نیلم جہلم منصوبے کا شاندار افتتاح

نیلم جہلم منصوبے کا شاندار افتتاح
نیلم جہلم منصوبے کا شاندار افتتاح

  



ملک میں بجلی کی پیداوار میں اضافے کے لئے موجودہ حکومت نے بہت سے منصوبوں کو مکمل کر لیا ہے، جن میں سے نیلم جہلم پن بجلی منصوبہ اہم ترین ہے۔ جیسے جیسے حکومت کی تکمیل کے دن قریب آ رہے ہیں حکومت کے وعدے پورے ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔

گزشتہ دنوں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے نیلم جہلم پن بجلی منصوبے کا افتتاح کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ماضی کی کوئی حکومت بھی ملک کو 2000 میگاواٹ بجلی بھی نہ دے سکی۔

ہم نے اپنے دور میں 10400میگاواٹ اضافی بجلی دی ہے اور بجلی کی طلب اور رسد کا فرق ختم کر دیا ہے۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ لوڈ شیڈنگ بجلی چوری کرنے والے علاقوں میں ہو رہی ہے، وزیراعظم نے دراصل ان قوتوں کو پیغام دیا ہے جو بجلی بھی چوری کرتی ہیں اور لوڈشیڈنگ پر بھی شور مچا رہی ہیں۔

دراصل ملک میں ایک بڑی تعداد ایسے بجلی چوروں کی ہے جو نہ تو بل دیتے ہیں اور نہ ہی حکومتی اداروں کے ساتھ تعاون کرنے کو تیار ہیں۔ اس لئے حکومت کو ایسے علاقوں میں لوڈشیڈنگ کرنا پڑ رہی ہے، جہاں پر بجلی چوری کی جاتی ہے۔

جہاں تک توانائی بحران حل کرنے کی بات ہے تو موجودہ حکومت نے بہترین کارکردگی دکھائی ہے۔ یہ بات طے ہے کہ پاکستان کے حکمران مخلصانہ کوششوں کے ساتھ ملک کو اندھیروں سے نکالنے کی کوشش کررہے ہیں۔

یہ با ت قابل ذکر ہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے مستقبل کے لئے بھی پلاننگ پر روشنی ڈالی اور کہا کہ بجلی اور پانی کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے اسی دہائی میں 2 نئے ڈیم بنانے ہوں گے، پانی نہیں ہو گا تو مشکل صورت حال پیدا ہو جائے گی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ دنیا بھر میں کام کرنے والوں کی قدر کی جاتی ہے ہمارے ملک میں ایسے سیاسی لیڈر کو سیاست سے نکال دیا جاتا ہے۔

سیاست اور سیاستدانوں کی عزت نہیں ہو گی تو قومی ترقی مشکل ہو جائے گی۔ اصل فیصلہ عوام نے 30جولائی 2018ء سے قبل کرنا ہے، عوام نے کس کو سرآنکھوں پر بٹھانا ہے اس کا فیصلہ ووٹ سے ہو گا۔ کام کرنے والے لیڈروں کی قدر نہ کرنے کا سلسلہ ختم کرنا ہو گا۔

یہ درست ہے کہ موجودہ حکومت کو کئی پیچیدہ مسائل ورثے میں ملے او روہ یہ کہہ کر اپنی جان چھڑا سکتی تھی کہ ورثے میں ملنے والے مسائل حل کرنا مشکل ہے اور اس کے لئے بہت زیادہ وقت درکار ہو گا، تاہم حکومت نے ایسی روش اپنانے کے بجائے کام کرنے کا فیصلہ کیا۔ایک جمہوری حکومت سے عوام کو ایسی ہی توقعات ہوتی ہیں۔نیلم جہلم منصوبہ ایک عرصے سے نامکمل چلا آرہا تھا، لیکن موجودہ حکومت نے اس کا بڑا حصہ مکمل کر دیا ہے۔

یہ منصوبہ 2008ء میں شروع ہوا، 2013ء تک صرف 10 فیصد کام ہوا کسی کو توقع نہیں تھی کہ یہ منصوبہ کیسے مکمل ہو گا،اس کی تکمیل کا اعزاز سابق وزیر اعظم نواز شریف کو جاتا ہے۔ اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام نے مقبوضہ کشمیر کے عوام اور نیلم جہلم پاور منصوبے کے لئے بہت قربانیاں دی ہیں۔یقیناًان کی قربانیوں کو سراہا جانا چاہیے۔

نیلم جہلم پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا بجلی گھر ہے جو مظفر آباد سے42کلو میٹر دور بلند و بالا پہاڑوں کے دامن میں واقع ہے جو ان دونوں دریاؤں کے مشترکہ پانی سے بجلی پیدا کرے گا۔

یہ منصوبہ 1989ء میں منظور ہوا تھا، جس کی تعمیر 2002ء میں شروع کی جانی تھی 6سال زیر التوا رہنے کے بعد 2008 ء میں یہ کام شروع ہوا تاخیر کی ایک وجہ 2005ء کا زلزلہ بھی تھا، جس نے علاقے کا جغرافیہ تبدیل کر کے رکھ دیا،تاہم 2008ء سے 2018ء کے اس عرصہ میں منصوبے کے ڈیزائن کی تبدیلی اور فنڈز کی بر وقت عدم فراہمی کے باعث کام سست روی کا شکار رہا۔ 24دسمبر 2014ء کو کام کے دوران ایک حادثے میں ایک چینی انجینئر سمیت چار کارکن بھی جاں بحق ہوئے ۔

بلاشبہ یہ منصوبہ ملک و قوم کا عظیم سرمایہ ہے۔قدرت کی اس گراں بہادولت سے جو کہ ندی نالوں اور دریاؤں کی صورت میں پاکستان کو ملی ہے، زیادہ سے زیادہ پن بجلی پیدا کرکے قوم کو مہنگے داموں بننے والی بجلی اور لوڈ شیڈنگ سے ہمیشہ کے لئے نجات دلانے کے لئے زیادہ سے زیادہ کام کرنا چاہیے، تاہم خوش آئند بات یہ ہے کہ نیلم جہلم بجلی گھر کو قومی گرڈ سے منسلک کر دیا گیا ہے، جس کا مقصد موسم گرما کے دوران بجلی کی فراہمی میں بہتری کو یقینی بنانا ہے۔

توانائی ڈویژن کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ نوکھر کو روات سے پانچ سو کے وی ترسیلی لائن کے ذریعے کامیابی سے ملا دیا گیا ہے، نیلم جہلم بجلی منصوبے کی نوسوساٹھ میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے۔

اسی طرح پانچ سو کے وی رحیم یار خان اور دو سو بیس کے وی مانسہرہ ترسیلی لائن کو بھی قومی گرڈ سے ملا دیا گیا ہے، جس سے بالترتیب جنوبی پنجاب اور ہزارہ ڈویژن کو بجلی کی بہتر فراہمی میں مدد ملے گی۔

ملک میں جیسے جیسے گرمی کا موسم قریب آ رہا ہے بجلی کی طلب بھی بڑھتی جا رہی ہے، تاہم یہ خوش آئند بات ہے کہ آئے روز ہمیں بجلی کی پیداوار بڑھانے کے منصوبے پایہ تکمیل کو پہنچتے دکھائی دے رہے ہیں۔

عوام کو چاہیے کہ وہ نہ صرف حکومت کی ان کاموں کی پذیرائی کریں، بلکہ اپنے فرائض کا بھی احساس کریں، کیونکہ جب تک عوام اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں نہیں ادا کریں گے مسائل تب تک کم نہیں ہو سکیں گے۔

بجلی چوری کا عمل لوڈشیڈنگ کو بڑھانے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ اسی طرح بجلی کا غیر ضروری ضیاع بھی اجتماعی سطح پر مسئلے کو سنگین بنانے میں کردار ادا کرتا ہے۔

رات کے وقت ایسی اشیاء استعمال نہیں کرنی چاہئیں جو بجلی کی زیادہ کھپت کا باعث بنتی ہوں، اسی طرح گھروں کی ناقص وائرنگ بھی مسائل بڑھانے کا بڑا ذریعہ ہے۔

یہ باتیں بظاہر چھوٹی نظر آتی ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر ملک کے بائیس کروڑ عوام ان چھوٹی چھوٹی باتوں پر عمل کرنا شروع کردیں گے تو پھر ایک دن آئے گا کہ ہمارے تمام مسائل حل ہوجائیں گے۔

عوام اور حکمران اگر مل کر چلیں گے ، ایک دوسرے کے دست بازو بنیں گے تو پھر مسائل کا خاتمہ نہ صرف جلد ہو گا ،بلکہ ملک کو ترقی یافتہ بنانے کا خواب بھی شرمندۂ تعبیر ہو سکے گا۔

ہم بچپن سے لے کر آج تک نیلم جہلم منصوبے کا سنتے آئے ہیں، لیکن اس کا افتتاح ہم نے موجودہ حکومت میں کیا ہے اس لئے جہاں حکمرانوں کے لئے یہ باعث فخر امر ہے کہ انہوں نے قوم کو بجلی کی پیداوار کا خوبصورت تحفہ دیا ہے وہاں عوام کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ بھی اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کا ادراک کریں ۔

مزید : رائے /کالم