گھر پر مزید خوش خبریاں اس کی منتظر تھیں اور جشن کا سا سماں تھا

گھر پر مزید خوش خبریاں اس کی منتظر تھیں اور جشن کا سا سماں تھا
گھر پر مزید خوش خبریاں اس کی منتظر تھیں اور جشن کا سا سماں تھا

  

مصنف : اپٹون سنکلئیر

ترجمہ :عمران الحق چوہان 

 قسط:20

اگلی صبح ٹھیک 7 بجے یورگس اپنے کام پر تھا جو دروازہ اسے دکھایا گیا تھا اس کے باہر وہ 2گھنٹے انتظار کرتا رہا۔ باس کا مطلب یہ تھا کہ وہ سیدھا اندر آجائے لیکن چوں کہ اس نے یہ بات کہی نہیں تھی اس لیے وہ باہر کھڑا رہا۔ باس کسی اور مزدور کی تلاش میں باہر نکلا تو اس کی نظر یورگس پر پڑی۔ اس نے یورگس کو کافی برا بھلا کہا لیکن چوں کہ اسے ایک لفظ بھی سمجھ نہیں آیا اس لیے اس نے برا نہیں منایا۔ وہ باس کے پیچھے چلتا ہوا اندر پہنچا۔ باس نے اسے گھر کے کپڑے اتار کر کام والے کپڑے پہننے کے لیے کہا، جو یورگس نے پرانے کپڑوں کی دکان سے خریدے تھے اور گٹھڑی کی شکل میں اٹھا رکھے تھے۔ پھر وہ اسے کلنگ بیڈز (killing-beds ) پر لے گیا۔ جو کام یورگس کے ذمہ لگا بہت آسان تھا جو اس نے چند منٹ میں سیکھ لیا۔ اسے ایک جھاڑو دیا گیا، جیسا کہ گلی کے چوہڑے استعمال کرتے ہیں۔ اس کا کام تھا کہ وہ جانور کے جسم سے نکالی گئی آنتوں کو سمیٹ کر ایک گڑھے میں ڈال کر اس کا مونھ بند کردے تاکہ کوئی پھسل کر اندر نہ جا پڑے۔ یورگس پہنچا تو صبح کے پہلے مویشی اندر آنا شروع ہوئے ہی تھے ا س لیے وہ بنا ادھر اُدھر دیکھے اور بات کیے کام میں جُٹ گیا۔ یہ جولائی کا انتہائی گرم دن تھا۔ فرش پر بھاپ اڑاتا لہو پھیلا ہوا تھا جس میں آدمی کو چھَپ چھَپ کرتے چلنا پڑتا تھا۔یہاں بدبو ناقابل ِ برداشت تھی لیکن یورگس کو اس کی پروا ہ نہیں تھی۔اس کی روح خوشی سے ناچ رہی تھی۔ بالآخر وہ کام پر لگ گیا تھا۔ وہ کام پر لگ گیا تھا اور پیسے کما رہا تھا۔سارا دن وہ دل ہی دل میں حساب لگاتا رہا۔ اس کی مزدوری فی گھنٹا ساڑھے سترہ سینٹ کی خطیر رقم تھی۔ یہ خا صا مصروف دن تھا اور جب شام7بجے وہ کام ختم کر کے گھر پہنچا تو اس کی ایک دن کی کمائی ڈیڑھ ڈالر سے زیادہ تھی۔

گھر پر مزید خوش خبریاں اس کی منتظر تھیں اور جشن کا سا سماں تھا۔ شویلاس کی توسط سے یونس ایک پولیس مین سے ملا تھا جس نے اسے کئی افسروں سے ملوایا تھا۔ ان میں سے ایک نے اسے اگلے ہفتے کے شروع میں کام دینے کا وعدہ کر لیا تھا۔ماریا نے جب دیکھا کہ یورگس کو کام مل گیا ہے تو اسے شدید حسد کا احساس ہوا۔ وہ بھی اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے صبح صبح کام کی تلاش میں نکل گئی۔ اس کے پاس دو ہاتھ اور زبان پر ایک لفظ تھا ” کام “ جو اس نے بڑی مشکل سے سیکھا تھا۔ انہی دو ہتھیاروں کے ساتھ وہ دن بھر پیکنگ ٹاو¿ن میں گھومتی رہی اور ہر اس دروازے پر قسمت آزمائی جہاں اسے کام ملنے کا امکان نظر آیا۔ اکثر جگہ اسے گالیاں سننا پڑیں لیکن وہ آدمی تو کیا شیطان سے بھی نہیں ڈرتی تھی چناں چہ بغیر مایوس یا خوف زدہ ہوئے ہر جگہ سوال کرتی رہی۔ اس نے کوئی سیر بین، اجنبی یا اپنے جیسا مزدور نہیں چھوڑا۔ ایک دو بار اس نے بڑے افسروں سے بھی کام کا پوچھ لیا جس پر انھوں نے اسے حیرت اور حقارت سے دیکھا۔ آخر اسے اس ساری محنت کا پھل مل ہی گیا۔ ایک چھوٹے سے پلانٹ کے ایک کمرے میں اس نے بہت سی عورتوں اور لڑکیوں کو لمبی میزوں پر بیٹھے سموکڈ بیف ڈبوں میں بند کرتے دیکھا۔ کمرا در کمرا گھومتے گھومتے بالآخر وہ اس کمرے میں پہنچ گئی جہاںسر بہ مہر ڈبوں کو رنگ کر کے ان پر لیبل لگائے جاتے تھے۔ یہیں خوش قسمتی سے اس کی ملاقات فور لیڈی (forelady )سے ہوگئی۔ماریا کو اس وقت تو سمجھ نہیں آئی، اور یہ سمجھ اسے بہت بعد میں آنی تھی، کہ اس کے معصوم سے چہرے اور گھوڑے کی طرح مضبوط جسم میں فورلیڈی کو کیا خوبی نظر آئی تھی، لیکن اس عورت نے ماریا کو اگلے دن کام پر آنے اور اسے ڈبوں پر رنگ کرنے کا طریقہ سیکھنے کا موقع دینے کا وعدہ کیا۔ ڈبوں پر رنگ کرنے کے لیے مہارت درکار تھی اور آدمی ایک دن میں دو ڈالر تک کما سکتا تھا۔ماریا نے گھر پہنچ کر خوشی سے چیخیں ماریں اور وہ دھما چوکڑی مچائی کہ بچہ ڈر کر رونے لگا۔( جاری ہے ) 

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

ادب وثقافت -