جناتی، جنات کے رازداں اور دوست کے قلم سے۔..قسط نمبر33

19 اپریل 2018 (18:48)

شاہد نذیر چودھری

’’ اس کتے کو تو دور کردے‘‘میں نے گنگو سے کہا ،وہ کمینہ ابھی تک سلگتے نظارے سے آنکھیں سینک رہا تھا ۔

’’ گنگو‘‘ میں نے اسے پھر مخاطب کیا تو جھلا کر بولا ’’ یار کچھ سمے رک جا ،دیکھ یہ کرتاکیا ہے ‘‘ 

میں نے اسے ڈانٹا ’’ شرم کر کمینے میں اسکو ایک منٹ بھی برداشت نہیں کرسکتا ،تجھے سنائی نہیں دیا وہ کیا کہہ رہا تھا ‘‘ 

’’ اس کے کہنے پر میں کمرے سے باہر نہیں نکلوں گا ‘‘ گنگو بولا’’ تو اسکو جلدی سے بھگا دے ‘‘ 

ٹیچر زرینہ ہنوز اسکے لمس کو سہہ رہی تھی۔وہ دیکھ رہا تھا کہ میں گنگو کے ساتھ باتیں کررہا ہوں اور وہ خود ہمیں جلانے پر لگا ہوا تھا ۔اسکی آنکھوں میں شرابی مردوں جیسے ڈورے تھے۔

میں نے زیر لب ایک منتر پڑھنا شروع کیا ۔گنگو نے اس دوران تیزی سے کہا’’ تو اپنا کام کر میں ابھی واپس آتا ہوں ‘‘ 

جناتی، جنات کے رازداں اور دوست کے قلم سے۔..قسط نمبر32 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مجھے امید تھی میں خود اکیلا اپنے اس ہم شکل کا مقابلہ کرسکتا تھا ۔جس سمے میں نے منتر کا جاپ شروع کیا میری ناف سے ایک تیز لہر اٹھ کر میرے ماتھے تک پہنچی تو پورے شریر میں کرنٹ سا دوڑ گیا ۔میرا منتر سویکار ہوگیا تھا ۔دوسری بار منتر پڑھتے ہوئے میں نے دیکھا،وہ خبیث ٹیچر زرینہ کے سینے پر یوں جھک کر سانسیں کھینچ رہا تھا جیسے نشہ باز ہتھیلی سے نشہ کھینچتا ہے،حسن کی خوشبو اور گرمی سے وہ اپنا لطف اٹھا رہا تھا ۔

بیڈ مجھ سے سات آٹھ فٹ دورتھا ۔میں نے اسکی فراموشی و مدہوشی کا فائدہ اٹھا کر قدم اٹھایا تویکایک اس نے سر اٹھایا اور خونخوار نظروں سے میری جانب دیکھ کر کسی درندے کی طرح غرایا ۔اس بار اسکے چہرے میں چھپے ہوئے اصلی خناس کا چہرہ میرے سامنے تھا ۔وہ جھلسے ہوئے چہرے والا انتہائی کریہہ الشکل درندہ تھا ۔مجھے سمجھ آگئی کہ یہ کوئی خبیث ہے جس نے میرا روپ دھار کر ٹیچر زرینہ کو گمراہ کیا ہے ۔لیکن سوال یہ تھا کہ اس نے میرا روپ کیوں بھرا ؟ وہ کسی اور شکل میں بھی تو آسکتا تھا ۔اس کا میرے ساتھ کیا تعلق ہے؟ یہ کون ہے ؟ 

’’رک جا ،پاؤں اٹھایا تو جلا دوں گا ‘‘ اس نے قاہرانہ انداز میں دانت کچیچتے ہوئے کہا 

میں نے اسکی پرواہ نہیں کی اور جو منترزیر لب پڑھ رہا تھا،یکایک اونچے شبدوں میں پڑھنے لگا ۔ میری یہ حرکت اسے ناگوار لگی اور سر کو زور دار جھٹکا مارکراپنی اصلیت میں آگیا ۔اسکے چہرے سے میرا چہرہ دھجیوں میں اڑگیا ۔میری توقع سے زیادہ ہی وہ کریہہ اور بدبودارتھا ۔اس نے اپنا استخوانی نوکیلا ہاتھ ٹیچر زرینہ کی گردن پر رکھا ،غرایا’’ تو چاہتا ہے اسکا گلا دبا دوں ‘‘

’’ تیری جرات کیسے ہوئی کہ میری ٹیچر پر قبضہ کرکے اسکا بلیدان کرتا ‘‘ میں نے اسکی دھمکی کی پرواہ نہیں کی۔اور آگے بڑھا ۔

اس نے میرے تیور دیکھ لئے اور یکایک ا سنے ٹیچر زرینہ کی گردن چھوڑی اور بیڈ سے نیچے اتر آیا ۔

’’ کیا پدی کیا پدی کا شوربہ‘‘ اس نے میرے سامنے آکر سینہ تانا ،وہ قد میں مجھ سے دوگنا ہوا پھر اسکا سر چھت کو چھونے لگا ۔میں واقعی اسکے سامنے پدی لگنے لگ پڑا تھا ۔

اب منظر کچھ یوں بن رہا تھا ،میں سر اٹھا کر اسکے منہ کی طرف دیکھنے کی کوشش کررہا تھا مگر اسکا سر چھت کے ساتھ اس انداز میں چپک کر ٹکا ہوا تھاکہ سمجھ نہ سکا وہ مجھے کہاں سے دیکھ رہا ہے ۔لامحالہ مجھے چند قدم پیچھے ہٹ کر خود کو اسکے مقابل کھڑا کرنا تھا ۔اس لمحہ اس نے جوش غضب سے اپنا ہاتھ میرے سر پر رکھا ۔اس کا ہاتھ اتنا بڑا تھا کہ میرا سر اسکی ہتھیلی میں اور انگلیوں کے حصار میں آگیا ۔اس نے ہاتھ کو رینچ کی طرح دبایا تو اسکی انگلیاں میرے کان جبڑے اور ہونٹوں کو پچکانے لگیں ،اس وقت یہ اچھا ہوا کہ میں دوسرا منترپڑھ چکا تھا ورنہ وہ میرے منہ کو مسل کر رکھ دیتا ۔میں نے تلملا کر اس پر پھونک ماری تو سب سے پہلے میرے عمل کی اگنی کا طلسم اسکے ہاتھوں سے یوں ٹکرایا جیسے پیٹرول آگ پر چھڑک دیا جائے تو یکدم آگ کا شعلہ اٹھتا ہے۔اس نے کراہ کر اپنا ہاتھ پرے ہٹایا لیکن میرا سر منہ پوری طرح نچڑ گیا تھا،ہڈیاں جھنجھنا گئیں۔ میں نے اسی تکلیف میں منتر پھر پڑا اور اس بار جب اس پر پھونکا تو وہ ڈکراتے ہوئے موم کی طرح پگل کر سکڑنے لگا اور آناً فاناً میرے سامنے پدی کی طرح فرش پر تڑپنے لگا ۔

اس کی دلدوز آواز سنائی دی ’’ مجھے معاف کردو بابر حسین ،مجھے نہ مارنا ۔میں چلا جاتا ہوں ‘‘ 

یہ سن کر مجھے اندازہ ہوگیا کہ وہ کوئی عامل جنّ نہیں تھا،معمول کی خبیث روح تھی جو روحانی طور پر کمزور انسانوں پر شیطانی حملے کرکے انہیں اپنا اسیر بناتی ہے ۔لیکن میں اسے معاف نہیں کرسکتا تھا ۔میں نے پھر عمل پڑھا اور اس سے قبل کہ اس پر پھونکتا، وہ میرے قدموں سے لپٹ گیا’’ میرا تیرا غلام بن کر رہوں گا ‘‘

اس دوران میرے کانوں میں گنگو کی آواز آئی ۔’’ معاف کردے اسکو ۔ اسکو مارے گا تو اسکا کوئی یار بیلی اسکا بدلہ لینے آجائے گا ‘‘

’’کون ہے تو اور میرا سونگ کیوں رچایا‘‘

’’ میرا نام موہن داس ہے ۔میں اسکو اس وقت سے چاہ رہا ہوں جب اس نے جوانی کی پہلی سیڑھی پر پاوں رکھا تھا ‘‘ اس نے پھر اپنی خباثت بھری کتھا سنائی ۔

میں نے اس کو معاف کردیا اور پھر اسکو اگنی منتر سے نجات دلائی ۔ موہن اسی گھر کا باسی تھا ۔ٹیچر زرینہ کے کمرے باہر بنی کیاریوں میں رہتا تھا ۔گندہ اور پلید تھا ،اس کیاری کی جانب باتھ روم کا روشن دان تھا ۔یہ اکثر اس پر بیٹھا رہتا اور جتن کیا کرتا تھا کہ کسی طرح ٹیچر زرینہ پر قبضہ کرلے لیکن ان دنوں ٹیچر زرینہ کے معمول انتہائی پاکیزہ تھے۔وہ رات کو آیت الکرسی پڑھ کر سویا کرتی تھی ۔نماز بھی پڑھتی تھی جس کی وجہ سے ٹیچر زرینہ اسکے سحر میں نہیں آتی تھی۔پھر جب میں اسکی زندگی میں آیا تو ٹیچر زرینہ کا اندر باہر میلا ہوگیا ۔اس خبیث کی بن آئی اور جب ٹیچر زرینہ پلیدی کی حالت میں تھی اس نے میرا روپ دھار کر اسکا التفات حاصل کرلیا ۔

پہلی بار یہ رات گئے ٹیچر زرینہ کے گھر پہنچاتو اسکی والدہ اور خود ٹیچر زرینہ پریشان ہوگئی تھیں کہ وہ کیوں آیا ہے۔اس نے بہانہ کیا کہ میری والدہ دوسرے شہر چلی گئی ہیں اور والد بھی گھر نہیں ،اسے اکیلے ڈر لگتا تھا اس لئے وہ چلا آیا۔ٹیچر زرینہ کی والدہ تو اپنے کمرے میں چلی گئیں اور ٹیچر زرینہ نے اسے پاس کمرے میں سلالیا ۔وہ پہلی رات تھی جس نے ٹیچر زرینہ کو اس کا گرویدہ کردیا اور پھر یہ روزانہ انکے گھر آنے لگا ۔

ایک رات ٹیچر زرینہ کی والدہ نے اسکے شرمناک روپ کو دیکھ لیا تو بیٹی پر بڑی خفا ہوئی۔چند دنوں میں ہی ٹیچر زرینہ میں انہیں دیوانگی اور بے قراری سی نظر آنے لگی تو انہیں سب سمجھ میں آگیا ۔وہ اس پر خفا ہوئیں ،ناراضی کا اظہار کیا ،پولیس کی دھمکیاں دیں لیکن ٹیچر زرینہ کی شہہ نے موہن کو شیر بنادیا ۔وہ ان کے سامنے بے شرمی کی حدیں توڑ دیتا ۔ٹیچر زرینہ نے سکول بھی جانا چھوڑ دیا تھا اور یہ بھی سکول نہیں جاتا تھا ،خیر اس نے جانا کہاں تھا ۔یہ سب ایک ڈھونگ تھا ۔چند دنوں میں اس نے ٹیچر کے بدن کی رعنائی چاٹ لی،اسکے چہرے پر پیلاہٹ اور آنکھوں کے گرد سیاہ ہالے پڑگئے تھے۔ 

اس نے جس طرح میری ٹیچر زرینہ کو پائمال کیا تھا ،اسے چھوڑنا اچھی بات نہیں تھی ۔میں نے اسکو اپنا غلام تو بنالیا تھا لیکن اب ایک مرحلہ ایسا تھا کہ آئیندہ کے لئے سارے حالات معمول پر آجاتے۔ٹیچر زرینہ کی والدہ پر اسکا وجود ثابت کرنا ضروری تھا ۔اسکا نتیجہ خوفناک بھی ہوسکتا تھا مگر گنگو نے اچھا مشورہ دیا ۔’’ٹیچر کی ماں کو اصلیت نہیں بتاوگے تو پھر کیسے اسکا اعتماد حاصل کروگے‘‘

میں سوچ میں پڑگیااور پھر میں نے موہن سے کہا’’ تم پھر سے میری شکل میں اس بیڈ پر بیٹھ جاو ‘‘ میں نے اسکی وجہ اسے بتائی تو اس نے میری ہدایت پر عمل کیا ۔میں نے باہر نکل کر ٹیچر زرینہ کی والدہ کو اندر بلانا چاہا تو وہ ڈری سہمی ہوئی اندر آئیں تو سامنے بیڈ پر موہن کو میری شکل میں دیکھ کر خوف سے چیخ اٹھیں اور دوسرے ہی لمحے بے ہوش کر گر گئیں ۔ 

(جاری ہے)

مزیدخبریں