصاف ہونا چاہیے۔ افسوس کہ شعبہء تعلیم نے اِس عادل ممتحن سے بحیثیت اُستاد وہی کچھ کیا جس پہ فیض کہہ چکے ہیں:

ہم تو مجبورِ وفا ہیں مگر اے جانِ جہاں 

اپنے عشاق سے ایسے بھی کوئی کرتا ہے

(جاری ہے)

مزید :

رائے -کالم -