آرٹیکل 63,62کا فائدہ کس کو ہوا؟

آرٹیکل 63,62کا فائدہ کس کو ہوا؟
آرٹیکل 63,62کا فائدہ کس کو ہوا؟

  

سب سے کامیاب حکمت عملی یہی ہوتی ہے کہ بندہ اپنے دشمن کو اپنا ہتھیار بنا کر خود کو محفوظ کرلے۔ہمارے سیاستدانوں نے اس حکمت عملی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انتخابات میں نااہل ہونے کی وجہ آئین کے آرٹیکل 62,63کو ہتھیار بنا کر اپنے آپ کو محفوظ کرلیا۔پچھلی جمہوری حکومت،جس کی کارکردگی اتنی اچھی نہیں رہی تھی اور وفاقی و صوبائی حکومتی ممبران کے کرپشن،ٹیکس چوری، بنکوں سے قرض معافی، جعلی ڈگری، ترقیاتی فنڈز کا غبن اور اقربا پروری جیسے سکینڈلوں کی ایک لمبی لائن لگ گئی۔سابقہ جمہوری دور میں کرپشن،ناقص طرز حکمرانی، لوڈشیڈنگ، دہشت گردی، مہنگائی اور کئی داخلی و خارجی مسائل میں اضافہ ہوا تو پارلیمنٹ سے باہر بیٹھی جماعتوں کی شدید تنقید کی آوازیں، تبدیلی کا سونامی، سیاست نہیں ریاست کے نام پر لانگ مارچ اور میڈیا کی دن رات چیخ و پکار کے بعد بظاہر ایسا لگ رہا تھا کہ شائد اس بار انتخابات میں اٹھارہویں ترمیم سے جنم لینے والا ”آزاد“ الیکشن کمیشن نااہل لوگوں کو وقعی نااہل قرار دے گا، لیکن اقتدار کے ایوانوں کے کھلاڑی اتنی جلدی کیسے ہار مان لیتے؟

 اسمبلیوں کے اجلاس میں بیٹھ کر اپنی نیند پوری کرنے کے عادی ممبران،پورے پانچ سال میں ایک لفظ تک نہ بول سکنے والے خواب غفلت سے بیدار ہوئے اور آئین کے آرٹیکل 62اور63کے خلاف بولتے بولتے گلے خشک ہو جاتے تو ایک ہی سانس میں مندرجہ بالا قانون کو آمر کا قانون بتا کر قوم پر ایک احسان عظیم کرتے ۔الیکشن کمیشن، جسے تاریخ کا مضبوط اور غیر جانبدار قرار دیا جارہا تھا، وہ ایک مرتبہ پھر کرپٹ، نااہل لوگوں کو انتخابات لڑنے کا راستہ روکنے میں واقعی کا کمزور ترین الیکشن کمیشن ثابت ہوا۔کاغذات نامزدگی اور ان کی جانچ پڑتال کے درمیان ایسا لگ رہا تھا کہ شائد کچھ بڑے بڑے نام کرپشن ، بنک نادہندگی اور ٹیکسوں کی عدم ادائیگی کی وجہ سے انتخابات نہ لڑ سکیں، لیکن یہ سب باتیں محض ایک دیوانے کا خواب ثابت ہوئیں اور”سب“ لوگوں کو الیکشن لڑنے کی کھلی چھٹی محض اس ڈر کی وجہ سے مل گئی ،کیونکہ اگر وہ الیکشن نہ لڑسکے تو شائد الیکشن ہی نہ ہو پائیں۔اگر کسی جگہ کسی ریٹرننگ آفیسر نے کسی امیدوار سے نماز روزے یا بیوی بچوں کا پوچھ لیا تو قیامت کھڑی ہوگئی اور ریٹرننگ آفیسرز کے خلاف زہر اگلتے ہوئے انہیں جاہل تک قرار دیا گیا۔ سب کو علم تھا کہ ریٹرننگ آفیسر کوئی شیدا میدا نہیں، بلکہ ڈسٹرکٹ سیشن یا ڈسٹرکٹ ایڈیشنل سیشن جج بطور اضافی ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے اور ڈسٹرکٹ سیشن جج کی تعلیم ، معیار، سوچ اور ویژن کیا ہے؟ یہ تو ایک ”عام آدمی“ بھی اچھی طرح جانتاہے۔

آرٹیکل 62اور63کے خلاف اتنا پروپیگنڈا صرف اس لئے کیا گیا،تاکہ ریٹرننگ آفیسرز نااہلی کے باقی مجوزہ قوانین بھی بھول جائیں اور ہمیں ”کلین چٹ“ مل جائے(جو انہیں مل بھی چکی ہے)۔ماناکہ آرٹیکل 62اور63تو آمر کا بنایا ہوا قانون تھا، تو کیا عوامی نمائندگی کا قانون جو 1976ءمیں بنایا گیا تھا، وہ بھی ایک آمر کا بنایا ہوا قانون تھا۔اگر آپ عوامی نمائندگی کے قانون کا آرٹیکل 78کو پڑھ کر دیکھیں، جس میں Corrupt Practiceکے بارے میں ہے اور اس میں بڑی تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ کون سا شخص Corrupt Practice کے زمرے میں آتا ہے اور کون کون سے عمل Corrupt Practice کہلاتے ہیں؟اگر غیر جانبداری اور قانون و انصاف کی روح پر عمل کیا جاتا تو آج ہمارے سابقہ اسمبلی ممبران کی اکثریت اس قانون کی زد میں آ جاتی اور شائد ان کی جگہ کسی نئے چہرے کو موقع مل جاتا تو حالات میں تبدیلی نہ سہی،بہتری کی امید ضرور کی جا سکتی تھی۔اسی قانون کے آرٹیکل 82جس میں Corrupt Practice کی سزا تین سال کی قید یا پانچ ہزار کا جرمانہ تجویز کی گئی ہے، اسی عوامی نمائندگی کا قانون کا آرٹیکل 99اور 100جو ممبران اسمبلی کی اہلیت اور نااہلیت کے بارے میں ہے، ان دو آرٹیکلز میں ایسی کون سی بات ہے جو آئین کے 62اور63سے مختلف ہو۔اگر دیکھا جائے تو عوامی نمائندگی کا قانون اسمبلی کے لئے بننے والے ممبر کی اہلیت کے بارے میں زیادہ سخت ہے۔

اگر آپ کو آرٹیکل62اور63کے بارے میں تحفظات ہیں تو آپ کا عوامی نمائندگی کے قانون 1976ءکے آرٹیکل 99اور100کے بارے میں کیا خیال ہے۔62اور63کے رقیبوں سے سوال ہے کہ اگر آپ نے آئین کے آرٹیکل 62اور63کو ختم کرنا ہے تو عوامی نمائندگی کے قانون کے آرٹیکل ٓ78،82،99اور100کو بھی ختم کردینا چاہیے، نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری.... آٹھ نو سالہ آمریت کے دورکے بعد جو مشکلات اور مسائل میں پانچ سالہ تاریک جمہوری دور میں اضافہ ہو، وہ ایک الگ غم کی داستان ہے۔کوئی ہے جو ان جمہوریت کے دیوتاﺅں سے سوال پوچھے کہ آپ جمہوریت کو مضبوط کرنے کے دعوے تو کرتے ہیں، لیکن جمہوریت کو عوام میں مقبول کیوں نہیں کروا سکے؟ ایک تازہ سروے کے مطابق پاکستانی عوام کا 25فیصد سے بھی کم جمہوریت کوپسند کرتا ہے۔اس کے بارے میں ایک مرتبہ پھر وہی لوگ جن کی کرپشن کی داستانیں عام ہیں، جن کی ڈگریاں جعلی ہیں، جو ٹیکس جمع کرانا تو دور کی بات،ٹیکس کا نمبر لینا بھی ضروری نہیں سمجھتے، جن کو نظریہ پاکستان کا نام سن کر بخار ہو جاتا ہے، انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں تو ہم کیسے مان لیں کہ اس بار الیکشن میں بدمعاشی اور دھونس دھاندلی نہیں ہوگی اور الیکشن ”شفاف“ ہوں گے۔قصہ مختصر ایک کامیاب حکمت عملی اور ہمیشہ کی طرح گٹھ جوڑ کرکے ہمارے سیاستدانوں نے آرٹیکل 63، 62کا مذاق اڑا کر خوب فائدہ اٹھایاہے۔یہ کہنے میں اب بھی کوئی حرج نہیں کہ پاکستان میں شفاف الیکشن، شفاف جمہوریت اور شفاف حکومت ہنوز خواب ہیں۔ ٭

مزید :

کالم -