پرندوں کے بدلتے گھونسلے کیا کہہ رہے ہیں؟

پرندوں کے بدلتے گھونسلے کیا کہہ رہے ہیں؟
پرندوں کے بدلتے گھونسلے کیا کہہ رہے ہیں؟

  

یہ پہلی بار نہیں ہو رہا،یہ کئی بار ہو چکا ہے۔ میری یاد داشت میں بہت وضاحت سے وہ سارے دن ،اخبار اور خبریں محفوظ ہیں جب پہلی بار یہ ہوتے دیکھا تھا اور یقین نہیں آتا تھا ، اس بے مہر روایت کا نقطہ آغاز اور عروج بھٹو صاحب کے دور کے اختتامی دنوں میں ہوا ،1977ء کے الیکشن ہونے والے تھے اور بھٹو صاحب نے وقت سے پہلے ان کا اعلان کردیا تھا ، یہ زعم تھا اوور ایسٹی میشن یا اپنے سیاسی مخالفین کو دیا گیا سرپرائز،روزانہ سب سے زیادہ اور بڑے تواتر سے چھپنے والی خبریں یہ ہوتی تھیں کہ فلاں سیاسی رہنما اپنے ہزاروں ساتھیوں سمیت پیپلز پارٹی میں شامل ہو گیا ، اس نے قائد عوام پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا ۔

بھٹو صاحب کو نام سے کم ہی بلایا جاتا تھا فخر ایشیا اور قائد عوام ان کے لئے استعمال ہونے والے لاحقے تھے،مجھے وہ اپنی پی کیپ سمیت بہت اچھے لگتے تھے ،عمران خان صاحب بھی کیا بد زبانی کرتے ہوں گے جو بھٹو صاحب کرتے تھے ،مقابلہ کرنے والے اتحاد کا نام پی این اے تھا ،اسے قومی اتحاد کہا جاتا تھا مولانا مفتی محمود اس کے سربراہ تھے [ آج کے مولانا فضل الرحمن کے والد تھے وہ ،اور صوبہ سرحد کے وزیراعلیٰ رہ چکے تھے ان کا ولی خان کی نیشنل عوامی پارٹی سے اتحاد بھی تھا اور انہوں نے بلوچستان کی مینگل حکومت کی برطرفی کے خلاف بطور احتجاج وزارت سے استعفا دے دیا تھا۔ان دنوں جنوبی پنجاب سے پی پی پی میں شامل ہونے والوں کی تعداد بھی خوب تھی، فضا ایسی بن گئی تھی کہ ہر طرف ایک ہی نام تھا ،پھر پیپلز پارٹی نے غلطیاں کرنے کا فیصلہ کیا اور بھٹو صاحب کے مقابل الیکشن لڑنے والے جماعت اسلامی کے مرنجاں مرنج امیدوار مولانا جان محمد عباسی کو اغوا کر لیا گیا،یوں بھٹو صاحب بلامقابلہ ایم این اے بن گئے،یہی کام تین وزرائے اعلیٰ نے کئے اور وہ بھی اپنے قائد کی طرح مقبولیت کے ریکارڈ توڑتے ہوئے بلا مقابلہ منتخب ہو گئے، یہ دھاندلی کا آغاز تھا جو با لآخر دھاندلا بنا اور پورے الیکشن ہی بے معنی ہو گئے ،صوبائی الیکشن تب الگ ہوتے تھے ،وہ اس عالم میں ہوئے کہ پولنگ سٹیشن خالی پڑے تھے، عوام بائیکاٹ کر چکے تھے، پارٹی میں شامل ہونے والے اپنے گھر بیٹھے ووٹر کونہ لا سکے ،اسی شام کو پلاسٹک اور گتے کے ڈبے پی پی پی کے ووٹوں سے بھرے نکلے۔

دلائی کیمپ کی الگ گونج تھی اورملک قاسم جو ایوب دور میں پارلیمانی سیکرٹری رہے تھے ،اپنے جسم اور روح پر لگے گاؤ دکھاتے اور بتاتے ہوے رو دیا کرتے تھے ، جماعت والے ،میاں طفیل محمد صاحب پرجیل میں ہونے والے سلوک کا ڈھکے چھپے ذکر کرتے اور ڈاکٹر نذیر،عبدالصمداچکزئی ،خواجہ رفیق اور راولپنڈی میں نیپ کے جلسے میں سرکاری فائرنگ سے ہلاک ہونے والوں کا ذکر الیکشن مہم کے مقبول موضوعات تھے،بھٹو صاحب کے حق میں لکھنے والا کوئی خال خال ہی ملا کرتا تھا،ایسے میں روز نئے شامل کروائے جانے والے لوگ آج مسلم لیگ سے بھجوائے جانے والوں سے بہت زیادہ تھے، کوئی انہیں ایوب خان کے زمانے میں حکومتی ضروریات کے لئے بنائی جانے والی کنونشن مسلم لیگ کا پھل کہتا، کوئی انہیں مرغ باد نما کا خطاب دیتا،لوٹے کا خطاب بعد کے ادوار کا تحفہ ہے ۔

تزویراتی حکمت عملی طے کرنے والے شہ دماغوں نے سیاسی حرکیات سے کچھ نہ سیکھتے ہوئے وہی حربے دہرانے شروع کئے جو تب بھی پٹے تھے جب وہ انہیں ایجاد کر رہے تھے ،اختیارات اور بادشاہت سے دورعام لوگوں کو صرف ووٹ کا حق ہوتا ہے وہ بھی اسے دینے پر خاص لوگ تیار نہیں ہوتے، مشرقی پاکستان کی علیحدگی اسی ووٹ کی بے عزتی کا شاخسانہ تھا،پانی سر سے گزر گیا اور ہمیں پتا ہی نہ چلا،بہت سے چھاتہ بردار تجزیوں میں ثابت کیا جاتا ہے کہ میاں صاحب کے تابوت میں آخری کیل ٹونکی جا رہی ہے ، کوئی دن جاتے ہیں وہ بھولی بسری کہانی ہوں گے ،یہ ان کے آخری دن ہیں پھر وہ اڈیالہ جیل میں ہوں گے ،دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سارے جملے ایک ہی طرح کے لوگ بول اور لکھ رہے ہیں اگر ایسا ہے تو پھرسیاسی پارٹیوں کی توڑ پھوڑ کا کیا مطلب ؟جنوبی پنجاب کے نام پر مسلم لیگ سے توڑے گئے گروپ کے اکثر لوگوں کو تو شائد اس کی حدود کا بھی علم نہ ہو،یہ بیچارے زبانی چار سطریں نہیں بول سکتے اگر پورے پانچ برس کسی نے ان کو اسمبلی میں بولتے دیکھا ہو توضرور بتایئے گا،ان کی پریس کانفرنس بھی مضحکہ خیز تھی کہ وہاڑی والے ہمارے دوست تو چند ماہ میں تین بار پارٹی چھوڑ چکے ہیں ،ان میں سے کسی نے آج تک پریس کانفرنس نہیں کی پریس ریلیز جاری نہیں کی،وہ بیچارے اس دشت کی سیاحی کے لئے کبھی نکلے ہی نہیں تھے،ایسے میں ایک ہی دن میں پورے صفحے کا اشتہار اخبارات کو جاری بھی کرا دیا گیا،اسی شام تک کسی مہربان نے انہیں سوشل میڈیا پر جنوبی پنجاب کااکاونٹ بھی بنا دیا اور ایک عمدہ سا کلپ بھی بنا کر چلوا دیا ۔

ایک صوبہ چھوڑ کئی صوبے بنایئے،ون یونٹ سے پہلے بھی تو صوبے موجود تھے اس وقت ون یونٹ کی برکات کا درس دیا جاتا تھا اور اس کے خلاف بات کرنے کو گناہ بتایا تھا ، اب آپ سندھ میں صوبے بنانے کو گناہ بتاتے ہیں جہاں ضرورت ہے شہری اور دیہی کا مسئلہ شدید ہے،چونکہ مقامی لاڈلے نہیں چاہ رہے تو وہاں یہ ایشو ہی نہیں ،محرومی کے مارے بلوچستان کو دو تین صوبوں میں بانٹنا انتظامی طور پر بہت آسانیاں دے گا ،کے پی کے میں ہزارہ کا مسلہ تو کئی جانیں بھی لے چکا ہے، چترال صوبے کی بات بھی ہوتی ہے، ہر ہر صوبے میں انتظامی طور پر نئے صوبے بنایئے، مگر یوں نہیں اس کا ایک ہی طریقہ ہے وہ پارلیمنٹ کے اندر ہے باہر نہیں،اس وقت پنجاب کا مقدمہ لڑنے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے ،اسی کے کیوں حصے بخرے کئے جائیں ،اربوں روپے جنوبی پنجاب پر لگے اس قدر خوبصورتی اور عمدگی سے کام کیا گیا کہ انسان حیران رہ جاتا ہے ،سڑکوں ہسپتالوں اور سکولوں کا جال ہے جو چار سُو پھیلا ہے ، یہ جو ڈال سے اڑے ہیں ان کے ہاتھ میں وفا ہی نہیں کام کروانے کی بھی لکیریں کم کم ہیں، سندھ میں کچھ کام نہیں ہوا اسی کو بنیاد بنا کر وہاں دو صوبے پہلے بنا لیں تاکہ کام ہو سکیں ،کوئی وجہ کوئی بنیاد تو ہو ایسے سنجیدہ فیصلے کرنے کی،نواز شریف نہیں جیت رہا،اس کے ووٹ ٹوٹ جائیں گے ،اس کے مزید پرندے اُڑ جائیں گے پھر پی پی پی کے سارے ہارے پرندے خان صاحب کی جھولی میں کیوں ڈال دیئے ہیں کہ خوود اس کی کریڈیبلٹی بھی مشکوک کر دی ہے،دونوں کو میدان میں اپنے اپنے بل بوتے پر لڑنے دیں۔

یوں ایک کو باندھ کر ماریں گے تو جناب روایت یہی ہے کہ الیکشن ہی بے مصرف اور بے وقعت ہو جائیں گے یقین نہیں آتا تو تاریخ سے پوچھ لیں کون سی دور کی بات ہے ،بھٹو کو مار کر اس کی پارٹی کو پچیس سال تک نہیں مار سکے تھے ،ق لیگ بنا کر نون ختم کردی تھی، دس برس بعدجدے سے واپسی ہوئی تو ق کے پاس گنتی کے لئے بھی سیٹ نہیں تھی ،2018ء میں حکمران پارٹی توڑ نے کی چالیس سال پرانی اس لولی لنگڑی حکمت عملی کو اپنا کر اگلے پچیس برس دوبارہ اس کے نام کرنے کا فیصلہ یقیناًسوچ سمجھ کر ہی کیا گیا ہو گا، سندھی بھٹو کو تین دہائیاں دلوں سے نہیں نکالا جا سکا تھا،اب کی بار تو پورا پنجاب اس ہارنے والے لیڈرکے ساتھ کھڑا نظر آ رہا ہے تبھی تو روز پرندوں کے گھونسلے بدلتے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -