ضلع دادو میں سیلابی پانی سے خطرات

ضلع دادو میں سیلابی پانی سے خطرات

  

صوبہ سندھ کا ضلع دادو پانچ تحصیلوں، دادو مہیڑ، جوہی، خیرپور ناتھن اور سیہون شریف پر مشتمل ہے، 2017ء کی مردم شماری کے مطابق یہاں 15 لاکھ سے زائد نفوس آباد ہیں۔ صوبہ سندھ کے مشرق میں واقع اس ضلع کی سرحد بلوچستان کے ضلع خضدار سے لگتی ہے اور یہاں کیرتھر کا پہاڑی سلسلہ بھی ہے۔ضلع دادو میں آثار قدیمہ کے کئی اہم مقامات ہیں اور ایک قدیمی شہر خدا آباد بھی ہے۔ سندھ کے حکمران خاندان کلہوڑو اور تالپور کے قدیمی مقبرے بھی ہیں۔ خداآباد میں ایک قدیمی مسجد اور جو ہی تحصیل میں شیوا مندر واقع ہے۔حالیہ سیلابی صورت حال میں اس ضلع کے اہم مقامات اور آبادی  شدید متاثر ہے۔سیہون شریف میں حضرت لعل شہباز قلندر کا مزار مرکز تجلیات ہے، ایک صحت افزاء  مقام کورگھ ہل ہے جسے ابھی تک نظر انداز کیاگیا ہے جبکہ منچھر جھیل کی دلکشی بھی سیلابی طوفان سے خوف کی کی علامت بن چکی ہے۔اعدادوشمار کے مطا بق ضلع دادو کی 75 فیصد آبادی دیہات میں اور 25 فیصد شہری علاقوں میں رہائش پذیر ہے، لیکن موجودہ صورت حال میں اکثر دیہات زیر آب ہیں اور لوگ بے گھر ہوچکے ہیں۔دادو کو بجلی کی فراہمی کے لئے 500 کے وی کا گرڈ سٹیشن شدید خطرات سے دوچار رہا، لیکن پاک فوج نے دن رات محنت کرکے اسے محفوظ بنادیا ہے۔ وزیراعظم پاکستان نے اس کی حفاظت کا فوری نوٹس لیا تھا، اس کے بعد اسے محفوظ بنانے کے لیے بند بنایا گیا۔جو ہی، خیرپور ناتھن اور مہیڑ کی تحصیلوں کی کئی یونین کونسلز میں ابھی بھی پانی سطح کم نہیں ہو رہی۔حکومت سندھ کے پاس پانی کو ٹھکانے لگانے کا مربوط منصوبہ نہیں۔ ماہرین کی رائے ہے کہ زمین میں ڈرلنگ کا تجربہ کرنا مفید ثابت ہوسکتا ہے اور پانی کی سطح کم کی جاسکتی ہے۔ حکومت سندھ کو اس سلسلے میں ماہرین سے مشاورت کا عمل جلد مکمل کرکے ایکشن پلان بنانا چاہیے اور متاثرین  کے علاقوں کو جلد رہائش کے قابل بنانا ایک بڑا چیلنج ہے۔ اس لیے سب کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -