سیاست کے بگڑتے تیور

 سیاست کے بگڑتے تیور
 سیاست کے بگڑتے تیور

  

پاکستانی سیاست اور معیشت دونوں بے یقینی کے نرغے میں ہیں۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ کسی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل ہی کی نہیں،قریباً تمام معاشی ماہرین کی یہ رائے تھی کہ  آئی ایم ایف سے معاملہ ہوتے ہی معاملات قابو میں آ جائیں گے۔مشکلات تو اپنی جگہ رہیں گی کہ انہیں ختم کرنا کسی ایک لمحے یا کسی ایک شخص کے بس میں نہیں، جو مسائل گزشتہ کئی برسوں میں بہت سے لوگوں نے مل ملا کر پیدا کیے ہوں،یا ان میں اضافہ کیا ہو، انہیں آنِ واحد میں حل کر دینا کسی انسان کے بس میں نہیں ہوتا لیکن ایسا ہو نہیں پایا۔ ڈالر کے مقابلے میں روپیہ کمزور ہوتا جا رہا ہے۔پاکستان قائم ہوا تو اس کے مخالفوں کا کہنا تھا کہ یہ چند ماہ بھی چل نہیں پائے گا، کچھ ہی عرصے میں یہاں کے حکمران ہاتھ باندھ کر نئی دہلی کی خدمت میں حاضر ہو جائیں گے،اپنی غلطی کا اعتراف کریں گے،اور دوبارہ انڈین یونین میں داخلے کی درخواست دائر کر دیں گے۔نئی دہلی کے پنڈت اپنی شرائط اور اپنے وقت پر اس گذارش کو شرفِ قبول بخشیں گے۔ایک بار پھر افغانستان تک ترنگا لہرائے گا،اور اپنی دھاک بٹھائے گا…… لیکن یہ خواہش پوری نہ ہو سکی۔نئی مملکت دیکھتے ہی دیکھتے اپنے پاؤں پر کھڑی ہو گئی،اس کا ریاستی ڈھانچہ استوار ہو گیا،معیشت ترقی کرنے لگی،اور دفاع کی صلاحیتوں میں بھی اضافہ ہوتا چلا گیا۔

پاکستان اور بھارت دو دشمن ممالک کے طور پر تخلیق نہیں کیے گئے تھے۔ان دونوں نے ایک دوسرے کا حریف بن کر نہیں رہ جانا تھا۔قائداعظم محمد علی جناحؒ سے جب بھارت اور پاکستان کے مستقبل کے تعلقات کے حوالے سے سوال کیا گیا تھا تو انہوں نے فوراً جواب دیا تھا کہ یہ امریکہ اور کینیڈا کے سے ہوں گے۔یہ بات تحریک آزادی کے اولین دِنوں میں نہیں آخری ایام میں کہی گئی تھی، جب دو مملکتوں کے قیام پر اتفاق ہو چکا تھا۔پاکستان کو کینیڈا بن کر شب و روز بسر کرنا تھے، اس کی دنیا اپنی تھی، جس کی تعمیر کا حق اسے حاصل ہو چکا تھا۔ پاکستان جب قائم ہوا تو اس کے مشرقی اور مغربی دو حصے تھے،درمیان میں ایک ہزار میل کے لگ بھگ بھارتی علاقہ تھا۔ اس میں سے گزر کر ہی ایک دوسرے تک پہنچنا ممکن تھا۔زمینی تو ایک طرف فضائی راستہ بھی بھارتی آسمانوں میں سے نکلتا تھا۔  جب 1971ء کے ہنگاموں کے دوران بھارت نے پی آئی اے پر اپنی فضائی حدود بند کیں تو پھر سری لنکا کے ذریعے یہ سفر بہت طویل ہو گیا۔ایک ایسا ملک جس کے دونوں حصوں کے درمیان رابطہ بھارت ہی کے ذریعے ممکن ہو، وہ اُس کے ساتھ  تعلقات کے بگاڑ کا تصور کیسے کر سکتا تھا؟ مشرقی پاکستان کے ممتاز سیاست دان نور الامین مرحوم نے جنہیں سقوطِ ڈھاکہ سے کچھ عرصہ پہلے متحدہ پاکستان کا وزیراعظم بھی نامزد کر دیا گیا تھا،  مجھے بتایا کہ تحریک پاکستان کے دوران ہمارا خیال یہی تھا کہ نئے ملک سے بھارت کے تعلقات دوستانہ ہوں گے،اور خشکی کے راستے بھی مشرقی سے مغربی پاکستان آمدورفت ممکن ہو گی،جس طرح شمالی سے جنوبی بھارت تک کا طویل فاصلہ بھارتی وحدت کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتا،اسی طرح پاکستان کے دونوں حصے بھی ایک دوسرے سے جڑے رہیں گے۔ تقسیم ہند کے موقع پر جو ناانصافیاں روا رکھی گئیں،انہوں نے بھارت اور پاکستان کو ایک دوسرے سے دور کر دیا۔ پاکستان عدم تحفظ کے احساس میں مبتلا ہوا تو اسے امریکہ کا اتحادی بن کر اپنے دفاع اور اپنی معیشت کی مضبوطی کا سامان کرنا پڑا۔دونوں ممالک کے درمیان طاقت کے توازن نے تحفظ کا احساس پیدا کیا،اور پاکستان آگے بڑھتا چلا گیا۔ اس کی معیشت مستحکم بنیادوں پر استوار ہو گئی،دفاع مضبوط ہو گیا،یہاں تک کہ ایٹمی طاقت بن گیا،لیکن سیاست اور اہل ِ سیاست قابو میں نہیں آ سکے۔اقتدار کی کشمکش نے اسے بڑے صدمے پہنچائے۔بھارت سے تعلقات خراب تر ہوتے گئے،مہم جوئیوں نے ماحول کو آتشیں بنا دیا،نتیجتاً ہم وہاں پہنچ گئے ہیں جہاں سے ہمیں بھی اپنی خبر نہیں آ رہی۔ ریاست کا کاروبار قرض پر چل رہا ہے، نہ آمدنی اخراجات کے مطابق ہو رہی ہے، نہ اخراجات آمدنی کے مطابق کیے جا رہے ہیں۔دستور نامی شے موجود تو ہے لیکن اس کی پابندی نہیں کی جا رہی۔ اقتدار کا کھیل زندگی اور موت کا سوال بن کر رہ گیا ہے۔ آئی ایم ایف سے ہمیں زرمبادلہ کی سپورٹ درکار کہ ہماری درآمدات برآمدات سے کہیں زیادہ ہیں۔ بے یقینی کے ماحول میں کوئی سرمایہ کاری کرنے پر کیسے تیار ہو گا، اندرون ملک رہنے والے بھی سرحدوں کے پار دیکھ رہے ہیں،اور وہاں محفوظ جنتیں تلاش کر رہے ہیں۔ عمران خان بڑے دعوؤں کے ساتھ برسر اقتدار آئے تھے، برسوں کی جدوجہد کے بعد کرکٹ کا یہ ہیرو سیاست میں اپنے آپ کو منوا پایا تھا، لیکن ان کے اقتدار میں بھی وہ کچھ نہ ہو پایا جس کے خواب دکھائے جا رہے تھے، نتیجتاً ان کے اتحادیوں نے بغاوت کر دی، اقتدار ان کے ہاتھ سے نکل گیا۔ قومی اسمبلی میں باقاعدہ تحریک عدم اعتماد منظور ہوئی، اور اقتدار کے ایوانوں سے دستوری طریق کار کے مطابق نکال باہر کیے جانے والے وہ پاکستان کے پہلے وزیراعظم قرار پائے۔ انہوں نے اِس بات کو دِل کا روک بنا لیا،کبھی  امریکہ کے لتّے لئے، کبھی ریاستی اداروں پر پھبتیاں کسیں، بڑے بڑے جلسے کر کے دِل کا غبار نکالا، اور اب ان کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ فی الفور انتخابات کرا دیئے جائیں،انہیں یقین ہے کہ وہ دوتہائی اکثریت کے ساتھ جیت کر آئیں گے، اور سب کو ناکوں چنے چبوائیں گے۔جو معیشت ان سے سنبھالی نہیں جا رہی تھی،وہ ابھی تک ڈانواں ڈول ہے،سیلاب اور بارشوں نے الگ تباہی مچا دی ہے۔ ساڑھے تین کروڑ افراد بے گھر ہو چکے ہیں، انفراسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے، اندازے لگائے جا رہے ہیں کہ کم و بیش تیس ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔معیشت کی کمر اور بھی جھک گئی ہے،لیکن عمران خان اور ان کے حریف جو حکومت میں ہیں،ایک دوسرے کو تسلیم نہیں کر رہے۔ایک دوسرے کے ساتھ بات نہیں کر رہے،ایک دوسرے کی بات نہیں سن رہے،مسائل کو حل کرنے کی کسی مشترکہ کاوش پر آمادہ نہیں ہو پا رہے،نتیجہ یہ ہے کہ سیاست کے بگڑتے تیور مزید بگاڑ کی خبر دے رہے ہیں۔   یقین محکم سے مالا مال جس نوزائیدہ ملک نے دنیا کو حیران کر دیا تھا، اب جبکہ سامانِ زیست و افر مقدار میں موجود ہے(یا فراہم کیا جا سکتا ہے) بے یقینی کے سامنے اس کا بس نہیں چل رہا۔اے وہ لوگو جن کے بس میں کچھ بھی ہے، اٹھو، اور وہ کچھ کر ڈالو،جس سے یقین کی دولت حاصل کی جا سکے     ؎

اٹھو، وگرنہ حشر نہیں ہو گا پھر کبھی

دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا

(یہ کالم روزنامہ ”پاکستان“ اور  روزنامہ ”دُنیا“ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)

مزید :

رائے -کالم -