ٹیچنگ ہسپتال ڈیرہ،30ستمبرکوپناہ گاہ کاافتتاح،تیاریاں مکمل 

ٹیچنگ ہسپتال ڈیرہ،30ستمبرکوپناہ گاہ کاافتتاح،تیاریاں مکمل 

  

ڈیرہ غازیخان(سٹی رپورٹر)ڈیرہ غازیخان میں ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کیلئے انتظامیہ اور سیاسی قیادت ایک (بقیہ نمبر36صفحہ نمبر6)

پیچ پر ہیں،ترقیاتی منصوبوں کیلئے فنڈز کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے مشترکہ کاوشوں پر متفق ہیں۔پناہ گاہ اور کارڈیالوجی ہسپتال کی او پی ڈی کا افتتاح30ستمبر کو کیا جائے گا۔ترقیاتی منصوبوں کی رفتار کو تیز کرنے اور معاملات کو جلد حل بھی کیا جائے گا۔اس سلسلہ میں ڈپٹی کمشنر محمد انور بریار اور ایم پی اے محمد حنیف نے شہر کی ترقیاتی منصوبوں کی سائٹس کا دورہ کیا،انہوں نے مدد اینڈ چائلڈ کیئر ہسپتال،او پی ڈی ٹیچنگ ہسپتال،کارڈیالوجی ہسپتال،چوڑہٹہ پلی اور جنرل بس سٹینڈ کا دورہ کیا،زیرتعمیر مدر اینڈ چائلڈ کیئر ہسپتال،اوپی ڈی کے دورے کے موقع پر بریفنگ دیتے ہوئے انہیں بتایا گیا کہ مدد اینڈ چائلڈ کا بیسمنٹ،گراؤنڈ اور فسٹ فلور تعمیر ہو چکا ہے،سکینڈ فلور پر کام جاری ہے،ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ بڑے شہروں کی طرح دن رات لیبر لگا کرکام  کو جلدمکمل کیا جائے، تعمیراتی کاموں میں میٹریل کی کوالٹی پر کمپرومائز نہ کیا جائے،محمد حنیف پتافی نے کہا کہ فنڈز کی دستیابی کیلئے حکام سے رابطہ کروں گا،ٹیچنگ ہسپتال میں قائم پناہ گاہ کا30ستمبر کو افتتاح کیا جائے گا۔انہوں نے کارڈیالوجی ہسپتال کا بھی دورہ کیا،انہیں آئی ڈیپ کے نمائندوں نے تعمیراتی کام بارے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کارڈیالوجی ہسپتال کی او پی ڈی کا68فیصد کام مکمل کیا جا چکا ہے،ڈپٹی کمشنر محمد انور بریار نے کہا کہ ہسپتال میں جلد از جلد مشینوں کی انسٹالیشن کا کام فائنل کیا جائے،محمد حنیف پتافی نے کہا کہ30ستمبر تک او پی ڈی کو ہر صورت فنکشنل کیا جائے،تعمیراتی منصوبہ جات کے معیار کو چیک کرنے کیلئے محمد انور بریار اور محمد حنیف پتافی نے جنرل بس سٹینڈ ڈیرہ غازی خان کا بھی دورہ کیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ جنرل بس سٹینڈ شہر کا فیس ہے،جیسے خوبصورت ترین بنایا جائے اور پلانٹیشن کی جائے،محمد حنیف پتافی نے کہا کہ جنرل بس سٹینڈ کی اوپن آکشن کے ذریعے ریونیو وصولی کیلئے ورک کیا جائے۔انہوں نے چورہٹہ چوک کے قریب مانیکہ کینال پرپلی(بریج)تعمیر کے کام کا بھی معائنہ کرتے ہوئے کہا کہ بریج کے پائل ورک کو جلد مکمل کیا اور حکومتی فنڈز کا استعمال اچھے طریقہ سے کیا جائے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -