بجلی بلز ناجائز شرح‘ پشاور ہائیکورٹ میں رٹ پٹیشن جمع 

  بجلی بلز ناجائز شرح‘ پشاور ہائیکورٹ میں رٹ پٹیشن جمع 

  

پشاور (سٹی رپورٹر) امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا پروفیسر محمد ابراہیم خان نے پیسکو اور واپڈا بجلی بلوں کی ناجائز شرح کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن جمع کروادی۔امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا نے پشاور ھائی کورٹ میں اپنے وکلاء جسٹس غلام محی الدین اور ملک فاروق ایڈووکیٹ کو ساتھ لے کر پیسکو اور واپڈا بجلی بلوں کی ناجائز شرح کے خلاف رٹ پٹیشن جمع کروا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا پروفیسر محمد ابراہیم خان نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ چونکہ خیبر پختونخوا میں تمام تر بجلی پن بجلی یعنی ھائیڈرو الیکٹرک پاور ہے جس پر کسی قسم کے فیول کا کوئی خرچ نہیں آتا اور اس پرآئینی طور پر سب سے پہلے حق اس صوبہ کے عوام کا ہے اور یہاں پیدا ہونے والی پن بجلی صوبہ کی ضرورت سے فاضل یعنی ضرورت سے زیادہ بھی ہے اور اس پر خرچ ایک روپیہ فی یونٹ بھی نہیں آتا۔اب حکومت اور متعلقہ ادارے پہلے ہی مختلف فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ چارجز، سنٹرل ایکسائز ڈیوٹی اور مختلف ناموں سے متعدد ٹیکسوں کی صور ت میں پہلے ہی عوام سے کم از کم 20 روپے فی یونٹ چارج کر رہے ہیں اور اب اس کو 30 روپے فی یونٹ تک وصول کرنے کی تیاری کی جارہی ہے جوکہ سرا سر ظلم اور عدل کے خلاف ہے اس لئے عدالت عالیہ سے درخواست کی گئی ہے کہ پیسکو اور واپڈ ا کو اس بات کا پابند کیا جائے کہ خیبر پختونخوا کے عوام سے ہائیڈروپاور کے ضمن ان مختلف ظالمانہ ٹیکسز او ر ڈیوٹیز وغیرہ کی وصولی کا سلسلہ روک دیاجائے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور ہا ئی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کرنے کے موقع پر میڈیا نمائندوں سے خطاب کے دوران کیا۔اس موقع پر رکن صوبائی اسمبلی عنات اللہ خان، سینئیروکلاء ایڈووکیٹ فقیر اللہ اعوان، ایڈووکیٹ ارباب عثمان، سابق چیف جسٹس ھائی کورٹ غلام محی الدین، جماعت اسلامی کے صوبائی میڈیا کوارڈینیٹر سید جماعت علی شاہ، صداقت محمود غازی اور دیگر بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کی جانب سے ناروا ٹیکسوں کے حامل بجلی بلوں کے خلاف پشاورہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کر دی گئی ہے جماعت اسلامی عوام کے بنیادی حقوق کے حصول کے مطالبہ اور بلا تفریق قومی خدمت کے اصول سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گی، جب بھی عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کیا گیا تو صرف بد امنی نے ہی جنم لیا، موجودہ حالات میں عام انتخابات کی کوئی گنجائش نہیں، حکمران جماعتیں کھینچا تانی کی بجائے عوام کی بلا امتیاز خدمت کا اپنا آئینی فرض پورا کریں۔ 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -