حقیقی خادم اعلٰی تو یہ ہیں

حقیقی خادم اعلٰی تو یہ ہیں
حقیقی خادم اعلٰی تو یہ ہیں

  



صوبہ خیبر پختونخواہ میں مئی 2015میں لوکل باڈی الیکشن منعقد ہوئے ۔84420امید واروں نے 41762سیٹوں کیلئے الیکشن لڑا۔پی ٹی آئی واضح اکثریت سے کامیاب ہوئی اور دنیا کے تر قی پذیر ملک کے پسماندہ صوبے میں د نیا کا بہترین بلدیاتی نظام قائم کر دیا گیا۔اس کے بر عکس پاکستان کے سب سے ترقی یافتہ صوبہ پنجاب کا لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013اور 2015میں کرائے گئے لوکل باڈی الیکشن کسی بھی طرح جمہوری نظام کا حصہ نہیں ہیں ۔ پنجاب کے لوکل باڈی نظام نے جہاں کرپشن کو فروغ دیا ہے وہاں کے پی کے میں ڈسٹرکٹ گورنمنٹ نظام نے کرپشن کے خلاف احتساب کا نظام قائم کیا ہے۔اسی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ نظام کی بدولت آج کے پی کے میں ادارے فرد کی بجائے سسٹم کے ماتحت کام کر رہے ہیں اور حکومت کے ہر معاملے میں شفافیت واضح ہے ۔آپ کے پی کے میں ادویات کی خریداری کی مثال ہی لے لیجئے۔ پنجاب فارما سسٹ ایسوسی ایشن نے رپورٹ دی ہے کہ پنجاب اور کے پی کے میں ایک ہی کمپنی سے ایک ہی قسم کی ادویات کی خریداری میں قیمتوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔کے پی کے حکومت نے DICLOFENAC SODIUMنامی پین کلر 0.31روپے فی گولی کے حساب سے خریدی جبکہ پنجاب حکومت نے اسی کمپنی سے وہی گولی 3.94روپے فی گولی کے حساب سے خریدی ۔اس کے علاوہ ہیپا ٹائٹس سی کی دوائی SOFOSVUVIR کے پی کے حکومت نے جس کمپنی سے صرف 49روپے فی گولی کے حساب سے خریدی پنجاب حکومت نے یہی گولی اسی کمپنی سے 54روپے فی گولی کے حساب سے خریدی۔اسی ڈسٹرکٹ نظام کی بدولت PILDATسروے نے کے پی کے حکومت کی گورننس کو پاکستان کے تمام صوبوں کی نسبت بہتر قرار دیا ہے ۔کے پی کے حکومت نے 28میں سے 18پوائنٹس حاصل کیے ۔پنجاب حکومت نے 28میں سے 8پوائنٹ اور سندھ اور بلوچستان نے 28میں سے 2,2پوائنٹ حاصل کیے ہیں ۔

آپ ترقیاتی کاموں کی مثال بھی لے لیجئے ۔ شہباز شریف صاحب یہ تا ثر دے رہے ہیں کہ جو کام بلدیاتی نمائندوں نے کروانے تھے ،وزیر اعلی صاحب وہ سارے کام خود ہی کروا رہے ہیں ۔تو پھر جب کہ ترقیاتی کام ہو رہے ہیں تو نچلی سطح پر نمائندوں کو فنڈز اور اختیارات دینے کی کیا ضرورت ہے ؟دراصل یہ تاثر بالکل غلط ہے ۔پورے پنجاب میں کوئی ترقیاتی کام نہیں ہو رہے ۔ترقیاتی کام صرف لاہور میں ہو رہے ہیں اور وہ بھی جس قیمت پر ہو رہے ہیں وہ کرپشن اور بدیانتی کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔اورنج لائن منصوبے کے تحت دو لاکھ ستر ہزار لوگوں کو سفری سہولیات مہیا کرنے کیلئے دوسو ارب روپے خرچ کیے جا رہے ہیں جو کہ قرض کی صورت میں چائنہ سے لیے گئے ہیں اور یہ پروجیکٹ 17ارب روپے کی سبسڈی کے بغیر چل ہی نہیں سکتا ۔جبکہ دوسری طرف کے پی کے میں مضبوط لوکل ڈسٹرکٹ گورنمنٹ نظام کی بدولت لوگوں کے بنیادی مسائل حل کرنے پر کام ہو رہا ہے اور یہ کام صرف پشاور میں ہی نہیں بلکہ برابری کی سطح پر پورے کے پی کے میں ہو رہا ہے۔

کے پی کے حکومت نے سوات موٹر وے کا پروجیکٹ اپنی مدد آپ کے تحت مکمل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے لیے وہ کوئی قرض بھی نہیں لے رہے بلکہ 5سے 10سال کے عرصہ میں یہ منصوبہ منافع بخش پروجیکٹ میں تبدیل ہو جائے گا۔ کے پی کے میں اس جمہوری نظام کا قیام عمران خان کی نیک نیتی ، پرویز خٹک کی محنت اور سیالکوٹ کے سابق ضلعی ناظم ،سیالکوٹ چیمبر آف کامرس کے سابق صدر اور پی ٹی آئی سینٹر ل پنجاب کے سابق وا ئس پریزیڈنٹ میاں نعیم جاوید صاحب کی بلدیاتی نظام کے حوالے سے عمران خان کو دی گئی تجاویز کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ عمران خان نے میاں نعیم جاوید کی دی گئی تجاویز کو ان کی اصل شکل اور روح کے ساتھ کے پی کے میں نافذکروایا ا ور آج پوری دنیا اس نظام کو سرا رہی ہے۔ میں ان تجاویز کے کچھ نکات وزیراعلٰی پنجاب میاں شہباز شریف کے سامنے رکھ رہا ہوں ۔ مجھے یقین ہے کہ یہ تجاویز صوبہ پنجاب کے لیے بھی اسی طرح سودمند ثابت ہوں گی جس طرح خیبر پختونخواہ کے لیے فائدہ مند ثابت ہوئی ہیں۔ آپ سب سے پہلے پنجاب کے غیر جمہوری لو کل گو رنمنٹ ایکٹ 2013 کو کالعدم قرار دیں اور اس کی جگہ لوکل گورنمنٹ آرڈینینس 2001 کو نافذ العمل کریں۔ آپ آج ہی لوکل نمائندوں کو مکمل اختیارات دینے اور عوامی مسائل کے حل کیلئے کمیٹیاں تشکیل دے دیں ۔ان میں سب سے پہلے ڈسٹرکٹ پبلک سیفٹی کمیٹی بنائی جائے جو کہ سرکاری افسروں ،ڈسٹرکٹ پولیس افسروں ،کو آرڈینٹر افسروں یہاں تک کہ تحصیل اور ضلعی ناظمین کے خلاف شکایات سنے اور ان شکایات پر رپورٹ بنا کر صو بائی سیفٹی کمیشن کو بھجوائے جو کہ ایک ہفتے کے اندر اندر کیس کو نمٹانے کا پابند ہو ۔ آپ صوبائی فنانس کمیشن کی رہنمائی میں ڈسٹرکٹ فنانس کمیشن بنا ئیں تا کہ فنڈز نچلی سطح تک عوام کی فلاح پرخرچ ہو سکیں ۔ڈسٹرکٹ احتساب کمیشن کا قیام عمل میں لایا جائے جو کہ ضلعی سطح پر گورنمنٹ افسروں سے متعلق شکایات سنے اور فوراََ اس کا فیصلہ سنائے ۔ہر ضلعے کی پبلک اکاؤنٹس اور آڈٹ کمیٹی بنائی جائے جو کہ ڈسٹرکٹ فنڈز کی رپورٹ ہر ماہ جاری کرے ۔مصالحت انجمن قائم کی جائے جوکہ نچلی سطح پر انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائے گی اور پولیس اور عدالتوں پر کام کا بوجھ بھی کم ہو جائیگا۔ڈسٹرکٹ مارکیٹ کمیٹیاں قائم کی جائیں جو کہ عوامی اور فوڈ مارکیٹ کے نمائندوں پر مشتمل ہو ں اور یہ سبزی ،گوشت دالوں اور دیگر اشیاء خرو نوش کی کوالٹی اور قیمتوں کو لوکل گورنمنٹ کی ہدایت کے مطابق چیک کرنے کی پابند ہوں ۔ اس کے علاوہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ اور ماحولیاتی کمیٹی ،ایجوکیشن کمیٹی ،ڈسٹرکٹ سپورٹس کمیٹی ،ٹورزم ،کلچرل اور سول ڈ یفنس کمیٹیا ں بھی قائم کی جائیں اور سب سے بڑھ کر وزیراعلی کے کسی بھی بلدیاتی منتخب نمائندے کو وجہ بتائے بغیر معطل کرنے کے اختیار کو ختم کیا جائے کیونکہ اس کے بغیر عوامی نمائندے عوام کی امنگوں اور امیدوں کے مطابق آزادانہ کام نہیں کر سکتے اور جس دن آپ نے اس ماڈل کو منو عن صوبہ پنجاب میں نافذ کر دیا آپ عوام کے حقیقی خادم اعلی بن جائیں گے اور تاریخ آپ کو عوامی امنگوں کا ترجمان اور جمہوری حکمران کے نام سے ہمیشہ یاد رکھے گی۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ