سیلاب متاثرین اور سیاستدانوں کا بے حس رویہ

سیلاب متاثرین اور سیاستدانوں کا بے حس رویہ

  

ازبکستان کے تاریخی شہر سمرقند میں ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے جس کے مطابق رکن ممالک نے باہمی تجارت میں مقامی کرنسیوں کا حصہ بڑھانے کے روڈ میپ کی منظوری دے دی ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک نے توانائی کے شعبے کا انفراسٹرکچر بہتر بنانے اور گرین ہاؤس گیس اخراج میں کمی کے لیے ایک دوسرے کی مدد پر بھی اتفاق کیا تاہم ساتھ ساتھ گلوبل انرجی کی نگرانی کا شفاف نظام بنانے کا مطالبہ بھی کر دیا گیا ہے۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کے منفی نتائج سے بچنے کے لیے ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے اس لیے رکن ممالک گرین ہاؤس گیس اخراج میں کمی اور ترقی میں توازن کی وکالت کرتے ہیں تاہم پیرس معاہدے پر مکمل اور موثر عمل درآمد کے لیے کام کرنے پر تیارہیں جسے مشترکہ لیکن مختلف ذمہ داریوں کے ساتھ نافذ العمل ہونا چاہیے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ کسی ملک میں سیلاب سے اتنی تباہی نہیں ہوئی جتنی پاکستان میں ہوئی، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کی قیمت پاکستان نے تباہ کاریوں کی صورت میں اداکی ہے۔ شہباز شریف دنیا کو اِس وقت یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ماحولیاتی تبدیلیوں میں پاکستان کا کرادار ایک فیصد بھی نہیں لیکن ان کے نتیجے میں آنے والا سیلاب پاکستان کو بھگتا پڑ رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی یہی بات دنیا کو باور کرانے کی کوشش کی تھی لیکن پاکستان کی اس کی ضرورت کے تناسب سے تاحال  مدد نہیں مل رہی۔ پاکستان ہر پلیٹ فارم پر اپنی آواز اٹھا رہا ہے جیسے وزیر اعظم نے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں بھی دنیا سے کہا کہ اسے ہماری مدد کے لیے آگے آنا ہوگا لیکن اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی 30 ارب ڈالر کی اپیل کے مقابلے میں پاکستان کو اب تک انتہائی کم امداد مل سکی ہے۔ پاکستان کو اپنی آواز کو موثر بنانے کے لیے اپنا کیس ہنگامی لیکن مضبوط بنیادوں اور رائج بین الاقوامی طریقہ کار کے ذریعے دنیا کے سامنے رکھنا ہو گا، اجتماعی اور مربوط کوشش کے ذریعے ہنگامی بنیادوں پر سیلاب متاثرین سے متعلق تمام اعداو شمار اکٹھے کر کے بحالی کا مکمل لائحہ عمل دنیا بھر خصوصاً موسمیاتی تبدیلیوں کے ذمہ دار ممالک تک پہنچانا ہوگا۔ خبریں آ رہی ہیں کہ پاکستان کی عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے خصوصی قرض کی بات چیت چل رہی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو انٹرنیشنل بینک آف ری کنسٹرکشن اینڈ ڈویلپمنٹ اور یورپین سینٹرل بینک سمیت دنیا کے دوسرے تمام متعلقہ مالیاتی اداروں سے خصوصی قرض کے لیے ہنگامی بنیادوں پر رابطہ کرنا چاہئے۔ اس مقصد کے لیے اچھی شہرت کی حامل کنسلٹنسی اور لابنگ فرموں کی خدمات حاصل کرنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں کیونکہ یہ کروڑوں متاثرین کی بحالی کا معاملہ ہے۔ بلوچستان اور سندھ میں صورت حال بگڑ رہی ہے،پاکستان کے بڑے حصے میں آج بھی پانی موجود ہے جبکہ محکمہ موسمیات کی جانب سے مزید بارشوں کی پیش گوئی متاثرین کو ڈرا رہی ہے، کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور اِن متاثرین میں سے بہت سوں کو کوئی ریلیف نہیں مل پائی، خوراک تک کی فراہمی محال ہے، ملیریا اور ڈینگی سمیت مختلف بیماریاں ان کے درپے ہیں،   مطلوبہ ریلیف یعنی خوراک، ٹینٹ اور ادویات کی فوری فراہمی ممکن بنا دی جائے تو بھی مستقبل قریب میں ان کی مشکلات کم ہوتی نظر نہیں آتیں۔ ان کے پاس نہ کوئی کام ہے، نہ مویشی ہیں اور نہ ہی فوری فصل کاشت کرنے کی کوئی صورت، کھیتوں میں کئی کئی فٹ پانی کھڑا ہے جس کی نکاسی کا کوئی انتظام نہیں، غرض سینکڑوں، ہزاروں یا لاکھوں گھرانے حالات کے رحم و کرم پر ہیں۔ 

پریشانی صرف سیلاب متاثرین ہی کی نہیں ہے بلکہ ملکی معیشت بھی اس سے متاثر ہوئی ہے، تباہی کا ابتدائی حکومتی تخمینہ لگ بھگ 13 ارب ڈالر کا تھا لیکن اب ماہرین کے مطابق صرف سیلاب سے متاثرہ زرعی شعبے کے نقصان کا محتاط اندازہ ہی 13 ارب ڈالر کے قریب ہے۔ رواں مالی سال میں برآمدات میں پہلے ہی سے کمی دیکھنے میں آ رہی تھی لیکن اب سیلاب کی وجہ سے بند ہونے والے ٹیکسٹائل یونٹوں کی وجہ سے اِن میں براہ راست 20 فیصد کمی متوقع ہے جبکہ خام مال کی عدم دستیابی اور مہنگے درآمدی خام مال کی وجہ سے سے یہ مزید گر سکتی ہیں۔ امریکی ڈالر ویسے تو دنیا بھر کی کرنسیوں کو پچھاڑ رہا ہے لیکن ہمارے ملک کی سست ہوتی ترقی کی رفتار، گرتی برآمدات اور کمزور ہوتی ملکی معیشت اسے روپے کے مقابلے میں مزید طاقت بخش رہی ہے۔ رواں مالی سال میں ملک کو 32 سے 34 ارب ڈالر صرف بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے لیے درکار ہیں، تجارتی خسارہ پھر سے بڑھنا شروع ہو چکا ہے، گزشتہ مالی سال 17.3 ارب ڈالر رہنے والے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی متوقع تھی لیکن برآمدات میں کمی اور دیگر عوامل کی وجہ سے یہ خسارہ گزشتہ سال سے زیادہ رہنے کا خدشہ ہے۔ایک طرف سیلاب متاثرین کی امداد اور بحالی کے لیے چار سے پانچ سال اور کھربوں روپے درکار ہیں تو دوسری طرف معیشت دوبارہ آئی سی یو میں داخل ہوتی نظر آ رہی ہے۔ ہمارے کئی سیاست دانوں کی سنجیدگی کا عالم یہ ہے کہ یہ ایک دوسرے پر پھبتیاں کسنے اور تنقید کرنے کو ہی سیاست گردانتے ہیں۔ کیا وقت کا تقاضا یہ نہیں تھا کہ سب سر جوڑ کر بیٹھتے، سیلاب متاثرین کی امداد اور بحالی کا مشترکہ لائحہ عمل بناتے اور اپنی توجہ کمزور ہوتی ملکی معیشت کو سنبھالنے کے پلان پر لگاتے لیکن کہیں ان کی توجہ صوبائی حکومت گرا کر چہرہ تبدیل کرنے پر مرکوز ہے تو کہیں موجودہ حالات کا حل فی الفور انتخابات میں ڈھونڈا جا رہا ہے یا ان کے بحث و مباحثے کا مرکز آرمی چیف کی تعیناتی ہے۔ حکومتی وزرا ء پاکستان تحریک انصاف سے اعلان کردہ 10 ارب اور پی ٹی آئی رہنما حکومت سے امداد کے لیے دیئے جانے والے 20 ارب کا حساب مانگ رہے ہیں، سیلاب متاثرین حیرت سے کبھی اپنے پھیلے ہاتھوں کی طرف دیکھتے ہیں تو کبھی اپنے رہنماؤں کے بے حس رویوں کی طرف۔ ہمارا حال پنجابی کی اس ضرب المثل جیسا ہے، ”پلے نئیں دھیلا تے کردی میلا میلا“۔۔۔یہ سیاست کا وقت نہیں،اس کے لیے تو عمر پڑی ہے، اپنی انا ء کے خول سے باہر نکلیں،اپنے اپنے علاقوں میں ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر نقصان جانچیں، مستحقین تک امداد کی پہنچ یقینی بنائیں،بے سروسامان متاثرین کی بحالی کے لیے جو بھی ممکن ہو وہ کر گزریں ورنہ اس کے جو دور رس نتائج مرتب ہوں گے کوئی بھی ان اثرات سے بچ نہیں پائے گا۔

مزید :

رائے -اداریہ -