اسد عمر کو اچانک وزات خزانہ کیوں چھووڑنا پڑی؟

اسد عمر کو اچانک وزات خزانہ کیوں چھووڑنا پڑی؟
اسد عمر کو اچانک وزات خزانہ کیوں چھووڑنا پڑی؟

  

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

جنرل ایوب خان نے مارشل لاء لگایا تو اس سے متاثر ہونے والے وزیراعظم، فیروز خان نون کو ایک خط لکھا جس میں انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ انہیں افسوس ہے کہ انہیں آپ جیسے ذی وقار سیاستدان کے دور میں مارشل لاء لگانا پڑا۔ معلوم نہیں وزیراعظم عمران خان نے جب اسد عمر سے استعفا مانگا تو ان کے تاثرات کیا تھے، اور انہوں نے اسد عمر کی خدمات کو کس انداز میں سراہا، کیونکہ اسد عمر وہ تھے جو کارپوریٹ سیکٹر کی ایک اعلیٰ نوکری چھوڑ کر سات برس پہلے ان کی جماعت میں داخل ہوئے تھے اور جب عمران خان کہتے تھے کہ ان کے پاس دوسو افراد کی ایک ایسی ٹیم ہے جو حکومت سنبھالتے ہی ان کے ساتھ آملے گی اور ملک کے دلدر دور کردے گی تو ان کے ذہن میں اسد عمر جیسے لوگ ہی ہوں گے۔ دوسرے کون سے لوگ اس وقت وزیراعظم کے خوابوں کے محل تعمیر کرنے میں ان کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ ان کے بارے میں تو علم نہیں لیکن اسد عمر نے تو آٹھ ماہ ہی میں سیاست کا مزہ اچھی طرح چکھ لیا اور ایسے انداز میں وزارت سے رخصت ہوئے جس طرح غالب کوچہء محبوب سے نکلے تھے۔ انہوں نے تو اس طرح کی رخصتی کو اپنے لئے بے آبروئی قرار دیا تھا معلوم نہیں اسد عمر اسے کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ تحریک انصاف بھی تو ان کی پہلی محبت تھی۔

کئی ہفتوں سے خبریں آرہی تھیں کہ اسد عمر کو وزارت سے نکالا جا رہا ہے، دبی دبی زبان میں جہانگیر ترین بھی کہہ چکے تھے کہ اسد عمر فیصلوں میں تاخیر کر رہے ہیں، لیکن جب بھی یہ خبر آئی کہ اسد عمر کو فارغ کیا جا رہا ہے تو حکومت کی جانب سے وزیراطلاعات نے بھر پور تردید کردی، حال ہی میں ایک سینئر اینکر نے جو پنجاب کے وزیراعلیٰ بھی رہ چکے ہیں بڑے یقین سے کہا تھا کہ دو وفاقی وزراء رخصت ہونے والے ہیں تو بھی فواد چودھری نے کہا تھا کہ کسی وزیر سے استعفا نہیں لیا جا رہا ہے، حالانکہ آج ان کی اپنی وزارت تبدیل ہوگئی، پتہ نہیں انہیں تبدیلی کا بھی علم تھا کہ نہیں، لیکن ایک ہی دن میں اسد عمر سے استعفے کی طلبی اور غلام سرور خان کی وزارت کی تبدیلی اہمیت کی حامل ہے۔ چلئے موخر الذکر تو کئی سیاسی جماعتوں سے ہوتے ہواتے تحریک انصاف کو پیارے ہوئے تھے اور ابھی دو روز قبل ہی انہوں نے کہا تھا کہ اگر ان سے وزارت واپس لی گئی تو ان کا تحریک انصاف میں رہنے کا کوئی جواز نہیں رہے گا۔ غالباً اسی لئے ان کی وزارت تبدیل کی گئی، ورنہ وہ بھی علیحدہ کر دیئے جاتے۔ انہوں نے چودھری نثار علی خان کو قومی اسمبلی کی نشست پر ہرایا تھا جو آج تک اپنی ہار نہیں مان رہے اور یہ سوا ل بار بار اٹھا رہے ہیں کہ جب انہیں صوبائی اسمبلی میں اتنے زیادہ ووٹوں کی لیڈ مل گئی تو قومی اسمبلی میں ان کی شکست کیسے ہوگئی، ان کا خیال ہے کہ گنتی میں گڑ بڑ کی گئی۔ اگرچہ یہ شکایت اور بھی بہت سے لوگوں کو ہے کیونکہ گنتی کے وقت بہت سے پولنگ سٹیشنوں پر امیدواروں کے نمائندے موجود نہیں تھے اور انہیں نکال دیا گیا تھا جو نکلنے میں پس و پیش کر رہے تھے۔ انہیں بھی بالآخر نکلنا پڑا، اب اتنے بڑے امیدوار کو ہرانے والے غلام سرور خان کی وزارت کی تبدیلی بھی معنی خیز ہے۔

آج کا دن ویسے تو اسد عمر کا دن ہے جو وزیراعظم عمران خان کے نہ صرف بہت قریب رہے بلکہ ان کے بارے میں گمان تھا کہ وہ پوری کابینہ میں سب سے لائق فائق وزیر ہیں۔ ان کی ایک خوبی (یا خرابی) یہ بھی تھی کہ انہوں نے ابھی گھاٹ گھاٹ کا پانی نہیں پیا تھا، پہلی مرتبہ تحریک انصاف میں آئے اور اسی کے ہوکر رہ گئے۔ پارٹی میں تو سات سال سے تھے لیکن وزارت میں انہیں سات ماہ بھی گوارا نہ کیا گیا، کیونکہ ان کو ہٹانے کی خبریں تو کئی ماہ سے آرہی تھیں لیکن ساتھ ہی ساتھ تردیدیں بھی آجاتیں۔

جمعرات کو انہوں خود ٹویٹ کیا کہ وزیراعظم نے کہا ہے کہ وہ خزانے کی وزارت چھوڑ کر انرجی کی وزارت لے لیں، لیکن انہوں نے وزارت خزانہ سے علیحدگی کے بعد کوئی نئی ذمے داری لینے سے انکار کردیا ہے۔ بدھ کے روز جب وہ ایک سینئر اینکر کے ساتھ انٹرویو میں اپنی معاشی پالیسیوں اور اپنی حکومت کا بڑی گرمجوشی اور دھواں دھار طریقے سے دفاع کر رہے تھے تو کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ حکومت کا ایسا پرجوش وکیل 24گھنٹے سے بھی کم وقت میں وزارت چھوڑ جائے گا۔ ان کے انداز تکلم سے بھی نہیں لگتا تھا کہ ان کا کوئی ایسا ارادہ ہے، اگر کوئی ایسا تھا بھی تو انہوں نے اپنی گفتگو کے انداز سے، اس کا اظہار نہیں ہونے دیا۔ سوال یہ ہے کہ اسد عمر کو وزارت خزانہ سے ہٹانے کی وجہ سیاسی ہے یا ان کی پالیسیوں کی ناکامی کا اس میں عمل دخل ہے، اگر انہیں ’’ناکام وزیر‘‘ قرار دیا گیا ہے تو پھر انرجی کی وزارت کی پیشکش کیوں کی گئی، کیونکہ اگر وہ خزانے کی وزارت میں کوئی جوہر نہیں دکھا سکے تو انرجی میں کس طرح کامیاب ہوتے، لیکن شاید ان کے کارپوریٹ تجربے کے پیش نظر ایسی پیشکش کی گئی ہو۔ انہوں نے نئی وزارت قبول نہیں کی اور وقار کے ساتھ رخصتی کو پسند کیا۔ اب تحریک انصاف کے اندر ان کا مقام کیا ہوگا اس کا ابھی اندازہ نہیں، لیکن اتنا ضرور ہے کہ تبدیلیوں کا عمل کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ بھی ہوسکتا ہے۔

وزارت کیوں چھوڑنا پڑی

مزید : تجزیہ