گندم کا مستقبل۔۔۔ لمحۂ فکریہ

گندم کا مستقبل۔۔۔ لمحۂ فکریہ
 گندم کا مستقبل۔۔۔ لمحۂ فکریہ

  



ایک اور برس بیت گیا۔ گندم کی کشش بطور فصل برقرار ہے، کیونکہ یہ پاکستان میں خوراک کا اہم ترین جزو ہے۔دُنیا بھر میں 70کروڑٹن تک گندم پیدا ہو رہی ہے، جس میں سے پاکستان2کروڑ50لاکھ ٹن گندم پیدا کرتا ہے، جبکہ بھارت کی مجموعی پیداوار سات سے آٹھ کروڑ ٹن ہوتی ہے۔ ہم گندم کے معاملے میں خود کفیل ہو چکے ہیں، مگر ہم پالیسی کے معاملے میں ’’قحط‘‘ کا شکار ہیں۔اٹھارویں ترمیم کے نقصانات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آج مُلک میں گندم کی کوئی قومی پالیسی نہیں، جبکہ یہ فصل تمام صوبوں میں کھائی جاتی ہے۔ وفاقی حکومت اور تمام صوبائی حکومتیں اِس اہم ایشوکو بھی سیاست کی نذر کر دیتے ہیں اور ووٹ لینے کی خاطر بعض ایسے فیصلے کر جاتے ہیں جن کا قومی معیشت پر انتہائی منفی اثر مرتب ہوتا ہے۔ دُنیا بھر میں گندم کی قیمتیں مقرر کرتے وقت عالمی مارکیٹ میں چلنے والے نرخوں کو سامنے رکھا جاتا ہے، مگر پیپلزپارٹی کے گزشتہ دور میں گندم کی امدادی قیمت625 روپے فی من سے بڑھا کر مرحلہ وار1200 روپے، یعنی ڈبل کر دی گئی اور یہ قطعاً نہیں دیکھا گیا کہ عالمی مارکیٹ کمزور ترین ہے۔ سیاسی نتیجہ تو یہ نکلا کہ پیپلزپارٹی کو کسانوں نے ووٹ نہیں دیئے۔ اس سے کیا نقصانات مرتب ہوئے اور کیا اہداف حاصل کئے گئے، ان کا جائزہ لیا جائے تو محسوس ہو گا کہ گندم کی خریداری کی حد تک تو معاملات پہلے ہی خراب تھے اور کسان کبھی خریداری کے طریقہ کار، محکمہ خوراک کے اہلکاروں کے ذریعے زبردستی اور وزن وغیرہ کے معاملات سے مطمئن نہ تھا، مگر دیکھنا یہ ہے کہ گندم خریداری کا ٹارگٹ مقرر کرتے وقت اور اس کے بعد کے معاملات کیا ہیں۔

موجودہ صورتِ حال میں تو دیکھ لیتے ہیں مُلک میں گزشتہ تین برسوں کی گندم کے پرانے ذخائر55سے 60لاکھ ٹن کی حد تک موجود ہیں اور وہ گندم بھی خرابی کی طرف سفر کر رہی ہے۔ اب اتنے بڑے سرمائے کی گندم اور اُس کی خرابی اور مسلسل تین سال تک ذخیرہ کرنے کے اخراجات سے جو اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے اور ہو رہا ہے۔ میاں محمد نواز شریف اور میاں شہباز شریف صاحبان نے اپنے پہلے ادوار میں بہترین پالیسی اپنائی اور پنجاب میں تو محکمہ خوراک کی خریداری مہم اور محکمہ خوراک کی خرابیوں کو کافی حد تک دور کیا گیا۔ فرگوسن کے ذریعے آڈٹ کی رسم ڈالی گئی، مگر اس بار پالیسی کے تانے بانے وفاق اور صوبوں میں ایسے ہاتھوں میں چلے گئے،جنہوں نے ملکی خزانہ کے ساتھ بہت بُرا سلوک کیا۔ صرف پنجاب میں26لاکھ ٹن گندم کی موجودگی آئندہ گندم خریداری کے لئے سوالیہ نشان ہے اور اس کی عدم نکاسی محکمہ کی کارکردگی کو نمایاں کر رہی ہے۔گزشتہ دو برسوں سے یہ کام جاری ہے کہ ایکسپورٹ کو مروجہ طریقہ کار کی بجائے انتہائی غیر مناسب منصوبہ سازی کی گئی جس میں پہلی بار ’’ری بیٹ‘‘ دینے کا فیصلہ کروایا گیا اور صرف اس بنیاد پر کہ فلور ملز کو گندم کا ایکسپورٹر بنا دیا جائے ہم ’’ری بیٹ‘‘ کے ذریعے عالمی مارکیٹ کا مقابلہ کریں گے اور ایسا مقابلہ کیا کہ پنجاب میں دو سال سے20سے27لاکھ ٹن گندم بچ رہی ہے جس کا کوئی پُرسانِ حال نہیں۔

بعض ایجنسیوں کے مطابق سستی گندم کو یہیں مارکیٹ میں فروخت کر کے جعلی برآمدی کاغذات بنوا کر ’’ری بیٹ‘‘ مانگ لیا جاتا ہے۔ ہو سکتا ہے20فیصد لوگ اس طرح نہ کر رہے ہوں، مگر جو مارکیٹوں کی صورتِ حال ہے اُس کے مطابق اس ہونے والی ایکسپورٹ کا مُلک کو اور صوبوں کو کوئی فائدہ نہیں،لیکن اس میں ملوث فریق بہت خوش ہیں اور لاکھوں روپے کے اشتہارات ’’ری بیٹ‘‘ کی مد میں دیئے جا رہے ہیں۔گویا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ حکومت گندم کے معاملات کو اور خاص طور پر اس کی نکاسی کے نظام کو معاشی اصولوں کی روشنی میں حل نہیں کر سکی اور مافیا کے چند لوگ جو تجاویز پیش کر دیتے ہیں اُن کو من و عن قبول کر لیا جاتا ہے۔ وفاقی حکومت میں فوڈ کے محکمے کے ہونے سے چاروں صوبوں کے مسائل زیر بحث آتے تھے ایسا سب کچھ نہیں ہوا اور جو حقائق ہیں اُن کو کبھی سامنے نہیں لایا جا رہا۔ کوئی بتائے کہ پاسکو کے پاس سٹاکس پڑے رہنے کا کیا جواز ہے۔ کیا وفاقی حکومت خود نقصان برداشت کر کے اسے ٹی سی پی کے ذریعے برآمد نہیں کر سکتی تھی۔یہ مُلک جعلی برآمدات اور اصلی درآمدات کی وجہ سے ہی خرابی کی طرف جاتا ہے۔ حکومت کے سب اقدامات معیشت کو بہتر بنا رہے ہیں، مگر اس شعبہ گندم کو کیوں ’’مافیا‘‘ کے حوالے کر دیا گیا ہے جو ڈبل چُوری کھا اور کھلا رہے ہیں اللہ کی دی ہوئی نعمت کا غلط استعمال کر رہے ہیں ہر قوم کے پاس یہ نعمت ہوتی ہے، مگر وہ اپنی متوازن پالیسیوں کے ذریعے اِس نظام کو چلاتے ہیں۔ لمحۂ فکریہ یہ ہے کہ گندم کی پالیسی کہاں ہے اور اسے لاگو کرنے والے کون ہیں یہ ہے آج کا لمحہۂ فکریہ۔

مزید : کالم