کچہ کی دنیا اور جرم کی جڑ

کچہ کی دنیا اور جرم کی جڑ
کچہ کی دنیا اور جرم کی جڑ

  

سیلابی سیزن میں جو سرزمین دو تین ماہ تک زیر آب رہتی ہے اسے مقامی زبان میں’’ گچھ،، کہا جاتا ہے کہتے ہیں کہ کچہ کی ہر چیز کچی ہوتی ہے سوائے زبان سے کیے ہوئے وعدے کے ۔وہ درخت جو صرف ایک موسم تک گرم ہواؤں میں لہراتے ہیں موسم سرما آنے سے قبل ہی انہیں کاٹ کر سوکھنے کے لئے رکھا جاتا ہے اور سرد ہواؤں والے دو چار ماہ ان درختوں کی لکڑیوں کے سہارے کاٹے جاتے ہیں ۔ وہاں کے چرواہے شام کو واپس لوٹتے ہوئے کچے کے چھوٹے چھوٹے تالابوں میں تیرتی ہوئی چھوٹی چھوٹی مچھلیاں ہاتھوں سے پکڑ کر ان درختوں کی نرم شاخوں میں پرو کر لاتے ہیں ۔ وہ بہت خوبصورت منظر ہوتا ہے جب پورا دن کچہ میں تازہ گھاس کھانے اور تالابوں میں نہانے کے بعد بھینسوں کے قافلے کسانوں کے گھروں کی طرف واپس لوٹتے ہیں تب ان بھینسوں کے گلوں میں بندھی ہوئی گھنٹیاں عجیب سر کے ساتھ بجتی ہیں اور ان کے پیروں سے اٹھتی ہوئی مٹی شام کے شفق میں ایک حسین غبار کی صورت اختیار کرتی ہے ۔

اس وقت ان گھروں میں چولہے جلتے ہیں جو کچہ میں ہونے کی وجہ سے کچے ہوتے ہیں ،مگر گھاس پھوس کے تنکوں سے بنے ہوئے ان گھروں میں رہنے والے لوگ بہت مضبوط ہوا کرتے ہیں ان کی اپنی مخصوص زندگی اور اس زندگی کی مخصوص روش ہوتی ہے ۔وہ زیادہ دولت اور طاقت کے لالچ میں مبتلا لوگ نہیں۔ ان کو بھی معلوم ہے کہ شہروں میں لوہے اور سیمنٹ سے بنے ہوئے پکے مکانات ہوتے ہیں اور لوگ سواری کے لئے پٹرول اور ڈیزل پر چلنے والی مضبوط گاڑیاں استعمال کرتے ہیں ۔ وہاں بجلی کی روشنی رات پر بھی دن کا گمان پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہے ، مگر آج تک کچہ میں رہنے والے لوگ اپنے ماحول سے محبت کرتے ہیں ۔ انہیں کچہ کی کچی چیزیں اچھی لگتی ہیں ۔ وہ زمین جس پر سیلابی پانی سوکھ کر اسے نرم بنادیتا ہے ۔ نامعلوم کہاں سے آئے ہوئے کون کون سے بیج اس مٹی میں پھوٹتے ہیں اور پورا ماحول نازک پودوں اور ان خوبصورت بیلوں سے بھر جاتا ہے جن میں وہ پھول لہراتے ہیں جن کو کچہ کے لوگ کوئی مخصوص نام دینے کے بجائے صرف اس حوالے سے یا د کرتے ہیں کہ یہ مسافر پھول ہیں ،جبکہ سیلابی پانی اتر جانے کے بعد کچہ کے روایتی درخت اور پھول اس قدر پیدا ہو جاتے ہیں کہ انہیں مقامی شاعر اپنے گیتوں میں سجا سجا کر گاتے ہیں۔

یہ باتیں اس دور کی ہیں جب جرم کچہ میں حکمرانی نہیں کرتا تھا اور ویسے بھی پنجاب اور خاص طورپر سندھ کا کچہ اپنے پرانے کلچر سے پیوست رہتا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نام نہاد کچہ کے دیہاتوں میں جاگیرداروں اور پولیس کے اتحاد سے پیدا ہونے والے ظلم اور زیادتیوں کے باعث جب کوئی کسان بغاوت کرکے کچے میں اتر جاتا ہے تب وہ کچہ والوں سے نہیں لڑتا وہ وہاں کی روایتوں کا احترام کرتا ہے ۔ وہ جرم بھی کرتا ہے تو پکے میں !کچہ میں آنے کے بعد اس کا انداز وہاں کے مقامی لوگوں جیسا ہوتا ہے ۔ اس وقت تو ڈاکوؤں کا بڑا گڑھ راجن پور میں ہے، مگر جب سندھ کا پورا کچہ ڈاکو راج کے حوالے سے مشہور تھا تب بھی جدید ترین اسلحہ سے لیس ڈاکو کھانے پینے کی ہر چیز مقامی دکانداروں سے خرید کر استعمال کرتے تھے وہ سب کچھ دیہاتی دستور کا حصہ ہے ۔ وہ دستور جو کاغذ پر در ج نہیں ہے جس کو بیان کرنے کے لئے وکلاء عدالت نہیں آتے ۔ جس کے حوالے سے ٹاک شوز میں مباحثے نہیں ہوتے ۔ وہ زبانی دستور ہے جو صدیوں سے سینہ بہ سینہ سفر کر رہا ہے ۔ لوگ آج بھی اس دستور کو قدر کی نظر سے دیکھتے ہیں جس کے بارے میں وہ نہیں جانتے کہ یہ کس نے بنایا اور کب بنایا ؟مگر ان لوگوں کے لئے یہ بات کافی ہے کہ مذکورہ زبانی دستور جو روایتوں کی صورت میں انہیں ملا ہے وہ اصل میں ان کے آباؤ اجدا د کی امانت ہے وہ امانت جس میں خیانت کیے بغیر ان لوگوں کو اپنی نئی نسل کے حوالے کرنی ہے اور ان کی وہ نسل پابند ہے کہ وہ اس کو آگے بڑھاتی رہے ۔

یہ روایت پکی ہے اس کچہ میں جہاں بہت ساری اقسام کے پھل نہیں ہوتے، مگر اس کے باوجود جو بھی مقامی پھل ہوتے ہیں ان کا ذائقہ بہت الگ اور عمدہ ہوتا ہے ۔ اگر آ پ پکے پر رہنے والے کسی شخص کو بیر کھانے کو دیں تو وہ بیر منہ میں رکھتے ہی آ پ کو بتا دے گا کہ یہ بیر کچہ کے ہیں ۔اگر آپ اس سے پوچھیں کہ تم کو کس طرح معلو م ہو ا کہ یہ بیر کچہ کے ہیں ؟ تب وہ آپ سے ہنستے ہوئے کہے گا کہ میرے بھائی کچہ کی خوشبو ہی الگ ہوا کرتی ہے۔ وہ خوشبو جو صرف بیر کے درخت تک محدود نہیں بلکہ ببول کے درخت میں جو چھتہ ہوا کرتا ہے اس کے سائز اور اس سے حاصل ہونے والے شہد کا ذائقہ بھی ناقابل فراموش ہوا کرتا ہے وہ جنگل جو ہر سال آنے والے سیلا ب کے باعث بہت گھنے ہو جاتے ہیں ان میں پرندوں کا چہچہانا کس قدر موسیقی سے بھرا ہوتا ہے اور ان درختوں کے نیچے وہ نرم دھرتی جو دھوپ سے بچی رہنے کے باعث بہت عرصے تک نم رہتی ہے ۔ اس پر پرندوں کے پیروں کے نشان پتا دیتے ہیں کہ یہاں پر کون سے پرندوں کے آشیانے ہیں ۔

دریا کے کنارے آباد جنگل میں بسی ہوئی اس دنیا میں صر ف کھیتی باڑی نہیں ہوتی ۔ وہاں کے لوگ نسل در نسل رشتے بھی نبھاتے ہیں اور محبت کے صرف گیت نہیں گاتے بلکہ پیار کے خطرناک مراحل کو مسکراتے ہوئے عبور بھی کرتے ہیں ۔ کچہ کے دیہاتوں کا اپنا الگ نیٹ ورک ہوتا ہے ۔ جب شادیاں ہوتی ہیں تب جنگل میں منگل والا منظر قابل دید ہوا کرتا ہے ۔ سیلاب کے بعد جب پانی اترنے لگتا ہے تب کچے کی سرزمین کی طرح کچے کے باسیوں کے چہرے خوشی سے کھِل اٹھتے ہیں ۔ وہ خوشحالی کا موسم ہو ا کرتا ہے جب کچہ کی فصلیں کٹتی ہیں پورا کچا اناج کی خوشبو سے بھر جاتا ہے اس وقت نئے رشتے طے ہوتے ہیں کچہ میں گلیاں نہیں ہوتیں ۔ اس لئے کشادہ رشتے گیتوں سے گونجتے ہیں عورتوں کے قافلے نو عمر لڑکوں کے ساتھ بیل گاڑیوں میں آتے ہیں اور سنجیدہ اور کم گو مرد شادی کی محفلوں میں رات دیر سے دریا کی لہروں پر تیرتے آتے ہیں ۔ رات کو کھانے کے بعد مقامی موسیقی کی محفل ہوتی ہے ۔کوئی ڈھولک بجاتا ہے کوئی رباب اور کوئی وہ بین جس پر محبت کے ملن اور جدائی کی قدیم کہانیاں گائی جاتی ہیں ۔ یہ سلسلہ صدیوں سے چلا آرہا ہے، مگر بڑھتی ہوئی آبادی اور کم ہوتے ہوئے پانی کی وجہ سے اب پکا دن بدن سکڑتا جارہا ہے اب اس کا سائز پہلے جتنا نہیں رہا ۔ اور یہ بھی حقیقت ہے جو کچہ ہر قسم کے جرم سے پاک تھا وہ کافی عرصے سے مجرموں کے لئے محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے ۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں جب میڈیا میں سندھ کے حوالے سے ڈاکو راج کے ڈھول بجتے تھے اس وقت بھی یہ بات کبھی رپورٹ نہیں ہوئی کہ ڈاکوؤں نے کچہ میں بسنے والے کسی قبیلے کو ستایا ہو اور یہ بات بھی ذہن نشین کرنی چاہیے کہ کچہ کے ڈاکو یہ سب کچھ اس لئے نہیں کرتے کہ وہ اصل میں بہت اچھے انسان ہیں ۔ اگر اچھے انسان ہوتے تووہ ڈاکو کیوں بنتے ؟۔۔۔مگر وہ ڈاکو جانتے ہیں کہ اگر انہوں نے کچہ میں بسنے والے لوگوں کو ستا یا تو پھر ان کے لئے کچا محفوظ پناہ گا ہ نہیں رہے گا ، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ان ڈاکوؤں کی وجہ سے کچہ میں بسنے والے پر امن اور ہر طرح کے جرائم سے بہت دور بسنے والے لوگ اس وقت مشکل صورت حال میں پھنس جاتے ہیں جب قانون نافذ کرنے والے ادارے ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن کرتے ہیں تو اس وقت جنگل کو جلاتے ہیں تو درختوں کے ساتھ اور بھی بہت کچھ جل جاتا ہے ۔

اس وقت جس طرح صبح سندھ کے کشموری کنارے اور کوہ سلیمان کے سائے میں بلوچستان کے ڈیرہ بگٹی اور پنجاب کے مظفرگڑھ ، اور رحیم یار خان کے کچہ ،راجن پور میں چھوٹو گینگ کے خلاف پولیس ایکشن کے بعد اب آرمی آپریشن جاری ہے۔ ایسے آپریشن شجاع آبا د میں بھی ہو چکے ہیں ۔ سابق ریجنل آفیسر ملتان محمد امین وینس نے ہمیں بتایا تھا کہ جس طرح کچہ کے آپریشن کے دوران ایک زخمی ڈاکو اس کے پیروں پر گر کر اپنی زندگی کی بھیک مانگنے میں کامیاب ہوگیا اور پھر ڈاکو نے کس طرح ایک بہت بڑے سیاسی جرم میں معصوم انسانوں کا قتل عام کیا یہ ساری باتیں اور ان سے بھی کچھ زیادہ جانتے ہیں وہ کچہ والے لوگ جو اب تک موبائل فون سے کافی حد تک محفوظ ہیں، مگر ان کے بچے پھر بھی پکے کے کناروں یا بلند درختوں پر چڑھ کر اپنے دوستوں سے مس کال مس کال کھیلتے ہیں ۔ ڈاکو ضلع دارو کے کچہ والے علاقے سونا بنڈی سے تعلق رکھتے ہیں یا پنجاب کے راجن پور ، مظفرگڑھ ، شجاع آباد ، جلال پور پیروالہ کے کچہ میں ہے ۔ وہ سب ایک جیسے ہیں ۔ ان کا آپس میں تعلق بھی رہتا ہے اور وہ صرف مغویوں کا بیوپار نہیں کرتے بلکہ آپریشن کے دوران ایک دوسرے کی مدد بھی کرتے ہیں اور ان کے قریب سے جاننے والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ صرف سفا ک نہیں بلکہ بہت سیانے بھی ہوتے ہیں ۔ انہیں معلو م ہے کہ وہ پولیس کے ساتھ مقابلہ کر سکتے ہیں، مگر فوج کے ساتھ نہیں اور جب اپنے مخصوص نیٹ ورک کی معرفت انہیں معلو م ہو جاتا ہے کہ اس بار ریاست کا موڈ سنجیدہ ہے تو وہ فلمی ڈاکوؤں کی طرح اوئے افسر ۔۔۔ٹائپ کے ڈائیلاگ کرنے کی بجائے کچہ سے نکلنے کے راستے اختیار کرتے ہیں انہیں اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ کچہ محفوظ راستوں کا مجموعہ بھی ہے اور ڈاکوجو اپنے آپ کو کچہ کے شیر کہتے ہیں جو کچے میں عام طورپر لمبی قمیضوں اور کشادہ شلواروں والا لباس پہنتے ہیں وہ آپریشن کے دوران جان بچانے کے لئے جب شہروں میں آتے ہیں تب ان کی بڑی مونچھیں بھی چھوٹی ہو جاتی ہیں تو کبھی بالکل صاف ہوجاتی ہیں وہ اپنے سہولت کاروں کی پناہ گاہوں میں پر سکون انداز سے رہتے ہیں اور گھومنے پھرنے کے لئے پینٹ شرٹ بھی پہنتے ہیں اس لباس میں کسی شہری تفریح گاہ میں پاس پڑی ہوئی ٹیبل پر بیٹھے ہوئے شخص کے بارے میں کوئی شہری کس طرح سمجھ سکتا ہے کہ وہ سندھ یا پنجاب کے کچہ کا مفرور اور خطرناک ڈاکو ہے ۔۔۔اور ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے اس بات سے بخوبی آگاہ ہوتے ہیں کہ سندھ یا پنجاب کے ڈاکو بھلے کچہ میں بستے ہوں، مگر ان کی جڑ وہاں نہیں ۔ ان کی جڑ سیاست کی اس سرزمین میں پیوست ہوا کرتی ہے جو جرم سے توانائی حاصل کرتی ہے اس لئے جرم کا تحفظ اپنا اولین فرض سمجھتی ہے ۔

مزید :

کالم -