ایک ملک کے خلاف جارحیت دونوں کے خلاف تصور کی جائیگی، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی دفاعی معاہدہ
ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دارالحکومت ریاض میں باہمی تاریخی دفاعی معاہدہ ہوگیا۔سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پاکستان اور سعودی عرب کے مابین "سٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے" (SMDA) معاہدے پر دستخط کیے۔ یہ معاہدہ جو دونوں ممالک کی اپنی سلامتیکے اقدامات کو بڑھانے اور خطے اور دنیا میں سلامتی اور امن کے حصول کے لیے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے، اس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو فروغ دینا اور کسی بھی جارحیت کے خلاف مشترکہ دفاع اور تحفظ کو مضبوط بنانا ہے۔ معاہدے میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی ایک ملک کے خلاف کسی بھی جارحیت کو دونوں ملکوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان کی 8 دہائیوں پر محیط تاریخی شراکت داری ہے، دونوں ممالک میں مشترکہ اسٹریٹجک مفادات اور قریبی دفاعی تعاون کے تناظر میں معاہدہ ہوا، معا۔اعلامیے کے مطابق ولی عہد محمد بن سلمان نے ال یمامہ پیلس میں وزیر اعظم کا استقبال کیا اور دونوں ممالک کے وفود کی موجودگی میں مذاکرات کا باضابطہ اجلاس ہوا۔وزیر اعظم شہباز شریف نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز کیلیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور فریقین نے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی اور اسٹریٹجک تعلقات کا جائزہ لیا، فریقین نے دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ دلچسپی کے متعدد موضوعات کا جائزہ لیا۔اس سے قبل و زیراعظم شہباز شریف سہ ملکی دورے کے پہلے مرحلے میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی دعوت پر سرکاری دورے پر سعودی عرب پہنچے ،سعودی عرب کی فضائی حدود میں داخل ہونے پر وزیر اعظم شہباز شریف کا سعودی فضائیہ کی جانب سے شاندار انداز میں استقبال کیا گیا۔وزیر اعظم شہباز شریف کا طیارہ جیسے ہی سعو دی فضائی حدود میں داخل ہوا، سعودی ائیر فورس کے F-15 لڑاکا طیاروں نے ان کے جہاز کو اپنے حفاظتی حصار میں لے لیا اور پرتپاک خیر مقدم کیا۔وزیر اعظم نے اس خصوصی استقبال کے جواب میں سعودی لڑاکا طیاروں کو سلام پیش کیا اور طیارے کے کاک پٹ میں جا کر مائیک کے ذریعے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا شکریہ ادا کیا۔کنگ خالد ائیر پورٹ، پہنچنے پر ریاض کے نائب گورنر محمد بن عبد الرحمن بن عبد العزیز، پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی، پاکستان کے سعودی عرب میں سفیر احمد فاروق اور اعلی سفارتی حکام نے وزیراعظم اور پاکستانی وفد کا پرتپاک استقبال کیا. وزیرِ اعظم کی ریاض آمد پر پورے شہر میں سبز ہلالی پرچم لہرائے گئے. اس موقع پر وزیرِ اعظم کو 21 توپوں کی سلامی اور سعودی عرب کی افواج کے چاک و چوبند دستے نے سلامی پیش کی وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے سعودی ولی عہد و وزیرِ اعظم شہزادہ محمد بن سلمان سے سعودی شاہی دیوان، قصر یمامہ میں ملاقات کی، ملاقات کے موقع پر آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار،وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور دیگر وفاقی وزیر بھی ان کے ہمراہ تھے شاہی دیوان پہنچنے پر وزیرِ اعظم کا سعودی شاہی پروٹوکول کے ساتھ گھڑ سواروں نے استقبال کیا. شاہی دیوان پہنچنے پر سعودی ولی عہد و وزیرِ اعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے وزیرِ اعظم کا استقبال کیا. وزیرِ اعظم کو سعودی مسلح افواج کے دستوں نے گارڈ آف آنر پیش کیا گیا. وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے مابین دو طرفہ ملاقات ہوئی. ملاقات میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر چیف آف آرمی اسٹاف، وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف، وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب، وزیرِ موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک اور معاون خصوصی سید طارق فاطمی بھی شریک تھیملاقات میں دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے، اقتصادی تعاون کو فروغ دینے، اور دفاعی تعلقات میں اضافے پر بات چیت کی۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کے ساتھ اپنے تاریخی تعلقات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب ہمیشہ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔پاکستان اور سعودی عرب کے مابین تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں اور اس ملاقات کے بعد ان تعلقات میں مزید بہتری کی امید کی جا رہی ہے۔ اس موقع پر وزیرِ اعظم شہباز شریف نے سعودی قیادت کا شکریہ ادا کیا اور دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔دورے میں سعودی ولی عہد نے پاکستان کی اقتصادی صورتحال اور اس کے ترقیاتی منصوبوں میں سعودی عرب کی مکمل حمایت کا یقین دلایا
تاریخی دفاعی معاہدہ
