کھڑک سنگھ ”غدار“اور چاند کور کی 2ماہ کی حکومت 

کھڑک سنگھ ”غدار“اور چاند کور کی 2ماہ کی حکومت 
کھڑک سنگھ ”غدار“اور چاند کور کی 2ماہ کی حکومت 

  

 مصنف: پروفیسر عزیز الدین احمد

قسط:48 

پنجاب۔ رنجیت سنگھ کے بعد

رنجیت سنگھ کے انتقال کے بعد اس کی وصیت کے مطابق اس کا بیٹا کھڑک سنگھ تخت پر بیٹھا۔ نئے مہاراجہ میں 2خامیاں تھیں پہلی یہ کہ وہ افیون کا عادی تھا دوسری یہ کہ وہ قوت فیصلہ سے عاری، غوروفکر اور منصوبہ بندی کرنے کی صلاحیت سے محروم تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ان2 دھڑوں کو کنٹرول کرنے کی بجائے جانبداری کا ثبوت دیتے ہوئے سندھانوالوں کی مدد سے ڈوگرا دھڑے کو ختم کرنے کے منصوبے پر عمل کرنے لگا۔ عوام میں یہ بات پھیل گئی کہ کھڑک سنگھ دھیان سنگھ کو قتل کروانا چاہتا ہے۔ دھیان سنگھ ایک ذہین اور ہوشیار آدمی تھا اس نے کھڑک سنگھ کے خلاف پروپیگنڈہ کی مہم شروع کی کہ مہاراجہ پنجاب کو انگریزوں کے پاس فروخت کرنا چاہتا ہے۔ اس پروپیگنڈے سے فوج بہت متاثر ہوئی اور اس نے کھڑک سنگھ کو ”غدار“ قرار دے کر اقتدار سے ہٹا کر اس کے بیٹے نونہال سنگھ کو تخت پر بٹھا دیا۔ پنجاب کی تاریخ میں فوج پہلی مرتبہ اس بات کی منصف بن بیٹھی کہ کون محب وطن ہے اور کون غدار۔ اس کے بعد فوج نے مہاراجہ اور وزیر دونوں کی تقرری کا اختیار حاصل کر لیا۔ 

کھڑک سنگھ بمشکل 3ماہ تک برسراقتدار رہا اور نونہال سنگھ1 سال سے کچھ زیادہ۔ نونہال سنگھ لڑکپن میں فوج میں بھرتی ہو گیا تھا وہ کسی حد تک فوج میں مقبول تھا اور وہ اسے اپنا نمائندہ تصور کرتی تھی۔ 1 سال کے بعد وہ ایک حادثے میں ہلاک ہو گیا اس کے مرنے کے بعد دوسرے دھڑے یعنی سندھانوالے سرداروں نے ڈوگرا سرداروں کو پرے دھکیل کر کھڑک سنگھ کی بیوہ مائی چاند کور کو تخت پر بیٹھا کر اپنی وزارت کا اعلان کر دیا، چاند کور کی حکومت صرف 2ماہ تک قائم رہ سکی۔ 

دھیان سنگھ وزیر نے رنجیت سنگھ کے بڑے بیٹے شیر سنگھ کے تعاون سے فوج میں اپنا اثر و رسوخ پیدا کرنا شروع کر دیا۔ اس زمانے میں فوج لاہور کی انجنیئرنگ یونیورسٹی کے عقب میں بدھو کے آوے کے نزدیک خیمہ زن ہوتی تھی۔ شیر سنگھ نے فوجی کیمپ میں جا کر فوجی جرنیلوں سے اقتدار کے لیے سودا بازی کی۔ اس وقت تک فوج ایک سیاسی پارٹی کی حیثیت اختیار کر چکی تھی۔ ہر رجمنٹ میں پنچ ہوتے تھے اور تمام رجمنٹوں کے پنچوں کی ایک کونسل ہوتی تھی جو فیصلے کرتی تھی۔ انہیں اس زمانے کے کور کمانڈر سمجھ لیں، یہ کور کمانڈر منتخب ہوا کرتے تھے۔ ان پنچوں نے شیر سنگھ کی وفاداری کا اعلان کرنے کے بعد لاہور کے قلعے میں بیٹھی چاند کور کا محاصرہ کر لیا۔ بیرون قلعہ اور اندرون قلعہ ہر طرف فوج ہی فوج نظر آ رہی تھی۔ فرق صرف یہ تھا کہ قلعہ کے اندر گلاب سنگھ کی ڈوگرا فوج تھی اور بیرون قلعہ سکھ سرداروں کی خالصہ فوج۔ قلعہ پر حملہ کرنے سے پہلے خالصہ فوج نے شہر میں داخل ہونے کا فیصلہ کیا۔ اس زمانے میں لاہور کے چاروں طرف فصیل بنی ہوئی تھی اور جنگ کی صورت میں فصیل کے دروازے بند کر دئیے جاتے تھے لیکن دروازوں کی حفاظت کرنے والے بھی فوجی ہی تھے۔ شیر سنگھ نے انہیں رشوت دے کر دروازے کھلوائے اور فوج اور توپخانے سمیت شہر میں گھس گیا۔ لاہور قلعہ اور شاہی مسجد کے درمیان واقعہ حضوری باغ میں ڈیرے ڈال دئیے۔ اس کے بعد 70 ہزار فوجیوں نے لاہور شہر کے اندر لوٹ مار مچا دی۔عوام کی محافظ فوج نے عوام کو کھانا شروع کر دیا۔ ( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -